🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
120. باب في النهى عن المثلة
باب: مثلہ (ناک، کان کاٹنے) کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ الْهَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ، أَنَّ عِمْرَانَ أَبَقَ لَهُ غُلَامٌ، فَجَعَلَ لِلَّهِ عَلَيْهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ، فَأَرْسَلَنِي لِأَسْأَلَ لَهُ، فَأَتَيْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ، فَأَتَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ.
ہیاج بن عمران برجمی سے روایت ہے کہ عمران (یعنی: ہیاج کے والد) کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ اگر وہ اس پر قادر ہوئے تو ضرور بالضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، پھر انہوں نے مجھے اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ ۱؎ سے روکتے تھے، پھر میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے (بھی) پوچھا: تو انہوں نے (بھی) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ سے روکتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2667]
سیدنا ہیاج بن عمران سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ (میرے والد) عمران کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کی قسم کھائی کہ اگر وہ میرے ہاتھ آ گیا تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں گا۔ پس انہوں نے مجھے (ہیاج کو) بھیجا کہ میں یہ مسئلہ پوچھوں۔ تو میں سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ دینے کی ترغیب دیا کرتے تھے اور (مقتول کا) مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ میں پھر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے بھی دریافت کیا، تو انہوں نے بھی یہی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ دینے کی ترغیب دیا کرتے تھے اور مقتول کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4637، 10867)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/428، 429)، سنن الدارمی/الزکاة 24 (1697) (صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ ہیاج لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: مقتول کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل و صورت کو بگاڑ دینے کو مثلہ کہا جاتا ہے، مثلہ کا عمل درست نہیں ہے البتہ اگر کسی کافر نے کسی مقتول مسلم کا مثلہ کیا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کا مثلہ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینیوں کے ساتھ کیا تھا، اسی طرح اگر کسی مسلمان نے کسی مسلمان کے ساتھ مثلہ کیا ہے تو بطور قصاص اس کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
وحديث أحمد (5/ 20) يغني عن ھذا الحديث
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 97

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمان
Newسمرة بن جندب الفزاري ← عمران بن حصين الأزدي
صحابي
👤←👥هياج بن عمران التميمي، أبو الهياج
Newهياج بن عمران التميمي ← سمرة بن جندب الفزاري
مقبول
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← هياج بن عمران التميمي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله
Newمعاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← معاذ بن هشام الدستوائي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2667
يحثنا على الصدقة ينهانا عن المثلة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2667 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2667
فوائد ومسائل:
مقتول کو قتل کرنے کے بعد اس کے اعضاء کاٹنا یا اس کی شکل بگاڑنا ناجائز ہے۔
اور ایسے ہی قتل سے پہلے بھی یہ عمل ناجائز ہے۔
الا یہ کہ قصاص کی کوئی صورت ہو۔
جیسے قبیلہ عکل وعرینہ کے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2667]

Sunan Abi Dawud Hadith 2667 in Urdu