🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب في فضل الشهادة
باب: شہادت کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2521
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ حدَّثَتْنَا حَسْنَاءُ بِنْتُ مُعَاوِيَةَ الصَّرِيمِيَّةُ، قَالَتْ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ وَالْوَئِيدُ فِي الْجَنَّةِ".
حسناء بنت معاویہ کے چچا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جنت میں کون ہو گا؟ آپ نے فرمایا: نبی جنت میں ہوں گے، شہید جنت میں ہوں گے، (نابالغ) بچے اور زندہ درگور کئے گئے بچے جنت میں ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/58، 409) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حسناء مجھولة الحال
وللحديث شواھد ضعيفة
وفي الباب حديث يخالفه (الأصل : 4717)
كأن بعض الموؤدات في الجنة وبعضھن في النار،واللّٰه أعلم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 92

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسلم بن سليم الصريميصحابي
👤←👥الحسناء بنت معاوية الصريمية
Newالحسناء بنت معاوية الصريمية ← أسلم بن سليم الصريمي
مقبول
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل
Newعوف بن أبي جميلة الأعرابي ← الحسناء بنت معاوية الصريمية
صدوق رمي بالقدر والتشيع
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي
ثقة ثبت
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2521
النبي في الجنة والشهيد في الجنة والمولود في الجنة والوئيد في الجنة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2521 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2521
فوائد ومسائل:

چھوٹے بچے جو نابالغی کی عمر میں فوت ہوگئے ہوں۔
اس میں وہ بھی شامل ہیں جن کی پیدائش نامکمل رہی اور ساقط ہوگئے ہوں۔
البتہ کافروں اور مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سب سے زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ جب کفار کے بچے سن تمیز سے پہلے فوت ہوجایئں۔
اور ان کے والد کافر ہوں۔
تو دنیا میں ان کا حکم کافروں کا ہوگا کہ انہیں غسل دیا جائے گا۔
نہ کفن دیا جائےگا نہ جنازہ پڑھا جائے گا۔
اور نہ انہیں مسلمانوں کے ساتھ دفن کیا جائےگا۔
کیونکہ وہ اپنے والدین کے ساتھ کافر ہی ہیں۔
باقی رہا آخرت میں ان کا حال تو یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اگر وہ بڑے ہوتے تودنیا میں کس طرح کے عمل کرتے؟ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب مشرکوں کے بچوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے۔
کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔
(صحیح البخاري، القدر، باب اللہ أعلم بما کانو عاملین، حدیث: 6597) بعض اہل علم کا قول ہے کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا علم قیامت کے دن ظاہر ہوگا۔
اور ان کا بھی اہل فترت کی طرح امتحان ہوگا۔
اگر انہوں نے اللہ کے حکم کی فرمانبرداری کی تو جنت میں داخل ہوں گے۔
اوراگر نافرمانی کی تو جہنم رسید ہو ں گے۔
صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
مثلا کفار اور مشرکین کے بچے ان کا بھی امتحان ہوگا۔
کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
(وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا) (بني إسرائیل: 15/17) اور جب تک ہم پیغمبر ؑ نہ بھیجیں ہم عذاب نہیں دیا کرتے اہل فترت کے بارے میں سب سے زیادہ صحیح قول یہی ہے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
(تفصیل کےلئے ملاحظہ ہو۔
فتاویٰ ابن تیمیہ 24/372۔
373)

عرب کے بعض قبائل عار کی بناء پراپنی بیٹیوں کو دفن کر دیتے تھے۔
اور یہ بھی آتا ہے کہ بعض فقر فاقہ کی صورت میں بیٹوں کے ساتھ بھی ایسے ہی کرتے تھے۔
قرآن مجید نے اس کا ذکر یوں کیا ہے۔
﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ﴿٨﴾ بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ) (التکویر۔

9) جب زندہ درگور کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔
کہ کس گناہ کی پاداش میں اسے قتل کیا گیا؟
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2521]