سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا
باب: اللہ کا کلمہ (یعنی دین) کو بلند کرنے کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2519
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ حَنَانِ بْنِ خَارِجَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْجِهَادِ وَالْغَزْوِ، فَقَالَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنْ قَاتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَكَ اللَّهُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، وَإِنْ قَاتَلْتَ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا بَعَثَكَ اللَّهُ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا، يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو عَلَى أَيِّ حَالٍ قَاتَلْتَ أَوْ قُتِلْتَ بَعَثَكَ اللَّهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں صابر اور محتسب (ثواب کی نیت رکھنے والا) بنا کر اٹھائے گا، اور اگر تم ریاکاری اور فخر کے اظہار کے لیے جہاد کرو گے تو اللہ تمہیں ریا کار اور فخر کرنے والا بنا کر اٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! تم جس حال میں بھی لڑو یا شہید ہو اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2519]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (میں نے کہا) ”اے اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوے کے متعلق ارشاد فرمائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم صبر کے ساتھ اور اجر کی نیت سے قتال کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں صبر کرنے والوں اور اجر کے طلب گاروں میں اٹھائے گا اور اگر تم دکھلاوے اور مال جمع کرنے کی غرض سے قتال کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ریا کار اور مال جمع کرنے والوں میں اٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! جس حال (اور نیت) میں بھی تم نے لڑائی کی (جہاد کیا) یا تمہیں قتل کر دیا گیا تو اللہ تمہیں اسی حالت پر اٹھائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8619) (ضعیف)» (اس کے راوة العلا اور حنان دونوں لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3847)
مشكوة المصابيح (3847)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2519
| إن قاتلت صابرا محتسبا بعثك الله صابرا محتسبا وإن قاتلت مرائيا مكاثرا بعثك الله مرائيا مكاثرا على أي حال قاتلت أو قتلت بعثك الله على تلك الحال |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2519 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2519
فوائد ومسائل:
ہرنیک کام کے لئے اخلاص اور حسن نیت ضروری ہے۔
اس لئے جہاد وقتال ہو یا دیگر اعمال حسنہ ہر مسلمان کو تمام اعمال میں اپنی نیت کا جائز ہ لیتے رہنا چاہیے۔
اس روایت کوشیخ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے۔
ہرنیک کام کے لئے اخلاص اور حسن نیت ضروری ہے۔
اس لئے جہاد وقتال ہو یا دیگر اعمال حسنہ ہر مسلمان کو تمام اعمال میں اپنی نیت کا جائز ہ لیتے رہنا چاہیے۔
اس روایت کوشیخ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2519]
Sunan Abi Dawud Hadith 2519 in Urdu
حنان بن خارجة السلمي ← عبد الله بن عمرو السهمي