علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب في الصائم يحتجم
باب: روزہ دار سینگی (پچھنا) لگوائے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2367
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ يَعْنِي الرَّحَبِيَّ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ". قَالَ شَيْبَانُ: أَخْبَرَنِي أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2367]
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سینگی لگانے اور لگوانے والا روزہ کھولنے والا ہو گیا۔“ شیبان نے اپنی حدیث میں کہا: ”مجھے ابوقلابہ نے خبر دی، اس کو ابو اسماء الرحبی نے حدیث بیان کی کہ ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خبر دی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصیام 18 (1680)، (تحفة الأشراف: 2104)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (3135)، مسند احمد (5/276، 277،280، 282، 283)، سنن الدارمی/الصوم 36 (1774) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (1680 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1962، 1963 وسندھما صحيح)
أخرجه ابن ماجه (1680 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1962، 1963 وسندھما صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2367
| أفطر الحاجم والمحجوم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2367 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2367
فوائد ومسائل:
(1) اس باب کی احادیث کو اگلے باب کی احادیث کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس باب کی احادیث یا تو منسوخ ہیں یا کراہت پر محمول ہیں۔
(2) شیبان کی سند میں اخبار و تحدیث کی صراحت ہے جبکہ ہشام کی سند میں عنعنہ ہے۔
(1) اس باب کی احادیث کو اگلے باب کی احادیث کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس باب کی احادیث یا تو منسوخ ہیں یا کراہت پر محمول ہیں۔
(2) شیبان کی سند میں اخبار و تحدیث کی صراحت ہے جبکہ ہشام کی سند میں عنعنہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2367]
Sunan Abi Dawud Hadith 2367 in Urdu
عمرو بن مرثد الرحبي ← ثوبان بن بجدد القرشي