سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب في كراهية الطلاق
باب: طلاق کے مکروہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2178
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2178]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطلاق 1 (2018)، (تحفة الأشراف: 7411) (ضعیف)» (اس کے راوی کثیر بن عبید لین الحدیث ہیں، اس حدیث کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے مرسل کے رواة عدد میں زیادہ اور اوثق ہیں اور مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3280)
محمد بن خالد الوھبي صدوق انظر التقريب (5848)
مشكوة المصابيح (3280)
محمد بن خالد الوھبي صدوق انظر التقريب (5848)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2178
| أبغض الحلال إلى الله الطلاق |
سنن ابن ماجه |
2018
| أبغض الحلال إلى الله الطلاق |
بلوغ المرام |
915
| أبغض الحلال إلى الله الطلاق |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2178 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2178
فوائد ومسائل:
امام حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے بھی ان کی توثیق کی ہے۔
(مستدرك حاکم، الطلاق، حدیث:2794) مگر ابو حاتم دار قطنی اور بیہقی نے اس کا مرسل ہونا راجع کہا ہے۔
شیخ البانی ؒ نے بھی غالباً اسی دجہ سے ان دونوں روایات کو ضعیف سنن ابی میں درج کیا ہے۔
2۔
اور کراہت سے مراد ان اسباب کی کراہت ہے جن کی دجہ سے طلاق ہو۔
علامہ خطانی کہتے ہیں کہ نفس طلاق کو اللہ تعالی نے مباح کیا ہے اور ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دی تھی پھر رجوع کیا تھا۔
(سنن أبي داود، الطلاق، حديث::٢٢٨٣ّ، مستدرك حاكم، الطلاق، حديث:٢٧٩٢) ایسے ہی ابن عمر کی ایک بیوی تھی انہیں ان سے بہت الفت تھی مگر حضرت عمر کو ان کا ان کے ساتھ رہنا پسند نہ تھا۔
انہوں نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کردی تو آپ نے ان کو بلایا اور کہا: عبداللہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو چنانچہ انہوں نے طلاق دے دی۔
(جامع الترمذي، الطلاق والعان، حديث;١١٨٩) اور یہ نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسا حکم ارشاد فرمائیں جو اللہ تعالی کے ہاں مکروہ ہو۔
طلاق کی مختلف صورتیں: 1۔
طلاق سنی: اس کی دو صورتیں ہیں۔
(الف) طلاق احسن: انسان بیوی کو حالت طہر میں قبل از جماع ایک طلاق دے پھر اسے چھوڑدے حتی کہ اس کی عدت مکمل ہوجائے۔
یا عدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلے۔
(ب) طلاق حسن۔
ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو پھر دوسرے طہر میں دوسری طلاق اور تیسرے طہر میں تیسری طلاق دے۔
2۔
طلاق بدعی: ایک لفظ یا جملے میں متعدد طلاقیں دے یا متعدد جملے استعمال کرکے متعدد طلاقیں دے مگر ایک ہی طہر میں دے یا ایسے طہر میں طلاق دے جس میں مباشرت کی ہو۔
3۔
طلاق رجعی: پہلی مرتبہ اور دوسری مرتبہ طلاق رجعی ہوتی ہے۔
یعنی ان میں عدت کے دوران میں شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے۔
4۔
(الف) طلاق بائن: (بینونہء صغری) یعنی ایک طلاق دے پھر خاموش رہےحتی کہ عدت پوری ہوجائے۔
اب عورت بائن ہوگئی جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
پہلا شوہر بھی اس کی منظوری اور اجازت سے نکاح کرسکتا ہے۔
اس صورت میں بعد از عدت نیا عقد نئے حق مہر سے ہوسکتا ہے۔
(ب) طلاق بائن (بینونہ کبری) مختلف اوقات یا مختلف مجالس میں تین طلاقیں پوری کردے حتی کہ شوہر کو رجوع کا حق باقی نہ رہے ایسی صورت میں وہ عورت کسی اور سے (باقاعدہ آباد رہنے کی نیت سے) نکاح کرے اس سے فی الواقع مباشرت ہو اور پھر اتفاقیہ طلاق یا خاوند کی موت کے سبب وہ عورت وہاں سے فارغ ہوجائے تو پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔
5۔
طلاق صریح: واضح اور صریح الفاظ سے طلاق دینا۔
6۔
طلاق کنایہ: ایسے الفاظ سے طلاق دینا جو طلاق اور غیر طلاق دونوں معانی کے متحمل ہوں۔
ایسے میں شوہر کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے۔
7۔
طلاق منجز: صریح اور واضح طلاق جو فوراً نافذ ہوجاتی ہے۔
8۔
طلاق معلق: کسی قول وفعل کے ساتھ مشروط کرکے طلاق دینا مثلاً اگر ایسا ہوا تو طلاق وغیرہ۔
امام حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے بھی ان کی توثیق کی ہے۔
(مستدرك حاکم، الطلاق، حدیث:2794) مگر ابو حاتم دار قطنی اور بیہقی نے اس کا مرسل ہونا راجع کہا ہے۔
شیخ البانی ؒ نے بھی غالباً اسی دجہ سے ان دونوں روایات کو ضعیف سنن ابی میں درج کیا ہے۔
2۔
اور کراہت سے مراد ان اسباب کی کراہت ہے جن کی دجہ سے طلاق ہو۔
علامہ خطانی کہتے ہیں کہ نفس طلاق کو اللہ تعالی نے مباح کیا ہے اور ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دی تھی پھر رجوع کیا تھا۔
(سنن أبي داود، الطلاق، حديث::٢٢٨٣ّ، مستدرك حاكم، الطلاق، حديث:٢٧٩٢) ایسے ہی ابن عمر کی ایک بیوی تھی انہیں ان سے بہت الفت تھی مگر حضرت عمر کو ان کا ان کے ساتھ رہنا پسند نہ تھا۔
انہوں نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کردی تو آپ نے ان کو بلایا اور کہا: عبداللہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو چنانچہ انہوں نے طلاق دے دی۔
(جامع الترمذي، الطلاق والعان، حديث;١١٨٩) اور یہ نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسا حکم ارشاد فرمائیں جو اللہ تعالی کے ہاں مکروہ ہو۔
طلاق کی مختلف صورتیں: 1۔
طلاق سنی: اس کی دو صورتیں ہیں۔
(الف) طلاق احسن: انسان بیوی کو حالت طہر میں قبل از جماع ایک طلاق دے پھر اسے چھوڑدے حتی کہ اس کی عدت مکمل ہوجائے۔
یا عدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلے۔
(ب) طلاق حسن۔
ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو پھر دوسرے طہر میں دوسری طلاق اور تیسرے طہر میں تیسری طلاق دے۔
2۔
طلاق بدعی: ایک لفظ یا جملے میں متعدد طلاقیں دے یا متعدد جملے استعمال کرکے متعدد طلاقیں دے مگر ایک ہی طہر میں دے یا ایسے طہر میں طلاق دے جس میں مباشرت کی ہو۔
3۔
طلاق رجعی: پہلی مرتبہ اور دوسری مرتبہ طلاق رجعی ہوتی ہے۔
یعنی ان میں عدت کے دوران میں شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے۔
4۔
(الف) طلاق بائن: (بینونہء صغری) یعنی ایک طلاق دے پھر خاموش رہےحتی کہ عدت پوری ہوجائے۔
اب عورت بائن ہوگئی جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
پہلا شوہر بھی اس کی منظوری اور اجازت سے نکاح کرسکتا ہے۔
اس صورت میں بعد از عدت نیا عقد نئے حق مہر سے ہوسکتا ہے۔
(ب) طلاق بائن (بینونہ کبری) مختلف اوقات یا مختلف مجالس میں تین طلاقیں پوری کردے حتی کہ شوہر کو رجوع کا حق باقی نہ رہے ایسی صورت میں وہ عورت کسی اور سے (باقاعدہ آباد رہنے کی نیت سے) نکاح کرے اس سے فی الواقع مباشرت ہو اور پھر اتفاقیہ طلاق یا خاوند کی موت کے سبب وہ عورت وہاں سے فارغ ہوجائے تو پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔
5۔
طلاق صریح: واضح اور صریح الفاظ سے طلاق دینا۔
6۔
طلاق کنایہ: ایسے الفاظ سے طلاق دینا جو طلاق اور غیر طلاق دونوں معانی کے متحمل ہوں۔
ایسے میں شوہر کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے۔
7۔
طلاق منجز: صریح اور واضح طلاق جو فوراً نافذ ہوجاتی ہے۔
8۔
طلاق معلق: کسی قول وفعل کے ساتھ مشروط کرکے طلاق دینا مثلاً اگر ایسا ہوا تو طلاق وغیرہ۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2178]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 915
طلاق کا بیان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حلال چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ بری چیز طلاق ہے۔“ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 915»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حلال چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ بری چیز طلاق ہے۔“ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 915»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الطلاق، باب في كراهية الطلاق، حديث:2178، وابن ماجه، الطلاق، حديث:2018، وانظر علل الحديث لابن أبي حاتم:1 /431.» تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام اشیاء عنداللہ پسندیدہ نہیں۔
بعض چیزیں باوجود حلال ہونے کے بھی ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔
انھی میں سے ایک طلاق ہے۔
طلاق حلال ہے مگر اس لیے کہ بسا اوقات انسان مجبور ہوتا ہے اور مصلحت اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ طلاق واقع ہو جائے۔
2. بری اور ناپسندیدہ اس وجہ سے ہے کہ اس کی وجہ سے باہمی نفرت اور بسا اوقات دیرینہ عداوت پیدا ہو جاتی ہے جو شیطان کی خوشی اور مسرت کا باعث ہوتی ہے۔
چونکہ عموماً اس سے نہ ثواب ملتا ہے اور نہ قرب الٰہی ہی حاصل ہوتا ہے‘ اس لیے حتی الوسع اس سے اجتناب کرنا ہی بہتر ہے۔
3. احوال و ظروف کی بنا پر اس کی مختلف قسمیں ہیں‘ کبھی مستحب و جائز اور کبھی مکروہ و حرام بھی ہوتی ہے۔
تفصیل شروح احادیث اور کتب فقہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
«أخرجه أبوداود، الطلاق، باب في كراهية الطلاق، حديث:2178، وابن ماجه، الطلاق، حديث:2018، وانظر علل الحديث لابن أبي حاتم:1 /431.»
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام اشیاء عنداللہ پسندیدہ نہیں۔
بعض چیزیں باوجود حلال ہونے کے بھی ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔
انھی میں سے ایک طلاق ہے۔
طلاق حلال ہے مگر اس لیے کہ بسا اوقات انسان مجبور ہوتا ہے اور مصلحت اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ طلاق واقع ہو جائے۔
2. بری اور ناپسندیدہ اس وجہ سے ہے کہ اس کی وجہ سے باہمی نفرت اور بسا اوقات دیرینہ عداوت پیدا ہو جاتی ہے جو شیطان کی خوشی اور مسرت کا باعث ہوتی ہے۔
چونکہ عموماً اس سے نہ ثواب ملتا ہے اور نہ قرب الٰہی ہی حاصل ہوتا ہے‘ اس لیے حتی الوسع اس سے اجتناب کرنا ہی بہتر ہے۔
3. احوال و ظروف کی بنا پر اس کی مختلف قسمیں ہیں‘ کبھی مستحب و جائز اور کبھی مکروہ و حرام بھی ہوتی ہے۔
تفصیل شروح احادیث اور کتب فقہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 915]
محارب بن دثار السدوسي ← عبد الله بن عمر العدوي