سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. باب تحريم حرم مكة
باب: حرم مکہ کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2019
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا أَوْ بِنَاءً يُظِلُّكَ مِنَ الشَّمْسِ؟ فَقَالَ:" لَا، إِنَّمَا هُوَ مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں ایک گھر یا عمارت نہ بنا دیں جو آپ کو دھوپ سے سایہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں یہ (منیٰ) اس کی جائے قیام ہے جو یہاں پہلے پہنچ جائے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2019]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں گھر نہ بنا دیں؟“ یا کہا: ”کوئی عمارت نہ بنا دیں جو آپ کو دھوپ سے بچائے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ ٹھہرنے کا مقام ہے اور ہر شخص کے لیے ہے جو پہلے آ جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 51 (881)، سنن ابن ماجہ/المناسک 52 (3006)، (تحفة الأشراف: 17963)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/187، 206)، سنن الدارمی/المناسک 87 (1980) (ضعیف)» (یوسف کی والدہ مسیکہ مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی منیٰ کا میدان وقف ہے حاجیوں کے لئے وہ کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے اگر کوئی وہاں پہلے پہنچے اور کسی جگہ اتر جائے تو دوسرا اس کو اٹھا نہیں سکتا چونکہ مکان بنانے میں ایک جگہ پر اپنا قبضہ اور حق جما لینا ہے اس لئے آپ نے اس سے منع فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2625)
أخرجه الترمذي (881 وسنده حسن) وابن ماجه (3006 وسنده حسن) وشك ابن خزيمة (2891) في صحته وحسنه الترمذي وصححه الحاكم (1/466، 467) ووافقه الذهبي، أم يوسف مسيكة وثقھا الترمذي والحاكم والذھبي بتصحيح حديثھا وإبراهيم بن المھاجر بن جابر البجلي وثقه الجمھور وھو حسن الحديث فالسند حسن
مشكوة المصابيح (2625)
أخرجه الترمذي (881 وسنده حسن) وابن ماجه (3006 وسنده حسن) وشك ابن خزيمة (2891) في صحته وحسنه الترمذي وصححه الحاكم (1/466، 467) ووافقه الذهبي، أم يوسف مسيكة وثقھا الترمذي والحاكم والذھبي بتصحيح حديثھا وإبراهيم بن المھاجر بن جابر البجلي وثقه الجمھور وھو حسن الحديث فالسند حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
881
| لا منى مناخ من سبق |
سنن أبي داود |
2019
| لا إنما هو مناخ من سبق إليه |
سنن ابن ماجه |
3006
| لا منى مناخ من سبق |
سنن ابن ماجه |
3007
| لا منى مناخ من سبق |
Sunan Abi Dawud Hadith 2019 in Urdu
مسيكة المكية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق