🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب في نكاح المتعة
باب: نکاح متعہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2073
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَرَّمَ مُتْعَةَ النِّسَاءِ".
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے نکاح متعہ کو حرام قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2073]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3809) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح م وزاد زمن الفتح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1406)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سبرة بن معبد الجهني، أبو ثلجة، أبو ثرية، أبو الربيعصحابي
👤←👥الربيع بن سبرة الجهني
Newالربيع بن سبرة الجهني ← سبرة بن معبد الجهني
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← الربيع بن سبرة الجهني
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3370
أذن رسول الله بالمتعة فانطلقت أنا ورجل إلى امرأة من بني عامر فعرضنا عليها أنفسنا فقالت ما تعطيني فقلت ردائي وقال صاحبي ردائي وكان رداء صاحبي أجود من ردائي وكنت أشب منه فإذا نظرت إلى رداء صاحبي أعجبها وإذا نظرت إلي أعجبتها ثم قالت أنت ور
صحيح مسلم
3424
أمرنا رسول الله بالمتعة عام الفتح حين دخلنا مكة ثم لم نخرج منها حتى نهانا عنها
صحيح مسلم
3425
أمر أصحابه بالتمتع من النساء قال فخرجت أنا وصاحب لي من بني سليم حتى وجدنا جارية من بني عامر كأنها بكرة عيطاء فخطبناها إلى نفسها وعرضنا عليها بردينا فجعلت تنظر فتراني أجمل من صاحبي وترى برد صاحبي أحسن من بردي فآمرت نفسها ساعة ثم اختارتني على صاحبي فكن معنا
صحيح مسلم
3426
نهى عن نكاح المتعة
صحيح مسلم
3419
أذن لنا رسول الله بالمتعة فانطلقت أنا ورجل إلى امرأة من بني عامر كأنها بكرة عيطاء فعرضنا عليها أنفسنا فقالت ما تعطي فقلت ردائي وقال صاحبي ردائي وكان رداء صاحبي أجود من ردائي وكنت أشب منه فإذا نظرت إلى رداء صاحبي أعجبها وإذا نظرت إلي أعج
صحيح مسلم
3428
نهى عن المتعة زمان الفتح
صحيح مسلم
3427
نهى يوم الفتح عن متعة النساء
صحيح مسلم
3422
كنت أذنت لكم في الاستمتاع من النساء وإن الله قد حرم ذلك إلى يوم القيامة فمن كان عنده منهن شيء فليخل سبيله ولا تأخذوا مما آتيتموهن شيئا
صحيح مسلم
3430
نهى عن المتعة وقال ألا إنها حرام من يومكم هذا إلى يوم القيامة ومن كان أعطى شيئا فلا يأخذه
سنن أبي داود
2073
حرم متعة النساء
سنن ابن ماجه
1962
كنت أذنت لكم في الاستمتاع ألا وإن الله قد حرمها إلى يوم القيامة فمن كان عنده منهن شيء فليخل سبيلها ولا تأخذوا مما آتيتموهن شيئا
بلوغ المرام
851
إني كنت أذنت لكم في الاستمتاع من النساء ،‏‏‏‏ وإن الله قد حرم ذلك إلى يوم القيامة ،‏‏‏‏ فمن كان عنده منهن شيء فليخل سبيلها ،‏‏‏‏ ولا تأخذوا مما آتيتموهن شيئا
سنن أبي داود
2072
متعة النساء نهى عنها في حجة الوداع
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2073 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2073
فوائد ومسائل:
جاہلیت کے نکاحوں میں سے ایک نکاح متعہ بھی تھا وہ اس طرح کہ لوگ ایک متعین وقت کے لئے نکاح کر لیتے تھے مگر اسلام آنے کے بعد غزوہ خیبر کے وقت اسے حرام کیا گیا پھر اس کی رخصت دے دی گئی مگر فتح مکہ میں ابدی طور پر حرام کر دیا گیا۔
روافض کے علاوہ دیگر ائمہ کا اس کی حرکت پر اتفاق ہے روافض نے متعہ کے جواز کو حضرت علی رضی اللہ کی جانب سے منسوب کیا ہے، جبکہ صحیح بخاری میں حضرت علی رضی اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے بصراحت کہا کہ نکاح متعہ منسوخ ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2073]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 851
(نکاح کے متعلق احادیث)
سیدنا ربیع بن سبرہ نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اب اللہ تعالیٰ نے اسے تا روز قیامت حرام قرار دے دیا ہے۔ لہذا جس کسی کے پاس ان میں سے کوئی متعہ والی عورت ہو تو وہ اس کو چھوڑ دے اور جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔ اس روایت کو مسلم، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 851»
تخریج:
«أخرجه مسلم، النكاح، باب النكاح المتعة....، حديث:1406، وأبوداود، النكاح، حديث:2072، 2073، والنسائي، النكاح، حديث:3370، وابن ماجه، النكاح، حديث:1962، وأحمد:3 /405، وابن حبان (الإحسان):6 /177، حديث:4135.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ» ‏‏‏‏ جہنی اور مدنی ہیں۔
انھیں ابن عوسجہ بھی کہا جاتا ہے۔
انھیں امام نسائی اور عجلی دونوں نے ثقہ قرار دیا ہے۔
اور ابن حبان نے انھیں کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 851]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3370
متعہ کی حرمت کا بیان۔
سبرہ جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کرنے کی اجازت دی تو میں اور ایک اور شخص (دونوں) بنی عامر قبیلے کی ایک عورت کے پاس گئے اور ہم اپنے آپ کو اس پر پیش کیا اس نے کہا: تم مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا: میں تم کو اپنی چادر دے دوں گا، میرے ساتھی نے بھی یہی کہا اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، (لیکن) میں اس سے زیادہ جوان (تگڑا) تھا، وہ جب میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو وہ اسے بڑی اچھی لگتی (اس کی طرف لپکتی) اور جب مجھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3370]
اردو حاشہ:
یہ فتح مکہ کا واقعہ ہے۔ خود صاحبِ واقعہ حضـرت سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے۔ اسی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: [إنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ ذٰالِك اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَة ] یعنی عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک حرام کردیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (صحیح مسلم‘ النکاح‘ باب نکاح المتعة وبیان أنه ابیح ثم نسخ…‘ حدیث: 1406)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3370]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1962
نکاح متعہ منع ہے۔
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! عورت کے بغیر رہنا ہمیں گراں گزر رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے متعہ کر لو، ہم ان عورتوں کے پاس گئے وہ نہیں مانیں، اور کہنے لگیں کہ ہم سے ایک معین مدت تک کے لیے نکاح کرو، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے اور ان کے درمیان ایک مدت مقرر کر لو چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد بھائی دونوں چلے، اس کے پاس ایک چادر تھی، اور میرے پاس بھی ایک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1962]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہمارے فاضل محقق رحمہ اللہ اس حدیث کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے لیکن اس میں حجۃ الوداع کا ذکر درست نہیں۔
صحیح بات یہ ہے کہ یہ فتح مکہ کا واقعہ ہے جیسے صحیح مسلم میں مروی ہے۔ (صحیح مسلم، النکاح، باب نکاح المتعة ....، حدیث: 1406)

(2)
متعہ کی اجازت وقتی طور پر خاص حالات کی وجہ سے دی گئی تھی، اس کے بعد ہمیشہ کے لیے حرام کر دیا گیا۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ  نے شرح مسلم میں اس حدیث پر یہ عنوان لکھا ہے:
نکاح متعہ کا بیان یہ پہلے جائز تھا پھر (اس کا جواز)
منسوخ ہو گیا پھر جائز ہوا پھر منسوخ ہو گیا اور قیامت تک کے لیے اس کی حرمت قائم ہو گئی۔ (صحیح مسلم، النکاح، باب نکاح المتعة .... حدیث: 1405)
سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح کے پہلے باب کی احادیث (حدیث: 1845، 1846)
سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کی استطاعت نہ رکھنے والے جوانوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
اگر نکاح متعہ جائز ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کے بجائے نکاح متعہ کا حکم فرماتے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1962]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3428
ربیع بن سبرہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دور میں متعہ یعنی متعۃ النساء سے منع فرمایا، اور میرے باپ نے دو سرخ چادروں کے عوض متعہ کیا تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3428]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ربیع کے باپ اور ان کے ساتھی نے دو سرخ چادریں عورت پر پیش کی تھیں،
اور عورت نے ان کو پسند کیا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3428]