یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
152. باب في المرأة والعبد يحذيان من الغنيمة
باب: عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2727
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ كَذَا وَكَذَا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ، وَعَنِ الْمَمْلُوكِ أَلَهُ فِي الْفَيْءِ شَيْءٌ، وَعَنِ النِّسَاءِ هَلْ كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَلْ لَهُنَّ نَصِيبٌ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْلَا أَنْ يَأْتِيَ أُحْمُوقَةً مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، أَمَّا الْمَمْلُوكُ فَكَانَ يُحْذَى، وَأَمَّا النِّسَاءُ فَقَدْ كُنَّ يُدَاوِينَ الْجَرْحَى وَيَسْقِينَ الْمَاءَ.
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ ۱؎ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا وہ ان سے فلاں فلاں چیزوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا اور غلام کے بارے میں کہ (اگر جہاد میں جائے) تو کیا غنیمت میں اس کو حصہ ملے گا؟ اور کیا عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جاتی تھیں؟ کیا انہیں حصہ ملتا تھا؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ وہ احمقانہ حرکت کرے گا تو میں اس کو جواب نہ لکھتا (پھر انہوں نے اسے لکھا:) رہے غلام تو انہیں بطور انعام کچھ دے دیا جاتا تھا، (اور ان کا حصہ نہیں لگتا تھا) اور رہیں عورتیں تو وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور پانی پلاتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2727]
یزید بن ہرمز نے بیان کیا کہ نجدہ (حروری، جو کہ خوارج کا سردار تھا) نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو کئی سوالات لکھ کر بھیجے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ ”کیا غلام کا غنیمت میں کوئی حصہ ہوتا ہے؟“ اور عورتوں کے متعلق پوچھا کہ ”کیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جایا کرتی تھیں؟ اور کیا غنیمت میں ان کا کوئی حصہ ہے یا نہیں؟“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ کوئی حماقت کرے گا تو میں اسے جواب نہ دیتا۔“ (آپ نے لکھا کہ) ”غلام کو انعام دیا جاتا تھا، اور عورتیں زخمیوں کا علاج معالجہ کیا کرتی تھیں اور پانی پلایا کرتی تھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجھاد 48 (1812)، سنن الترمذی/السیر 8 (1556)، سنن النسائی/الفیٔ (4138)، مسند احمد (1/248، 294، 308، 320، 344، 349، 352)، (تحفة الأشراف: 6557) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: نجدہ حروری جو خوارج کا سردار تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1812)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2727
| لولا أن يأتي أحموقة ما كتبت إليه أما المملوك فكان يحذى أما النساء فقد كن يداوين الجرحى ويسقين الماء |
مسندالحميدي |
542
| وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يقتلهم وأنت لا تقتلهم |
Sunan Abi Dawud Hadith 2727 in Urdu
يزيد بن هرمز الليثي ← عبد الله بن العباس القرشي