🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. باب في رمى الجمار
باب: رمی جمرات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1976
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ ابْنَيْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا".
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ناغہ کریں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5030) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1975)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عاصم بن عدي العجلاني، أبو عبد الله، أبو عمرو، أبو عمرصحابي
👤←👥عدي بن عاصم العجلاني، أبو عمرو
Newعدي بن عاصم العجلاني ← عاصم بن عدي العجلاني
ثقة
👤←👥أبو بكر بن عمرو الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newأبو بكر بن عمرو الأنصاري ← عدي بن عاصم العجلاني
ثقة
👤←👥محمد بن أبي بكر الأنصاري، أبو عبد الملك
Newمحمد بن أبي بكر الأنصاري ← أبو بكر بن عمرو الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي بكر الأنصاري ← محمد بن أبي بكر الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن أبي بكر الأنصاري
ثقة حافظ حجة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3070
رخص للرعاة أن يرموا يوما ويدعوا يوما
سنن النسائى الصغرى
3071
رخص للرعاة في البيتوتة يرمون يوم النحر واليومين اللذين بعده يجمعونهما في أحدهما
جامع الترمذي
954
أرخص للرعاء أن يرموا يوما ويدعوا يوما
سنن أبي داود
1975
رخص لرعاء الإبل في البيتوتة يرمون يوم النحر ثم يرمون الغد ومن بعد الغد بيومين ويرمون يوم النفر
سنن أبي داود
1976
رخص للرعاء أن يرموا يوما ويدعوا يوما
سنن ابن ماجه
3037
رخص رسول الله لرعاء الإبل في البيتوتة أن يرموا يوم النحر ثم يجمعوا رمي يومين بعد النحر فيرمونه في أحدهما
سنن ابن ماجه
3036
رخص للرعاء أن يرموا يوما ويدعوا يوما
بلوغ المرام
636
ارخص لرعاة الإبل في البيتوته عن منى يرمون يوم النحر،‏‏‏‏ ثم يرمون الغد ومن بعد الغد ليومين
مسندالحميدي
877
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص للرعاء أن يرموا ويدعوا يوما
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1976 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1976
1976. اردو حاشیہ: ابو البداح کےوالد کانام عاصم اور دادا کا نام عدی ہے۔ اس سند میں اس کو دادا کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1976]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 636
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو منی سے باہر رات گزارنے کی اجازت دے دی کہ قربانی کے دن کنکریاں ماریں پھر دوسرے اور تیسرے دو روز بھی کنکریاں ماریں پھر کوچ کے سنگریزے ماریں۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 636]
636لغوی تشریح: «ارحص» اور ایک نسخے میں «رحص» ہے۔ دونوں کے معنی ایک ہیں، یعنی رخصت و اجازت دے دی۔
«رعاة» را پر ضمہ کے ساتھ، «راع» کی جمع ہے۔ چرواہے۔
«في البيتوتة» «البيتوتة» بات کا مصدر ہے۔ رات گزارنا۔ رات گزارنے سے مراد منیٰ میں راتوں کو گزارنا ہے۔ جس کی تفصیل گزشتہ حدیث کی شرح میں گزر چکی ہے۔
«عن مني» «عن» یہاں بعد اور دوری کے لیے ہے اور «غائبين» محذوف کے متعلق ہو گا، یعنی منیٰ سے باہر، اس سے دور رہتے ہوئے، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اونٹوں کی دیکھ بھال کے لیے منیٰ سے دوران کی حفاظت و حراست کے لیے منیٰ میں رات نہ گزارنے کی اجازت دے دی۔
«ثم يرمون الغد و من بعد الغد ليومين» وہ یوم نحر سے اگلے دن، یعنی گیارہ اور بارہ کی کنکریاں بارہ ذوالحجہ کو مارتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ دو دن کی رمی کو جمع کرتے تھے۔
«‏‏‏‏ثم ير مون يوم النفر» «نفر» سے مراد منیٰ سے واپسی کا دن، یعنی تیرہویں تاریخ ہے جسے یوم النفر الثانی بھی کہتے ہیں۔

