سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
131. باب في فداء الأسير بالمال
باب: قیدی کو مال لے کر رہا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2694
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَمَنْ مَسَكَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَإِنَّ لَهُ بِهِ عَلَيْنَا سِتَّ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَلَيْنَا، ثُمَّ دَنَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعِيرٍ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ شَيْءٌ وَلَا هَذَا، وَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ إِلَّا الْخُمُسَ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ. فَقَامَ رَجُلٌ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ: أَخَذْتُ هَذِهِ لِأُصْلِحَ بِهَا بَرْذَعَةً لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا مَا كَانَ لِي وَ لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ، فَقَالَ: أَمَّا إِذْ بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلَا أَرَبَ لِي فِيهَا وَنَبَذَهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اسی قصہ کی روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس لوٹا دو، اور جو کوئی اس مال غنیمت سے اپنا حصہ باقی رکھنا چاہے تو ہم اس کو اس پہلے مال غنیمت سے جو اللہ ہمیں دے گا چھ اونٹ دیں گے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب آئے اور اس کی کوہان سے ایک بال لیا پھر فرمایا: ”لوگو! میرے لیے اس مال غنیمت سے کچھ بھی حلال نہیں ہے“، اور اپنی دونوں انگلیاں اٹھا کر کہا: ”یہاں تک کہ یہ (بال) بھی حلال نہیں سوائے خمس (پانچواں حصہ) کے، اور خمس بھی تمہارے ہی اوپر لوٹا دیا جاتا ہے، لہٰذا تم سوئی اور دھاگا بھی ادا کر دو“ (یعنی بیت المال میں جمع کر دو)، ایک شخص کھڑا ہو اس کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا، اس نے کہا: میں نے اس کو پالان کے نیچے کی کملی درست کرنے کے لیے لیا تھا؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ تو وہ تمہارے لیے ہے“، تو اس نے کہا: جب معاملہ اتنا اہم ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور اس نے اسے (غنیمت کے مال میں) پھینک دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2694]
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے، (شعیب) اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے اس واقعہ کے سلسلے میں بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں کی عورتیں اور بچے انہیں لوٹا دو اور جو کوئی بلا عوض واپس نہ کرنا چاہے تو ہمارا اس سے وعدہ ہے کہ پہلی پہلی غنیمت جو اللہ تعالیٰ ہمیں عنایت فرمائے گا اس میں سے چھ اونٹ اسے دیے جائیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے قریب ہوئے اور اس کے کوہان سے کچھ بال لیے اور فرمایا: ”لوگو! اس غنیمت میں سے میرے لیے خمس (پانچویں حصے) کے سوا کچھ نہیں ہے، اس قدر (بال) بھی نہیں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کرتے ہوئے اپنی انگلی بلند فرمائی اور فرمایا: ”یہ خمس بھی تم لوگوں ہی میں تقسیم ہو گا، لہٰذا سوئی اور دھاگے تک واپس کر دو۔“ چنانچہ ایک آدمی کھڑا ہوا، اس کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا سا تھا، وہ بولا: ”میں نے یہ بال لیے ہیں تاکہ پالان کے نیچے کی گدی درست کر لوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرا ذاتی حصہ ہے یا بنی عبدالمطلب کا، وہ تم لے سکتے ہو (دوسروں کا نہیں)۔“ اس نے کہا: ”اگر اس کا اتنا گناہ ہے جو میں دیکھ رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں“ اور اس نے گچھا پھینک دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الھبة 1 (3690)، (تحفة الأشراف: 8782)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/184، 218) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غنیمت کے مال میں سے چوری کرنا گناہ عظیم ہے، جو کچھ ملے سب امام کے پاس جمع کر دیا جائے پھر وہ تقسیم کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4025)
أخرجه النسائي (3718 وسنده حسن) وھو في السيرة لابن ھشام (203بتحقيقي) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن الجارود (1080) وغيره
مشكوة المصابيح (4025)
أخرجه النسائي (3718 وسنده حسن) وھو في السيرة لابن ھشام (203بتحقيقي) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن الجارود (1080) وغيره
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2694
| ردوا عليهم نساءهم وأبناءهم من مسك بشيء من هذا الفيء فإن له به علينا ست فرائض من أول شيء يفيئه الله علينا ليس لي من هذا الفيء شيء ولا هذا ورفع أصبعيه إلا الخمس والخمس مردود عليكم ما كان لي و لبني عبد المطلب فهو لك فقال أما إذ بلغت ما أرى فلا أرب لي فيها ون |
سنن النسائى الصغرى |
4144
| ليس لي من الفيء شيء ولا هذه إلا الخمس والخمس مردود فيكم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2694 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2694
فوائد ومسائل:
1۔
مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہمیشہ سچی اور صاف بات کیا کریں۔
2۔
مسلمانوں کے قائد کو یہ بھی حق نہیں کہ ان کی ولی ر ضا مندی کے بغیر ان کے مال پرکوئی تصرف کرے۔
3۔
اگر اجتماعی مصلحت کے تحت کوئی تصرف کرتا ہو تو اس کاعو ض ادا کرنا لازمی ہے۔
4۔
حسب مصلحت قیدیوں کو فدیہ لئے بغیر آذاد کرنا جائز ہے۔
5۔
قومی امانت میں معمولی خیانت بھی جرم عظیم ہے۔
لہذا منصب داروں کو فکرکرنی چاہیے۔
اور خبر دار رہنا چاہیے۔
6۔
ہر قوم اور جماعت کو اجتماعی نظم قائم کرتے ہوئے اپنا امیر اور نمائندہ منتخب کرنا چاہیے جو اجتماعی امور میں ان کی نمائندگی کرے۔
1۔
مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہمیشہ سچی اور صاف بات کیا کریں۔
2۔
مسلمانوں کے قائد کو یہ بھی حق نہیں کہ ان کی ولی ر ضا مندی کے بغیر ان کے مال پرکوئی تصرف کرے۔
3۔
اگر اجتماعی مصلحت کے تحت کوئی تصرف کرتا ہو تو اس کاعو ض ادا کرنا لازمی ہے۔
4۔
حسب مصلحت قیدیوں کو فدیہ لئے بغیر آذاد کرنا جائز ہے۔
5۔
قومی امانت میں معمولی خیانت بھی جرم عظیم ہے۔
لہذا منصب داروں کو فکرکرنی چاہیے۔
اور خبر دار رہنا چاہیے۔
6۔
ہر قوم اور جماعت کو اجتماعی نظم قائم کرتے ہوئے اپنا امیر اور نمائندہ منتخب کرنا چاہیے جو اجتماعی امور میں ان کی نمائندگی کرے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2694]
Sunan Abi Dawud Hadith 2694 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي