یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب في ضرب النساء
باب: عورتوں کو سزا میں مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2146
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ"، فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ، فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ".
ایاس بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو نہ مارو“، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: (آپ کے اس فرمان کے بعد) عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے اور تادیب کی رخصت دے دی، پھر عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر ازواج مطہرات کے پاس پہنچنے لگیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر محمد کے گھر والوں کے پاس پہنچ رہی ہیں، یہ (مار پیٹ کرنے والے) لوگ تم میں بہترین لوگ نہیں ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2146]
ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو مت مارا کرو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”عورتیں اپنے شوہروں کے سر چڑھنے لگی ہیں۔“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مارنے کی رخصت دے دی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس عورتیں بہت زیادہ آنے لگیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کرتی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر والوں کے پاس عورتیں بہت زیادہ آئی ہیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کرتی ہیں۔ ایسے لوگ کوئی اچھے آدمی نہیں ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ زہری کے شیخ کا نام عبداللہ بن عبداللہ ہی ہے (نہ کہ عبیداللہ)۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/النکاح 51 (1985)، (تحفة الأشراف: 1746)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (9167)، سنن الدارمی/النکاح 34 (2665) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3261)
سفيان بن عيينة والزھري صرحا بالسماع عند الحميدي وسنده قوي وللحديث شاھد عند البيھقي (7/304)
مشكوة المصابيح (3261)
سفيان بن عيينة والزھري صرحا بالسماع عند الحميدي وسنده قوي وللحديث شاھد عند البيھقي (7/304)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥إياس بن عبد الله الدوسي | مختلف في صحبته | |
👤←👥عبد الله بن عبد الله العدوي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن عبد الله العدوي ← إياس بن عبد الله الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبد الله بن عبد الله العدوي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر أحمد بن عمرو القرشي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة | |
👤←👥أحمد بن أبي خلف أحمد بن أبي خلف ← أحمد بن عمرو القرشي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2146
| لا تضربوا إماء الله |
سنن ابن ماجه |
1985
| لا تضربوا إماء الله |
مسندالحميدي |
900
| لا تضربوا إماء الله |
Sunan Abi Dawud Hadith 2146 in Urdu
عبد الله بن عبد الله العدوي ← إياس بن عبد الله الدوسي