🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. باب أى يوم يخطب بمنى
باب: منیٰ میں خطبہ کس دن ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1953
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُصَيْنٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ وَكَانَتْ رَبَّةُ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الرُّءُوسِ، فَقَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَلَيْسَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؟". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ عَمُّ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ:" إِنَّهُ خَطَبَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ".
ربیعہ بن عبدالرحمٰن بن حصین کہتے ہیں مجھ سے میری دادی سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور وہ جاہلیت میں گھر کی مالکہ تھیں (جس میں اصنام ہوتے تھے)، وہ کہتی ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الروس ۱؎ (ایام تشریق کے دوسرے دن بارہویں ذی الحجہ) کو خطاب کیا اور پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟، ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو دواد، (تحفة الأشراف: 15891) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ربیع لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: بارہویں ذی الحجہ کو یوم الرؤوس کہا جاتا تھا کیونکہ لوگ اپنی قربانی کے جانوروں کے سر اسی دن کھاتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (2973 وسنده حسن) ربيعة بن عبد الرحمن بن حصن وثقه ابن خزيمة وابن حبان فھو حسن الحديث

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥السراء بنت نبهان الغنويةصحابي
👤←👥ربيعة بن عبد الرحمن الغنوي
Newربيعة بن عبد الرحمن الغنوي ← السراء بنت نبهان الغنوية
مقبول
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← ربيعة بن عبد الرحمن الغنوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← الضحاك بن مخلد النبيل
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1953
خطبنا رسول الله يوم الرءوس فقال أي يوم هذا قلنا الله ورسوله أعلم قال أليس أوسط أيام التشريق
بلوغ المرام
638
اليس هذا اوسط ايام التشريق؟
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1953 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1953
1953. اردو حاشیہ:
➊ عید الاضحی ٰ (دس ذوالحجہ) کے بعد تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں۔ تشریق کے معنی ہیں، گوشت کے ٹکڑے کر کے دھوپ میں خشک کرنا۔ پہلا دن یوم القراء (نمعنی قرار) اور دوسرا دن یوم لرؤوس کہلاتا ہے۔ یعنی سریوں والا دن کہ وہ قربانیوں کی سریاں پکا کر کھاتے تھے۔ اور تیسرے دن کو یو م النفر (ورانگی کا دن) کہتے ہیں۔
➋ اس موقع پر امام حج کے لیے خطبہ دینا مستحب ہے جیسے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ حسب موقع اہم اہم مسائل کی تذکیر کی جانی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1953]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 638
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
سیدہ سراء بنت نبھان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سروں والے دن خطاب فرمایا اور فرمایا کیا یہ دن ایام تشریق کا درمیانہ دن نہیں ہے؟ اور ساری حدیث ذکر کی۔ اسے ابوداؤد نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 638]
638لغوی تشریح:
«يوم الرءُوس» اس میں سب کا اتفاق ہے کہ «يوم الرووس» سے ذوالحجہ کی گیارہ تاریخ مراد ہے۔ اس کا نام یوم الرووس اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس روز کثرت سے قربانی کی جانوروں کے سر ا کٹھے ہو جاتے ہیں۔
«اوسط ايام التشريق» سبل السلام میں ہے کہ «اوسط» کی لفظ میں دو احتمال ہیں: ہو سکتا ہے کہ اوسط بمعنی افضل ہو اور یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ یہ چونکہ طرفین (دس ذوالحجہ اور بارہ ذوالحجہ) کے درمیان میں واقع ہے، اس لئے یہ اوسط ہے اور اس قول کے مطابق یوم النحر ایام تشریق میں شامل ہے، مگر تقریباً تمام علماء کی رائے یہ ہے کہ ایام تشریق سے مراد قربانی کے دن کو چھوڑ کر تین دن ہیں، کیونکہ وہاں لوگ ان تین ایام میں قربانی کے گوشت کو خشک کرنے کے لیے دھوپ میں رکھتے تھے اور گوشت خشک کرنے کے لیے دھوپ میں رکھنے کو عربی زبان میں تشریق کہتے ہیں، اس لیے ان ایام کا نام ایام تشریق ہے۔

راوئ حدیث:
حضرت سراء بنت نبہاں رضی اللہ عنہا، «سراء» ‏‏‏‏ کے سین پر فتحہ را پر فتحہ و تشدید اور آخر میں الف ممدودہ ہے۔ «نبهان» کے نون پر فتحہ اور فا ساکن ہے۔ قبیلہ غنو سے تھیں۔ ربیعہ عبدالرحمٰن نے ان سے روایت بیان کی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 638]