الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. باب من لم يدرك عرفة
باب: جسے عرفات کا وقوف نہ مل سکے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1950
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْقِفِ، يَعْنِي بِجَمْعٍ، قُلْتُ: جِئْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَأَتَى عَرَفَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ".
عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ موقف یعنی مزدلفہ میں تھے، میں نے عرض کیا: میں طی کے پہاڑوں سے آ رہا ہوں، میں نے اپنی اونٹنی کو تھکا مارا، اور خود کو بھی تھکا دیا، اللہ کی قسم راستے میں کوئی ایسا ٹیکرہ نہیں آیا جس پر میں ٹھہرا نہ ہوں، تو میرا حج درست ہوا یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ اس نماز کو پا لے اور اس سے پہلے رات یا دن کو عرفات میں ٹھہر چکا ہو تو اس کا حج پورا ۱؎ ہو گیا، اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 57 (891)، سنن النسائی/الحج 211 (3042، 3043، 3044)، سنن ابن ماجہ/المناسک 57 (3016)، (تحفة الأشراف:9900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/15، 261، 262)، سنن الدارمی/المناسک 54 (1930) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ عرفات میں ٹھہرنا ضروری ہے اور اس کا وقت (۹) ذی الحجہ کو سورج ڈھلنے سے لے کر دسویں تاریخ کے طلوع فجر تک ہے، ان دونوں وقتوں کے بیچ اگر تھوڑی دیر کے لئے بھی عرفات میں وقوف مل جائے تو اس کا حج ادا ہو جائے گا۔
۲؎: نسائی کی ایک روایت میں ہے «فقد قضى تفثه وتم حجه» ، یعنی حالت احرام میں پراگندہ رہنے کی مدت اس نے پوری کر لی، اب وہ اپنا سارا میل کچیل جو چھوڑ رکھا تھا دور کر سکتا ہے۔
۲؎: نسائی کی ایک روایت میں ہے «فقد قضى تفثه وتم حجه» ، یعنی حالت احرام میں پراگندہ رہنے کی مدت اس نے پوری کر لی، اب وہ اپنا سارا میل کچیل جو چھوڑ رکھا تھا دور کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عروة بن مضرس الطائي | صحابي | |
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو عامر الشعبي ← عروة بن مضرس الطائي | ثقة | |
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله إسماعيل بن أبي خالد البجلي ← عامر الشعبي | ثقة ثبت | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1950
| من أدرك معنا هذه الصلاة وأتى عرفات قبل ذلك ليلا أو نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه |
سنن ابن ماجه |
3016
| من شهد معنا الصلاة وأفاض من عرفات ليلا أو نهارا فقد قضى تفثه وتم حجه |
المعجم الصغير للطبراني |
436
| من صلى معنا هذه الصلاة وقد أتى عرفة ليلا أو نهارا فقد قضى تفثه وتم حجه |
سنن النسائى الصغرى |
3044
| من صلى هذه الصلاة معنا وقد وقف قبل ذلك بعرفة ليلا أو نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه |
سنن النسائى الصغرى |
3045
| من صلى هذه الصلاة معنا ووقف هذا الموقف حتى يفيض وأفاض قبل ذلك من عرفات ليلا أو نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه |
سنن النسائى الصغرى |
3046
| من صلى صلاة الغداة ها هنا معنا وقد أتى عرفة قبل ذلك فقد قضى تفثه وتم حجه |
بلوغ المرام |
624
| من شهد صلاتنا هذه يعني بالمزدلفة فوقف معنا حتى ندفع وقد وقف بعرفة قبل ذلك ليلا او نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه |
مسندالحميدي |
924
| من شهد معنا هذه الصلاة وقد كان وقف بعرفة قبل ذلك ليلا أو نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه |
عامر الشعبي ← عروة بن مضرس الطائي