علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب من قال بالقرعة إذا تنازعوا في الولد
باب: ایک لڑکے کے کئی دعویدار ہوں تو قرعہ ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2271
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، عَنْ الْخَلِيلِ، أَوْ ابْنِ الْخَلِيلِ، قَالَ:" أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ مِنْ ثَلَاثَةٍ، نَحْوَهُ، لَمْ يَذْكُرِ الْيَمَنَ، وَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا قَوْلَهُ طِيبَا بِالْوَلَدِ".
خلیل یا ابن خلیل کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا مقدمہ لایا گیا جس نے تین آدمیوں سے صحبت کے بعد ایک لڑکا جنا تھا، آگے اسی طرح کی روایت ہے اس میں نہ تو انہوں نے یمن کا ذکر کیا ہے، نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا، اور نہ (علی رضی اللہ عنہ کے) اس قول کا کہ خوشی سے تم دونوں لڑکے کو اسے (تیسرے کو) دے دو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2271]
خلیل یا ابن خلیل سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس نے تین مردوں سے بچہ جنم دیا (تینوں نے اس سے صحبت کی تھی) اور مذکورہ بالا کی مانند بیان کیا۔ اس روایت میں یمن کا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں اور نہ یہ ہے کہ ”خوشی خوشی بچے سے دست بردار ہو جاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2269)، (تحفة الأشراف: 3669) (ضعیف)» (اس کے راوی الخلیل لین الحدیث ہیں، ان کے نام میں بھی اختلاف ہے، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، کما تقدم)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2269)
انظر الحديث السابق (2269)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 2271 in Urdu
عبد الله بن الخليل الحضرمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي