سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. باب تحريم حرم مكة
باب: حرم مکہ کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2018
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے اس میں اتنا زائد ہے «لا يختلى خلاها» (اور اس کے پودے نہ کاٹے جائیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2018]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس قصہ میں مروی ہے، انہوں نے کہا: «وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا» یعنی ”اس کی گھاس نہ کاٹی جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ جزاء الصید 9 (1834)، الجہاد 1(2783) صحیح مسلم/الحج 82 (1353)، سنن الترمذی/ السیر 33 (1590)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (3857)، (تحفة الأشراف: 5748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/226، 259، 315، 355) ویأتی ہذا الحدیث فی الجہاد (2480) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1834) صحيح مسلم (1353)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2018 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2018
فوائد ومسائل:
حدود حرم کے درخت یا گھاس کا کاٹنا منع ہے۔
جانوروں کے چرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدود حرم کے درخت یا گھاس کا کاٹنا منع ہے۔
جانوروں کے چرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2018]
Sunan Abi Dawud Hadith 2018 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي