علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب من أحق بالولد
باب: بچے کی پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے؟
حدیث نمبر: 2276
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي وَأَرَادَ أَنْ يَنْتَزِعَهُ مِنِّي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کا گھر رہا، میری چھاتی اس کے پینے کا برتن بنی، میری گود اس کا ٹھکانہ بنی، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک تو (دوسرا) نکاح نہیں کر لیتی اس کی تو ہی زیادہ حقدار ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2276]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا یہ بیٹا، میرا پیٹ اس کے لیے برتن، میرا سینہ اس کے لیے مشکیزہ اور میرا دامن اس کے لیے پناہ گاہ رہا ہے۔ اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور چاہتا ہے کہ اس کو مجھ سے چھین لے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تو اس کی زیادہ حقدار ہے جب تک کہ نکاح نہ کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8741)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/182، 203) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3378)
الوليد بن مسلم صرح بالسماع وللحديث طرق أخريٰ عن عمرو بن شعيب عند أحمد (2/182، 203) وغيره
مشكوة المصابيح (3378)
الوليد بن مسلم صرح بالسماع وللحديث طرق أخريٰ عن عمرو بن شعيب عند أحمد (2/182، 203) وغيره
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2276
| أنت أحق به ما لم تنكحي |
بلوغ المرام |
987
| أنت أحق به ما لم تنكحي |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2276 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2276
فوائد ومسائل:
یہ صحیح دلیل ہے کہ ماں جب تک نکاح نہ کرے وہ باپ کی نسبت بچے کی زیادہ حقدار ہے اور بعد ازنکاح بھی اگر شوہر راضی ہو تو اپنے پاس رکھ سکتی ہے۔
لیکن اگر وہ راضی نہ ہوتو باپ کو دیا جائے گا۔
یہ صحیح دلیل ہے کہ ماں جب تک نکاح نہ کرے وہ باپ کی نسبت بچے کی زیادہ حقدار ہے اور بعد ازنکاح بھی اگر شوہر راضی ہو تو اپنے پاس رکھ سکتی ہے۔
لیکن اگر وہ راضی نہ ہوتو باپ کو دیا جائے گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2276]
Sunan Abi Dawud Hadith 2276 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي