🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب الصوم في السفر
باب: سفر میں روزے رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2402
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ سَأَل النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: صُمْ إِنْ شِئْتَ، وَأَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصیام 17 (1121)، (تحفة الأشراف: 16857)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 33 (1942)، سنن الترمذی/الصوم 19 (711)، سنن النسائی/الصیام 31 (2308)، 43 (2386)، سنن ابن ماجہ/الصیام10 (1662)، موطا امام مالک/الصیام 7 (34)، مسند احمد (6/46، 93، 202، 207)، سنن الدارمی/الصوم 15(1748) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1121)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← مسدد بن مسرهد الأسدي
ثقة إمام حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4502
من شاء صام ومن شاء أفطر
صحيح البخاري
1943
إن شئت فصم وإن شئت فأفطر
صحيح مسلم
2625
إن شئت فصم وإن شئت فأفطر
صحيح مسلم
2626
صم إن شئت وأفطر إن شئت
جامع الترمذي
711
إن شئت فصم وإن شئت فأفطر
سنن أبي داود
2402
صم إن شئت وأفطر إن شئت
سنن النسائى الصغرى
2308
إن شئت فصم وإن شئت فأفطر
سنن النسائى الصغرى
2309
إن شئت فصم وإن شئت فأفطر
سنن النسائى الصغرى
2310
إن شئت فصم وإن شئت فأفطر
سنن النسائى الصغرى
2386
صم إن شئت أو أفطر إن شئت
سنن ابن ماجه
1662
إن شئت فصم وإن شئت فأفطر
المعجم الصغير للطبراني
389
إن شئت فصم وإن شئت فأفطر
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
252
إن شئت فصم، وإن شئت فافطر
بلوغ المرام
547
‏‏‏‏هي رخصة من الله فمن اخذ بها فحسن ومن احب ان يصوم فلا جناح عليه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2402 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2402
فوائد ومسائل:
جس سفر میں نماز قصر کرنا جائز ہے۔
اس میں مسافر کے لیے روزہ چھوڑنا بھی جائز ہے، خواہ سفر پیدل ہو یا سواری پر، اور سواری خواہ گاڑی ہو یا ہوائی جہاز وغیرہ، اور خواہ تھکاوٹ لاحق ہوتی ہو جس میں روزہ مشکل ہو یا تھکاوٹ لاحق نہ ہوتی ہو، خواہ سفر میں بھوک پیاس لگتی ہو یا نہ لگتی ہو۔
کیونکہ شریعت نے اس سفر میں نماز قصر کرنے اور روزہ چھوڑنے کی مطلقا اجازت دی ہے اور اس میں سواری کی نوعیت یا تھکاوٹ اور بھوک پیاس وغیرہ کی کوئی قید نہیں لگائی۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے رمضان میں جہاد کے سلسلہ میں آپ کے ساتھ سفر کیا تو بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے روزہ نہیں رکھا تھا۔
اوراس کے بارے میں کسی نے بھی دوسرے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، البتہ اگر گرمی کی شدت، راستہ کی دشواری، دوری اور مسلسل سفر کی وجہ سے روزہ میں تکلیف ہو تو پھر مسافر کے لیے تاکید کے ساتھ حکم یہ ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض نے روزہ نہیں رکھا، روزہ نہ رکھنے والے ہشاش بشاش تھے اور انہوں نے کام کیا جب کہ روزہ رکھنے والے کمزوور ہو گئے تھے اور وہ بعض کام نہ کر سکے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج تو روزہ نہ رکھنے والوں نے اجروثواب حاصل کر لیا۔
(صحيح البخاري‘ الجهاد‘ حديث: 2890‘ وصحيح مسلم‘ الصيام‘ حديث:119) کبھی کسی ہنگامی حالت کی وجہ سے یہ واجب بھی ہو جاتا ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھا جائے جیسا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف سفر کیا اور جب ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو آپ نے فرمایا: تم اپنے دشمن کے بہت قریب ہو گئے ہو اور روزہ چھوڑ دینا تمہارے لیے باعث تقویت ہو گا۔
یہ ایک رخصت تھی اس لیے ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہ رکھا، پھر ہم نے جب ایک دوسری منزل پر پڑاؤ ڈالا تو آپ نے فرمایا: تمہاری دشمن سے مڈبھیڑ ہونے والی ہے، روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے باعث تقویت ہو گا۔
لہذا چھوڑ دو۔
(صحيح مسلم‘ الصيام‘ حديث:1120) چونکہ آپ کی طرف سے یہ ایک تاکیدی حکم تھا اس لیے ہم سب نے روزہ چھوڑ دیا، راوی حدیث کا بیان ہے کہ اس کے بعد ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزے رکھے بھی تھے۔
اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر میں ایک آدمی کو دیکھا جس پر لوگ جمع ہوئے تھے اور اس پر سایہ کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا، کیا ماجرا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک روزے دار ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ تم سفر میں روزہ رکھو۔
(صحيح مسلم‘ الصيام‘ حديث: 1115) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی عطا کردہ رخصتوں کو قبول کر لیا جائے جس طرح وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اس کی معصیت و نافرمانی کا ارتکاب کیا جائے۔
(مسند أحمد:108/3) اگر روزہ رکھنے میں کوئی تکلیف نہ ہو اور کوئی روزہ رکھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر تکلیف ہو تو پھر روزہ رکھنا مکروہ ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2402]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 252
سفر میں روزہ رکھنے کا اختیار ہے
«. . . 465- وبه: عن عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم أن حمزة بن عمرو الأسلمي قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: أأصوم فى السفر؟ وكان كثير الصيام، فقال له النبى صلى الله عليه وسلم: إن شئت فصم، وإن شئت فأفطر . . . .»
. . . نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو الاسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں روزے رکھتا ہوں۔ کیا میں سفر میں بھی روزے رکھوں؟ وہ کثرت سے روزے رکھتے تھے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اگر تم چاہو تو روزے رکھو اور چاہو توروزے رکھو اور چاہو تو افطار کرو۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 252]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1943، من حديث مالك به ورواه مسلم 1121، من حديث هشام بن عروه به]

تفقه:
➊ ہر سفر میں روزہ افطار کرنا ضروری نہیں ہے، نیز یہ کہ سفر میں نفلی روزہ رکھا جا سکتا ہے۔
➋ نیز دیکھئے: [الموطأ حديث: 50، 438]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 465]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 547
(روزے کے متعلق احادیث)
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں (اگر میں روزہ رکھ لوں) تو کیا مجھ پر کوئی حرج ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے جو اس کو لے لے تو بہتر ہے اور جو کوئی روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ (مسلم) اور اس حدیث کا اصل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی متفق علیہ حدیث میں یوں ہے کہ حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے سوال کیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 547]
فائدہ 547:
مذکورہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کے لیے سفر میں رمضان کا روزہ نہ رکھنا جائز ہے، تاہم دورانِ سفر میں اس کے لیے روزہ نہ رکھنا افضل اور بہتر ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے: بلاشبہ اللہ رب العزّت اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی عطاکردہ رخصتوں کو قبول کیا جائے جس طرح وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اس کی معصیت ونافرمانی کا ارتکاب کیا جائے۔ [مسند احمد: 108/4]
راوئ حدیث:
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حجاز کے رہنے والے صحابی ہیں جن کی کنیت ابوصالح یا ابومحمد ہے۔ ان سے ان کے فرزند محمد اور ام المؤمنین عائشہ صدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا روایت کرتی ہیں۔ 61 ہجری میں فوت ہوے، اسوقت ان کی عمر 80 برس تھی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 547]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2310
اس حدیث میں ہشام بن عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو مسلسل روزہ رکھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2310]
اردو حاشہ:
روایات کی یہ تکرار بعض اسناد باریکیوں کی وضاحت کے لیے ہوتی ہے اور محدثین کے نزدیک یہ بہت مفیس اور دلچسپ چیز کی طرف کئی مقامات پر اشارہ ہو چکا ہے۔ (مثلاً دیکھئے، حدیث: 2132)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2310]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2386
مسلسل روزے رکھنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں جو مسلسل روزے رکھتا ہو، تو کیا سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2386]
اردو حاشہ:
یہاں پے در پے روزوں سے پورے سال کے مسلسل روزے رکھنا مراد نہیں کیونکہ احادیث میں اس کی سخت ممانعت ہے، شرعاً ایسے روزے نا قابل اعتبار ہیں۔ مجموعی دلائل کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں سرد الصیام سے مراد مسلسل مہینہ دو مہینے روزے رکھنا ہے اور بس۔ واللہ أعلم اور اس کے جواز میں ان شاء اللہ کوئی تردد نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2386]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1943
