🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 900
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 900
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ" , قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَدْ ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ مُنْذُ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِهِنَّ؟ فَأَذِنَ لَهُمْ، فَضَرَبُوا، فَأَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ أَطَافَ اللَّيْلَةَ بِآلِ مُحَمَّدٍ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ تَشْتَكِي زَوْجَهَا، وَلا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ" .
سیدنا ایاس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ کی کنیزوں کو نہ مارو۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس وقت سے خواتین اپنے شوہروں کے بارے میں شیر ہو گئی ہیں، جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے سے منع کیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس کی اجازت دے دی۔ لوگوں نے ان کی پٹائی کرنا شروع کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس بہت سی خواتین حاضر ہوئیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس 70 خواتین آئیں تھیں۔ ان سب نے اپنے شوہروں کی شکایت کی، تو تم ان لوگوں کو اپنے سے بہتر نہیں پاؤ گے۔ (یعنی اپنی بیوی کی پٹائی کرنے والا شخص اچھا نہیں ہوتا) [مسند الحميدي/حدیث: 900]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4189، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2781، 2790، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9122، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2146، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2265، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1985، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14893، 14899، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17945، والطبراني فى "الكبير" برقم: 784، 785، 786»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥إياس بن عبد الله الدوسيمختلف في صحبته
👤←👥عبيد الله بن عبد الله العدوي، أبو بكر
Newعبيد الله بن عبد الله العدوي ← إياس بن عبد الله الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2146
لا تضربوا إماء الله
سنن ابن ماجه
1985
لا تضربوا إماء الله
مسندالحميدي
900
لا تضربوا إماء الله
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 900 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:900
فائدہ:
اس حدیث میں بیویوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے، اس سے مرادا یہی مار ہے جس سے اس کی ہڈی وغیرہ ٹوٹ جائے، ہلکی پھلکی ڈانٹ اور مسواک وغیرہ سے مارنا ادب کی خاطر درست ہے۔ علم کی کمی ہے جس کی وجہ سے مرد اپنی بیویوں پر ظلم کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی بات پر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کوقرآن و حد بیث کا فہم عطا فرمائے۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مظلوم اپنی شکایت حاکم وقت تک پہنچا سکتا ہے، اور یہ غیبت نہیں ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 899]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1985
عورتوں کو مارنے پیٹنے کے حکم کا بیان۔
ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو نہ مارو، تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! عورتیں اپنے شوہروں پہ دلیر ہو گئی ہیں، لہٰذا انہیں مارنے کی اجازت دیجئیے (چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی) تو ان کو مار پڑی، اب بہت ساری عورتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کا چکر کاٹنے لگیں، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آل محمد کے گھر آج رات ستر عورتیں آئیں، ہر عورت اپنے شوہر کی شکایت کر رہی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1985]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  مار پیٹ میں اعتدال ضروری ہے۔
صرف اس حدی تک سختی ہونی چاہیے کہ مرد کا رعب عورت پر قائم رہے۔

(2)
  مظلوم ظالم کی شکایت ایسے شخص سے کر سکتا ہے جو ظالم کو ظلم سے روکنے کی طاقت رکھتا ہے۔

(3)
عورت کسی معمولی کام کی غرض سے تھوڑے وقت کے لیے خاوند کی اجازت کے بغیر دوسرے گھر جاسکتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1985]

Musnad al-Humaydi Hadith 900 in Urdu