یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
---. باب التاجر يفطر
باب: تاجر روزہ چھوڑ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2403
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي صَاحِبُ ظَهْرٍ أُعَالِجُهُ أُسَافِرُ عَلَيْهِ وَأَكْرِيهِ، وَإِنَّهُ رُبَّمَا صَادَفَنِي هَذَا الشَّهْرُ يَعْنِي رَمَضَانَ، وَأَنَا أَجِدُ الْقُوَّةَ وَأَنَا شَابٌّ وَأَجِدُ بِأَنْ أَصُومَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَخِّرَهُ فَيَكُونُ دَيْنًا، أَفَأَصُومُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْظَمُ لِأَجْرِي، أَوْ أُفْطِرُ؟ قَالَ: أَيُّ ذَلِكَ شِئْتَ يَا حَمْزَةُ".
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں سواریوں والا ہوں، انہیں لے جایا کرتا ہوں، ان پر سفر کرتا ہوں اور انہیں کرایہ پر بھی دیتا ہوں، اور بسا اوقات مجھے یہی مہینہ یعنی رمضان مل جاتا ہے اور میں جوان ہوں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ روزہ مؤخر کرنے سے آسان یہ ہے کہ اسے رکھ لیا جائے، تاکہ بلاوجہ قرض نہ بنا رہے، اللہ کے رسول! میرے لیے روزہ رکھنے میں زیادہ ثواب ہے یا چھوڑ دینے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حمزہ! جیسا بھی تم چاہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2403]
جناب حمزہ بن محمد بن حمزہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کے دادا سے بیان کیا (کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے) عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے سواری کے جانور رکھے ہوئے ہیں، میرا کام انہی سے متعلق ہے، میں سفر میں رہتا ہوں، جانور کرائے پر چلاتا ہوں اور بسا اوقات یہ رمضان کا مہینہ بھی آ جاتا ہے اور میں اپنے اندر طاقت پاتا ہوں اور جوان ہوں، اے اللہ کے رسول! میں روزے مؤخر کرنے کی بجائے رکھ لینا زیادہ آسان سمجھتا ہوں، ورنہ میرے ذمے رہ جائیں گے، تو اے اللہ کے رسول! کیا مجھے روزہ رکھنے میں زیادہ اجر ملے گا یا افطار کرنے میں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حمزہ! جو چاہو کر سکتے ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد المؤلف بہذا السیاق، وانظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 3440) (ضعیف)» (اس کے رواة محمد بن حمزة اور محمد بن عبد المجید لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن عبدالمجيد و حمزة بن محمد بن حمزة : مجهولان انظرالتحرير (6096،1531)
والحديث السابق (الأصل :2402) صحيح،يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 89
إسناده ضعيف
محمد بن عبدالمجيد و حمزة بن محمد بن حمزة : مجهولان انظرالتحرير (6096،1531)
والحديث السابق (الأصل :2402) صحيح،يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 89
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2403
| إني صاحب ظهر أعالجه أسافر عليه وأكريه وإنه ربما صادفني هذا الشهر يعني رمضان وأنا أجد القوة وأنا شاب وأجد بأن أصوم يا رسول الله أهون علي من أن أؤخره فيكون دينا أفأصوم يا رسول الله أعظم لأجري أو أفطر قال أي ذلك شئت يا حمزة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2403 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2403
فوائد ومسائل:
(1) یہ باب اور عنوان ابوداود کے اکثر نسخوں میں نہیں ہے۔
بہرحال اس کا مطلب بھی گزشتہ باب والا ہی ہے، یعنی وہ تاجر، جو اکثر سفر میں رہتا ہے، روزہ چھوڑ سکتا ہے، بعد میں ان کی قضا کر لے۔
(2) مسئلہ اسی طرح ہے جیسے کہ دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
(1) یہ باب اور عنوان ابوداود کے اکثر نسخوں میں نہیں ہے۔
بہرحال اس کا مطلب بھی گزشتہ باب والا ہی ہے، یعنی وہ تاجر، جو اکثر سفر میں رہتا ہے، روزہ چھوڑ سکتا ہے، بعد میں ان کی قضا کر لے۔
(2) مسئلہ اسی طرح ہے جیسے کہ دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2403]
Sunan Abi Dawud Hadith 2403 in Urdu
محمد بن حمزة الأسلمي ← حمزة بن عمرو الأسلمي