🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. باب المهلة بالعمرة تحيض فيدركها الحج فتنقض عمرتها وتهل بالحج هل تقضي عمرتها ؟
باب: عمرے کے احرام میں عورت کو حیض آ جائے پھر حج کا وقت آ جائے تو وہ عمرے کو چھوڑ کر حج کا تلبیہ پکارے، کیا اس پر عمرے کی قضاء لازم ہو گی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1996
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُزَاحِمِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسِيدٍ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِعْرَانَةِ فَجَاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَكَعَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَحْرَمَ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ فَاسْتَقْبَلَ بَطْنَ سَرِفَ حَتَّى لَقِيَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ فَأَصْبَحَ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ".
محرش کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں داخل ہوئے تو مسجد آئے اور وہاں اللہ نے جتنی چاہا نماز پڑھی، پھر احرام باندھا، پھر اپنی سواری پر جم کر بیٹھ گئے اور وادی سرف کی طرف بڑھے یہاں تک کہ مدینہ کے راستہ سے جا ملے، پھر آپ نے صبح مکہ میں اس طرح کی جیسے کوئی رات کو مکہ میں رہا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحج 92 (935)، سنن النسائی/الحج 104 (2866، 2867)، (تحفة الأشراف: 11220)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 427، 4/69، 5/380) سنن الدارمی/المناسک 41 (1903) (صحیح) دون رکوعہ في المسجد، فإنہ منکر» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح دون ركوعه في المسجد فإنه منكر
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (935 وسنده صحيح) مزاحم بن أبي مزاحم وثقه ابن حبان والذهبي في الكاشف والترمذي بتحسين حديثه فھو حسن الحديث

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سويد بن عبد الله الكعبيصحابي
👤←👥عبد العزيز بن عبد الله القرشي، أبو الحجاج
Newعبد العزيز بن عبد الله القرشي ← سويد بن عبد الله الكعبي
ثقة
👤←👥مزاحم بن أبي مزاحم المكي
Newمزاحم بن أبي مزاحم المكي ← عبد العزيز بن عبد الله القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سعيد بن مزاحم القرشي
Newسعيد بن مزاحم القرشي ← مزاحم بن أبي مزاحم المكي
مقبول
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← سعيد بن مزاحم القرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1996
أحرم ثم استوى على راحلته فاستقبل بطن سرف حتى لقي طريق المدينة فأصبح بمكة كبائت
مسندالحميدي
886
اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم من الجعرانة ليلا، فنظرت إلى ظهره كأنه سبيكة فضة، وأصبح كبائت
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1996 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1996
1996. اردو حاشیہ: (فاصبح بمکۃ کبائت) اور مکہ میں صُبح کی۔گویا کہ آپ رات ہی سے یہیں تھے۔یہ جملہ کسی راوی کا وہم ہے۔جامع ترمذی سنن نسائی اور مسند احمد میں جو آیا ہے۔وہ صحیح تر ہے کہ آپ نے رات میں عمرہ کیا۔اور رات ہی کو جعرانہ واپس تشریف لے آئے۔گویا آپ نے رات یہیں گزاری تھی۔ اور اس بنا پر بعض اصحاب رضوان اللہ عنہم اجمعین پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمرہ مخفی رہا۔(بزل المجہود) یہ حدیث باب سے اس طرح مطابقت رکھتی ہے۔کہ قضا یا نفلی عمرہ ادا کرن ےوالا تنعیم سے احرام باندھے یاجعرانہ سے یہی دو مقام قریب کے میقات ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1996]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:886
886- سیدنا محرش کعبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے رات کے وقت عمرہ کیا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت کی طرف دیکھا تو وہ چاندی کے ٹکڑے کی مانند تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت جعرانہ میں موجود تھے یوں جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات یہیں بسر کی ہے۔ امام حمید ی بیان کرتے ہیں: سفیان اس روایت میں بعض اوقات سیدنا محرش کعبی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے تھے۔ اگر کوئی شخص ان سے اس بارے میں دریافت کرتا تو وہ یہ جواب دیتے تھے ان کا نام یا مجرش ہے یا محرش ہے یا مخرش ہے۔ اور بعض اوقات وہ یہ بھی کہتے تھے: یا یہ ہے یاوہ ہے۔ یعنی وہ ان کے ن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:886]
فائدہ:
مکہ میں رہنے والے مستقل رہائشی اور غیر ملکی ملازمین وغیرہ اپنے گھروں سے ہی احرام باندھیں گے البتہ میقات کے اندر والے یا حرم میں عارضی رہائش اختیار کیے ہوؤں میں سے اگر کوئی احرام باندھنا چاہے تو اسے حرم سے باہر کسی میقات کے مقام پر جا کر احرام باندھنا پڑے گا۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےجعرانہ سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کیا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 886]