فائدہ:
یہ حدیث دلیل ہے کہ حاجیوں کے لیے منیٰ میں رات بسر کرنا واجب ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ رخصت و اجازت واجب ہی کی صورت میں کسی کو دی جاتی ہے ورنہ اگر واجب نہ ہو تو اجازت کی ضرورت ہی نہیں۔

راوئ حدیث:
حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ، ان کی کنیت ابوعبید اللہ یا ابوعمرو ہے۔ بنو عبید بن زید کے حلیف تھے۔ بنو عبید کا تعلق انصار کے قبیلے بنو عمرو بن عوف تھا۔ غزوہ بدر اور بعد کے غزوات میں حاضر رہے۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ بدر کے روز یہ قبائل عالیہ پر امیر تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا۔ 45 ہجری میں فوت ہوئے۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ جنگ یمامہ کے روز شہیدہوئے۔ اس وقت ان کی عمر 120 برس تھی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 636]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3070
چرواہوں کی رمی کا بیان۔
ابوالبداح بن عاصم کے والد عاصم بن عدی بن جدا القضاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن رمی کرنے کی رخصت دی ہے، (اس لیے کہ وہ اونٹوں کو ادھر ادھر چرانے لے جانے کی وجہ سے ہر روز منیٰ نہیں پہنچ سکتے تھے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3070]
اردو حاشہ:
چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اس دن کی رمی اگلے دن کریں، مثلاً: 10 تاریخ کو رمی کرنے کے بعد وہ چلے جائیں، پھر چاہیں تو گیارہ تاریخ کو دو دن کی رمی اکٹھی کر لیں۔ چاہیں تو 11 تاریخ کو نہ آئیں، 12 تاریخ کو دو دن کی رمی اکٹھی کر لیں۔ گویا ان کے لیے منیٰ میں رات گزارنا بھی ضروری نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3070]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3037
عذر کی بناء پر کنکریاں مارنے میں دیر کرنے کا بیان۔
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو رخصت دی کہ وہ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو رمی کر لیں، پھر یوم النحر کے بعد کے دو دنوں کی رمی ایک ساتھ جمع کر لیں، خواہ گیارہویں، بارہویں دونوں کی رمی بارہویں کو کریں، یا گیارہویں کو بارہویں کی بھی رمی کر لیں ۱؎۔ مالک بن انس کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: پہلے دن رمی کریں پھر جس دن کوچ کرنے لگیں اس دن کر لیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3037]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ذوالحجہ کی گیارہ بارہ تیرہ تاریخ کو ایام تشریق کہتے ہیں۔
ان تین دنوں میں حاجی صرف جمرات میں رمی کرتے ہیں۔
اور جس نے دس تاریخ کو قربانی نہ کی ہو وہ ان دنوں میں قربانی کرسکتا ہے۔

(2)
عذر کی وجہ سے دو دن کی رمی ایک دن کرنا جائز ہے۔
خواہ گیارہ تاریخ کو گیارہ اور بارہ کی رمی کرلی جائے پھر اس کے بعد تیرہ تاریخ کو رمی کی جائے خواہ بارہ تاریخ کو گیارہ اور بارہ کی رمی کرکے پھر اگلے دن رمی کر لی جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3037]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 954
چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن جمرات کی رمی کرنے کی رخصت ہے۔
عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 954]
اردو حاشہ: 1؎:
یعنی چرواہوں کے لیے جائزہے کہ وہ ایّام تشریق کے پہلے دن گیارہویں کی رمی کریں پھروہ اپنے اونٹوں کو چرانے چلے جائیں پھرتیسرے دن یعنی تیرہویں کو دوسرے اورتیسرے یعنی بارہویں اورتیرہویں دونوں دنوں کی رمی کریں،
اس کی دوسری تفسیریہ ہے کہ وہ یوم النحرکوجمرئہ عقبہ کی رمی کریں پھراس کے بعدوالے دن گیارہویں اوربارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں اورپھرروانگی کے دن تیرہویں کی رمی کریں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 954]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:877
877- ابوبداح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جانوروں کے) چروا ہوں کویہ اجازت دی تھی کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:877]
فائدہ:
ابوالبداح کے والد کا نام عاصم اور دادا کا نام عد ہے اس سند میں اس کو دادا کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 876]