پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب في فضل الشهادة
باب: شہادت کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2520
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ مُعَلَّقَةٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ"، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَأْكَلِهِمْ وَمَشْرَبِهِمْ وَمَقِيلِهِمْ قَالُوا: مَنْ يُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْيَاءٌ فِي الْجَنَّةِ نُرْزَقُ لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ وَلَا يَنْكُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا سورة آل عمران آية 169 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کئے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز چڑیوں کے پیٹ میں رکھ دیا، جو جنت کی نہروں پر پھرتی ہیں، اس کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، جب ان روحوں نے اپنے کھانے، پینے اور سونے کی خوشی حاصل کر لی، تو وہ کہنے لگیں: کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ہمارے بارے میں یہ خبر پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور لڑائی کے وقت سستی نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں تمہاری جانب سے انہیں یہ خبر پہنچائوں گا“، راوی کہتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ”جو اللہ کے راستے میں شہید کر دئیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو“ (سورۃ آل عمران: ۱۶۹) اخیر آیت تک نازل فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2520]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے بھائی احد میں شہید کر دیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پرندوں میں کر دیا جو جنت کی نہروں پر آتے ہیں، وہاں کے پھل کھاتے ہیں اور پھر سونے کی قندیلوں میں لوٹ جاتے ہیں جو عرش کے سائے میں لٹک رہی ہیں۔ جب انہوں نے وہاں کے کھانے پینے اور آرام و راحت کے مزے دیکھے تو انہوں نے کہا: ”کون ہے جو ہمارا یہ پیغام ہمارے بھائیوں تک پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں، ہمیں رزق دیا جاتا ہے تاکہ وہ جہاد سے بے رغبت نہ ہو جائیں اور لڑائی میں بزدلی نہ دکھائیں۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة آل عمران: 169] ”وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ان کے بارے میں یہ خیال ہرگز نہ کیجیے کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔““ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5610)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/266) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3853)
ابن إسحاق صرح بالسماع وللحديث شواھد عند البيھقي في أثبات عذاب القبر (212 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3853)
ابن إسحاق صرح بالسماع وللحديث شواھد عند البيھقي في أثبات عذاب القبر (212 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2520
| لما أصيب إخوانكم بأحد جعل الله أرواحهم في جوف طير خضر ترد أنهار الجنة تأكل من ثمارها وتأوي إلى قناديل من ذهب معلقة في ظل العرش فلما وجدوا طيب مأكلهم ومشربهم ومقيلهم قالوا من يبلغ إخواننا عنا أنا أحياء في الجنة نرزق لئلا يزهدوا في الجهاد |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2520 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2520
فوائد ومسائل:
1۔
شہدا کے اس اعزازواکرام میں مسلمانوں کو ترغیب وتشویق ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند کرنے میں جان کی بازی لگانے سے دریغ نہ کریں۔
2۔
شہداء کی زندگی کو دنیا کی اس زندگی پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
بلکہ سورہ بقرہ میں صراحت ہے۔
کہ ان کی زندگی کو تم لوگ نہیں سمجھ سکتے۔
اور بعد از محشر انھیں نہایت اعزازو اکرام سے جنت میں داخل کیا جائے گا۔
3۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان شہداء سے مراتب میں افضل واعلیٰ ہیں۔
لہذا آپ کی برزخی زندگی کو بدرجہ اولیٰ نہیں سمجھا جا سکتا۔
1۔
شہدا کے اس اعزازواکرام میں مسلمانوں کو ترغیب وتشویق ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند کرنے میں جان کی بازی لگانے سے دریغ نہ کریں۔
2۔
شہداء کی زندگی کو دنیا کی اس زندگی پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
بلکہ سورہ بقرہ میں صراحت ہے۔
کہ ان کی زندگی کو تم لوگ نہیں سمجھ سکتے۔
اور بعد از محشر انھیں نہایت اعزازو اکرام سے جنت میں داخل کیا جائے گا۔
3۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان شہداء سے مراتب میں افضل واعلیٰ ہیں۔
لہذا آپ کی برزخی زندگی کو بدرجہ اولیٰ نہیں سمجھا جا سکتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2520]
Sunan Abi Dawud Hadith 2520 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي