علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. باب في تحريم المدينة
باب: مدینہ کے حرم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2038
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ مَوْلًى لِسَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ، فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ، وَقَالَ يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْءٌ، وَقَالَ:" مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهُ سَلَبُهُ".
سعد رضی اللہ عنہ کے غلام سے روایت ہے کہ سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے پایا تو ان کے اسباب چھین لیے اور ان کے مالکوں سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کرتے سنا ہے کہ مدینہ کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو کوئی اس میں کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑے اس کا اسباب چھین لے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2038]
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ایک غلام سے مروی ہے کہ انہوں نے مدینہ کے کچھ غلاموں کو دیکھا کہ وہ (حرم) مدینہ میں درخت کاٹ رہے ہیں۔ تو انہوں نے ان کا اسباب چھین لیا اور ان غلاموں کے مالکوں سے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے درختوں سے کچھ کاٹنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے: ”جو کوئی ان سے کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑ لے تو اس کا اسباب اسی کے لیے ہے (اس کے کپڑے، کلہاڑی اور رسی وغیرہ)۔“” [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3951) (صحیح)» (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، مؤلف کی سند میں دو علتیں ہیں: صالح کا اختلاط اور مولی لسعد کا مبہم ہونا)
وضاحت: ۱؎: یہ جھڑکی اور ملامت کے طور پر ہے، پھر اسے واپس دیدے، اکثر علماء کی یہی رائے ہے، اور بعض علماء نے کہا ہے کہ نہ دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مولي لسعد مجھول (وانظر فتح الملك المعبود 2/ 247) ولم أجد من وثقه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 78
إسناده ضعيف
مولي لسعد مجھول (وانظر فتح الملك المعبود 2/ 247) ولم أجد من وثقه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 78
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاق | صحابي | |
👤←👥اسم مبهم اسم مبهم ← سعد بن أبي وقاص الزهري | 0 | |
👤←👥صالح بن أبي صالح المدني، أبو محمد صالح بن أبي صالح المدني ← اسم مبهم | صدوق اختلط بأخرة | |
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث محمد بن أبي ذئب العامري ← صالح بن أبي صالح المدني | ثقة فقيه فاضل | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← محمد بن أبي ذئب العامري | ثقة متقن | |
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن عثمان بن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي | وله أوهام، ثقة حافظ شهير |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3318
| أحرم ما بين لابتي المدينة يقطع عضاهها يقتل صيدها المدينة خير لهم لو كانوا يعلمون لا يدعها أحد رغبة عنها إلا أبدل الله فيها من هو خير منه لا يثبت أحد على لأوائها وجهدها إلا كنت له شفيعا أو شهيدا يوم القيامة |
سنن أبي داود |
2038
| من قطع منه شيئا فلمن أخذه سلبه |
Sunan Abi Dawud Hadith 2038 in Urdu
اسم مبهم ← سعد بن أبي وقاص الزهري