🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. باب ما يقول الرجل إذا ركب
باب: سواری پر چڑھتے وقت سوار کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2602
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ {13} وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ {14} سورة الزخرف آية 13-14، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيلَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ؟ قَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي".
علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، آپ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو «بسم الله» کہا، پھر جب اس کی پشت پر ٹھیک سے بیٹھ گئے تو «الحمد الله» کہا، اور «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون» کہا، پھر تین مرتبہ «الحمد الله» کہا، پھر تین مرتبہ «الله اكبر» کہا، پھر «سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» کہا، پھر ہنسے، پوچھا گیا: امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا جیسے کہ میں نے کیا پھر آپ ہنسے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہیں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے کہ گناہوں کو میرے علاوہ کوئی نہیں بخش سکتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2602]
جناب علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر تھا کہ سوار ہونے کے لیے آپ کے سامنے سواری لائی گئی۔ آپ نے جب اپنا پاؤں رکاب میں ڈال لیا تو کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ» پھر جب ٹھیک طرح سے اس پر بیٹھ گئے تو کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» پھر کہا: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے تابع کیا اور ہم از خود اس کو اپنا تابع نہ بنا سکتے تھے اور بلاشبہ ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹ جانے والے ہیں۔ پھر کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تین بار۔ پھر کہا: «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» تین بار۔ پھر کہا: «سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! تو پاک ہے میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے تو مجھے معاف فرما دے، بلاشبہ تیرے سوا اور کوئی نہیں جو گناہوں کو بخش سکے۔ پھر آپ ہنسے۔ آپ سے کہا گیا: امیر المؤمنین! آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟ فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا، جیسے کہ میں نے کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے (بھی) تھے، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا: اے اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تیرے رب کو اپنے بندے پر تعجب آتا ہے جب وہ کہتا ہے: (الٰہی!) میرے گناہ بخش دے، بندہ جانتا ہے کہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی بخش نہیں سکتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2602]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 47 (3446)، (تحفة الأشراف: 10248)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری / (8799)، الیوم واللیلة (502)، مسند احمد (1/97، 115، 128) (صحیح لغیرہ) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 7/354)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2434)
أبو إسحاق السبيعي صرح بالسماع عند البيھقي (5/252)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥علي بن ربيعة الوالبي، أبو المغيرة
Newعلي بن ربيعة الوالبي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← علي بن ربيعة الوالبي
ثقة مكثر
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة متقن
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← سلام بن سليم الحنفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3446
ربك ليعجب من عبده إذا قال رب اغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب غيرك
سنن أبي داود
2602
ربك يعجب من عبده إذا قال اغفر لي ذنوبي يعلم أنه لا يغفر الذنوب غيري
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2602 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2602
فوائد ومسائل:
اسلام انسان کا مذاج ایسا بنا دینا چاہتا ہے۔
کہ زندگی کا کوئی لمحہ بھی ایسا نہ گزرے جس سے وہ اپنے خالق ومالک سے غافل ہو۔
چاہیے کہ ہر حال میں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے۔
اور اسی طرح جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دیکھایا ہے۔
اسے بقدر امکان اختیار کیا جائے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2602]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3446
اونٹنی پر سوار ہو تو کیا پڑھے؟
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں علی رضی الله عنہ کے پاس موجود تھا، انہیں سواری کے لیے ایک چوپایہ دیا گیا، جب انہوں نے اپنا پیر رکاب میں ڈالا تو کہا: «بسم اللہ» میں اللہ کا نام لے کر سوار ہو رہا ہوں اور پھر جب پیٹھ پر جم کر بیٹھ گئے تو کہا: «الحمد للہ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، پھر آپ نے یہ آیت: «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون» پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے قابو میں کیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے جو اسے ناتھ پہنا سکتے، لگام دے سکتے، ہم اپنے رب کے پاس پلٹ کر جانے والے ہیں، پڑھی، پھر تین بار «الحمد للہ» کہا، او۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3446]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ صرف اونٹنی کے ساتھ خاص نہیں ہے،
کسی بھی سواری پرسوار ہوتے وقت یہ دعاء پڑھنی مسنون ہے،
خود باب کی دونوں حدیثوں میں اونٹنی کا تذکرہ نہیں ہے،
بلکہ دوسری حدیث میں توسواری کا لفظ ہے،
کسی بھی سواری پر صادق آتا ہے۔

2؎:
پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے قابو میں کیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے جو اسے ناتھ پہنا سکتے،
لگام دے سکتے،
ہم اپنے رب کے پاس پلٹ کر جانے والے ہیں۔

3؎:
پاک ہے تو اے اللہ! بے شک میں نے اپنی جان کے حق میں ظلم و زیادتی کی ہے تو مجھے بخش دے،
کیوں کہ تیرے سوا کوئی ظلم معاف کرنے والا نہیں ہے۔

نوٹ:
(سند میں ابو اسحاق مختلط راوی ہیں،
اس لیے اس کی روایت میں اضطراب کا شکار بھی ہوئے ہیں،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
ملاحظہ ہو:
صحیح أبي داؤد رقم: 2342)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3446]

Sunan Abi Dawud Hadith 2602 in Urdu