یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
120. باب في النهى عن المثلة
باب: مثلہ (ناک، کان کاٹنے) کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ الْهَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ، أَنَّ عِمْرَانَ أَبَقَ لَهُ غُلَامٌ، فَجَعَلَ لِلَّهِ عَلَيْهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ، فَأَرْسَلَنِي لِأَسْأَلَ لَهُ، فَأَتَيْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ، فَأَتَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ.
ہیاج بن عمران برجمی سے روایت ہے کہ عمران (یعنی: ہیاج کے والد) کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ اگر وہ اس پر قادر ہوئے تو ضرور بالضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، پھر انہوں نے مجھے اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ ۱؎ سے روکتے تھے، پھر میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے (بھی) پوچھا: تو انہوں نے (بھی) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ سے روکتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2667]
سیدنا ہیاج بن عمران سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ (میرے والد) عمران کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کی قسم کھائی کہ ”اگر وہ میرے ہاتھ آ گیا تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں گا۔“ پس انہوں نے مجھے (ہیاج کو) بھیجا کہ میں یہ مسئلہ پوچھوں۔ تو میں سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ دینے کی ترغیب دیا کرتے تھے اور (مقتول کا) مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔“ میں پھر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے بھی دریافت کیا، تو انہوں نے بھی یہی کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ دینے کی ترغیب دیا کرتے تھے اور مقتول کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4637، 10867)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/428، 429)، سنن الدارمی/الزکاة 24 (1697) (صحیح)» (متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ ہیاج لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: مقتول کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل و صورت کو بگاڑ دینے کو مثلہ کہا جاتا ہے، مثلہ کا عمل درست نہیں ہے البتہ اگر کسی کافر نے کسی مقتول مسلم کا مثلہ کیا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کا مثلہ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینیوں کے ساتھ کیا تھا، اسی طرح اگر کسی مسلمان نے کسی مسلمان کے ساتھ مثلہ کیا ہے تو بطور قصاص اس کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
وحديث أحمد (5/ 20) يغني عن ھذا الحديث
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 97
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
وحديث أحمد (5/ 20) يغني عن ھذا الحديث
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 97
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2667
| يحثنا على الصدقة ينهانا عن المثلة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2667 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2667
فوائد ومسائل:
مقتول کو قتل کرنے کے بعد اس کے اعضاء کاٹنا یا اس کی شکل بگاڑنا ناجائز ہے۔
اور ایسے ہی قتل سے پہلے بھی یہ عمل ناجائز ہے۔
الا یہ کہ قصاص کی کوئی صورت ہو۔
جیسے قبیلہ عکل وعرینہ کے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔
مقتول کو قتل کرنے کے بعد اس کے اعضاء کاٹنا یا اس کی شکل بگاڑنا ناجائز ہے۔
اور ایسے ہی قتل سے پہلے بھی یہ عمل ناجائز ہے۔
الا یہ کہ قصاص کی کوئی صورت ہو۔
جیسے قبیلہ عکل وعرینہ کے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2667]
Sunan Abi Dawud Hadith 2667 in Urdu
سمرة بن جندب الفزاري ← عمران بن حصين الأزدي