1943. حضرت عائشہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں سفر میں روزہ رکھ لوں؟ اور وہ بہت روزے رکھاکرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: (تمہاری مرضی ہے) چاہو تو رکھ لو چاہو تو چھوڑ دو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1943]
حدیث حاشیہ:
اس مسئلہ میں سلف کا اختلاف ہے بعضوں نے کہا کہ سفر میں اگر روزہ رکھے گا تو اس سے فرض روزہ ادا نہ ہوگا پھر قضا کرنا چاہئے اور جمہور علماءجیسے امام مالک اور شافعی اور ابوحنیفہ ؒ یہ کہتے ہیں کہ روزہ رکھنا سفر میں افضل ہے اگر طاقت ہو اور کوئی تکلیف نہ ہو اور ہمارے امام احمد بن حنبل اور اوزاعی اور اسحق اور اہل حدیث یہ کہتے ہیں کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے بعض نے کہا دونوں برابر ہیں روزہ رکھے یا افطار کرے، بعض نے کہا جو زیادہ آسان ہو وہی افضل ہے۔
(وحیدی)
حافظ ابن حجر نے اس امر کی تصریح فرمائی ہے کہ حمزہ بن عمرو ؓ نے نفل روزہ کے بارے میں نہیں بلکہ رمضان شریف کے فرض روزوں ہی کے بارے میں دریافت کیا تھا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم هي رخصة من اللہ فمن أخذ بها فحسن و من أحب أن یصوم فلا جناح علیه۔
(فتح الباري)
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دیا کہ یہ اللہ کی طرف سے رخصت ہے جو اسے قبول کرے پس وہ بہتر ہے اور جو روزہ رکھنا ہی پسند کرے اس پر کوئی گناہ نہیں۔
حضرت علامہ ؒ فرماتے ہیں کہ لفظ رخصت واجب ہی کے مقابلہ پر بولا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ ابوداؤد اور حاکم کی روایت میں موجود ہے کہ اس نے کہا تھا کہ میں سفر میں رہتا ہوں اور ماہ رمضان حالت سفر ہی میں میرے سامنے آجاتا ہے اس سوال کے جواب میں ایسا فرمایا جو مذکور ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1943]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1943
1943. حضرت عائشہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں سفر میں روزہ رکھ لوں؟ اور وہ بہت روزے رکھاکرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: (تمہاری مرضی ہے) چاہو تو رکھ لو چاہو تو چھوڑ دو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1943]
حدیث حاشیہ:
(1)
اگرچہ اس روایت میں فرض روزے کی صراحت نہیں ہے، تاہم صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی ؓ نے عرض کی:
اللہ کے رسول! مجھے دوران سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت ہے، اگر میں روزہ رکھ لوں تو کوئی گناہ ہو گا؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یہ اللہ کی طرف سے رخصت ہے جو اسے قبول کرے اس نے اچھا کیا اور جو روزہ رکھنا پسند کرتا ہے اس پر کوئی حرج نہیں۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2629(1121)
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
رخصت، واجب کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے رمضان کے روزوں کے متعلق سوال کیا تھا۔
(2)
واضح رہے کہ حدیث میں مسلسل روزے رکھنے سے مراد وصال کے روزے نہیں ہیں کیونکہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
(فتح الباري: 229/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1943]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4502
4502. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ فرضیت رمضان سے پہلے عاشوراء کا روزہ رکھا جاتا تھا۔ جب رمضان کی فرضیت نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4502]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔
جب آپ مدینہ تشریف لائے تویہودیوں کو دیکھا کہ وہ بھی اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔
آپ نے اس کی وجہ دریافت کی تو بتایا گیا کہ اس دن یہودیوں کو فرعون سے نجات ملی تھی، اس لیے وہ یوم تشکر کے طور پر اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ہم ان کی بنسبت موسیٰ ؑ سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔
" پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روزے کی پابندی کی اور دوسروں کو بھی اس کا پابند کیا۔
(صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 2004)
اور جس سال آپ کی وفات ہوئی آپ نے فرمایا:
"اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو (عاشوراء کے ساتھ)
نویں کا بھی روزہ رکھوں گا (تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو جائے۔
)
" لیکن عاشوراء سے پہلے آپ فوت ہوگئے۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2666(1134)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4502]