یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب : ضرب النساء
باب: عورتوں کو مارنے پیٹنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1985
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ"، فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ ذَئِرَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ" فَأْمُرْ بِضَرْبِهِنَّ، فَضُرِبْنَ فَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَائِفُ نِسَاءٍ كَثِيرٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: لَقَدْ طَافَ اللَّيْلَةَ بِآلِ مُحَمَّدٍ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّ امْرَأَةٍ تَشْتَكِي زَوْجَهَا، فَلَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ".
ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو نہ مارو“، تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! عورتیں اپنے شوہروں پہ دلیر ہو گئی ہیں، لہٰذا انہیں مارنے کی اجازت دیجئیے (چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی) تو ان کو مار پڑی، اب بہت ساری عورتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کا چکر کاٹنے لگیں، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آل محمد کے گھر آج رات ستر عورتیں آئیں، ہر عورت اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی، تو تم انہیں (زیادہ مارنے والے مردوں کو) بہتر لوگ نہ پاؤ گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1985]
حضرت ایاس بن عبداللہ بن ابوذباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو ہرگز نہ مارو۔“ (چند دن بعد) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”اللہ کے رسول! عورتیں اپنے خاوندوں کے سامنے جرأت دکھانے لگی ہیں (اور گستاخ ہو گئی ہیں۔)“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ انہیں مار پڑی۔ تب بہت سی عورتوں نے آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم (ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن) کے ہاں چکر لگائے (اور امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن سے اپنے خاوندوں کی شکایتیں کیں۔) صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات آلِ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ہاں ستر عورتیں آئیں۔ ہر عورت اپنے خاوند کی شکایت کر رہی تھی۔ تم دیکھو! ایسے لوگ اچھے نہیں ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1985]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 43 (2146)، (تحفة الأشراف: 1746)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/النکاح 34 (2665) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 234)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥إياس بن عبد الله الدوسي | مختلف في صحبته | |
👤←👥عبد الله بن عبد الله العدوي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن عبد الله العدوي ← إياس بن عبد الله الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبد الله بن عبد الله العدوي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥محمد بن الصباح الجرجرائي، أبو جعفر محمد بن الصباح الجرجرائي ← سفيان بن عيينة الهلالي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2146
| لا تضربوا إماء الله |
سنن ابن ماجه |
1985
| لا تضربوا إماء الله |
مسندالحميدي |
900
| لا تضربوا إماء الله |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1985 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1985
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مار پیٹ میں اعتدال ضروری ہے۔
صرف اس حدی تک سختی ہونی چاہیے کہ مرد کا رعب عورت پر قائم رہے۔
(2)
مظلوم ظالم کی شکایت ایسے شخص سے کر سکتا ہے جو ظالم کو ظلم سے روکنے کی طاقت رکھتا ہے۔
(3)
عورت کسی معمولی کام کی غرض سے تھوڑے وقت کے لیے خاوند کی اجازت کے بغیر دوسرے گھر جاسکتی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مار پیٹ میں اعتدال ضروری ہے۔
صرف اس حدی تک سختی ہونی چاہیے کہ مرد کا رعب عورت پر قائم رہے۔
(2)
مظلوم ظالم کی شکایت ایسے شخص سے کر سکتا ہے جو ظالم کو ظلم سے روکنے کی طاقت رکھتا ہے۔
(3)
عورت کسی معمولی کام کی غرض سے تھوڑے وقت کے لیے خاوند کی اجازت کے بغیر دوسرے گھر جاسکتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1985]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:900
900- سیدنا ایاس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ کی کنیزوں کو نہ مارو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )! اس وقت سے خواتین اپنے شوہروں کے بارے میں شیر ہوگئی ہیں، جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے سے منع کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کوا س کی اجازت دے دی۔ لوگوں نے ان کی پٹائی کرنا شروع کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس بہت سی خواتین حاضر ہوئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گزشتہ رات محمد صلی ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:900]
فائدہ:
اس حدیث میں بیویوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے، اس سے مرادا یہی مار ہے جس سے اس کی ہڈی وغیرہ ٹوٹ جائے، ہلکی پھلکی ڈانٹ اور مسواک وغیرہ سے مارنا ادب کی خاطر درست ہے۔ علم کی کمی ہے جس کی وجہ سے مرد اپنی بیویوں پر ظلم کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی بات پر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کوقرآن و حد بیث کا فہم عطا فرمائے۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مظلوم اپنی شکایت حاکم وقت تک پہنچا سکتا ہے، اور یہ غیبت نہیں ہے۔
اس حدیث میں بیویوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے، اس سے مرادا یہی مار ہے جس سے اس کی ہڈی وغیرہ ٹوٹ جائے، ہلکی پھلکی ڈانٹ اور مسواک وغیرہ سے مارنا ادب کی خاطر درست ہے۔ علم کی کمی ہے جس کی وجہ سے مرد اپنی بیویوں پر ظلم کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی بات پر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کوقرآن و حد بیث کا فہم عطا فرمائے۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مظلوم اپنی شکایت حاکم وقت تک پہنچا سکتا ہے، اور یہ غیبت نہیں ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 899]
Sunan Ibn Majah Hadith 1985 in Urdu
عبد الله بن عبد الله العدوي ← إياس بن عبد الله الدوسي