🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
152. باب في المرأة والعبد يحذيان من الغنيمة
باب: عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2729
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، وَغَيْرُهُ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي حَشْرَجُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَادِسَ سِتِّ نِسْوَةٍ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ إِلَيْنَا فَجِئْنَا فَرَأَيْنَا فِيهِ الْغَضَبَ فَقَالَ:" مَعَ مَنْ خَرَجْتُنَّ وَبِإِذْنِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْنَا نَغْزِلُ الشَّعَرَ وَنُعِينُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعَنَا دَوَاءُ الْجَرْحَى وَنُنَاوِلُ السِّهَامَ وَنَسْقِي السَّوِيقَ، فَقَالَ: قُمْنَ. حتَّى إِذَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ أَسْهَمَ لَنَا كَمَا أَسْهَمَ لِلرِّجَالِ قَالَ: قُلْتُ لَهَا: يَا جَدَّةُ وَمَا كَانَ ذَلِكَ قَالَتْ: تَمْرًا".
حشرج بن زیاد اپنی دادی (ام زیاد اشجعیہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جنگ میں نکلیں، یہ چھ عورتوں میں سے چھٹی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا، ہم آئے تو ہم نے آپ کو ناراض دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کس کے ساتھ نکلیں؟ اور کس کے حکم سے نکلیں؟ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نکل کر بالوں کو بٹ رہی ہیں، اس سے اللہ کی راہ میں مدد پہنچائیں گے، ہمارے پاس زخمیوں کی دوا ہے، اور ہم مجاہدین کو تیر دیں گے، اور ستو گھول کر پلائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا چلو یہاں تک کہ جب خیبر فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی ویسے ہی حصہ دیا جیسے کہ مردوں کو دیا، حشرج بن زیاد کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا: دادی! وہ حصہ کیا تھا؟ تو وہ کہنے لگیں: کچھ کھجوریں تھیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2729]
سیدنا حشرج بن زیاد اپنی دادی (ام زیاد اشجعیہ رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوئی تھیں اور وہ چھ میں سے چھٹی عورت تھیں، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلوا بھیجا، ہم حاضر خدمت ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصے میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کس کے ساتھ اور کس کی اجازت سے آئی ہو؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آئی ہیں، بال بٹتی ہیں اور اس سے جہاد میں مدد کرتی ہیں، ہمارے پاس زخمیوں کے لیے دوا دارو بھی ہے، ہم تیر اکٹھے کر کے دیتی ہیں اور ستو پلاتی ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ۔ (کوئی بات نہیں) حتیٰ کہ جب اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خیبر فتح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی حصہ عنایت فرمایا، جیسے کہ مردوں کو دیا تھا، میں نے پوچھا: دادی اماں! وہ کیا تھا؟ کہا: کھجور۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18319)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/271، 371) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة رافع اور حشرج دونوں مجہول ہیں، اور بعض ائمہ کے نزدیک رافع لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ ضعیف روایت ہے اس سے استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ صحیح روایت کے مطابق جہاد میں شریک ہونے والی عورتوں کا مال غنیمت میں کوئی متعین حصہ نہیں ہے البتہ انہیں ایسے ہی کچھ دے دیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حشرج بن زياد :لا يعرف ولم يوثقه غير ابن حبان وقال الحافظ في التلخيص الحبير (104/3): ’’ مجهول‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 99
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سالم الأشجعية، أم زيادصحابي
👤←👥حشرج بن زياد الأشجعي
Newحشرج بن زياد الأشجعي ← أم سالم الأشجعية
مجهول الحال
👤←👥رافع بن سلمة الأشجعى
Newرافع بن سلمة الأشجعى ← حشرج بن زياد الأشجعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين
Newزيد بن الحباب التميمي ← رافع بن سلمة الأشجعى
صدوق حسن الحديث
👤←👥إبراهيم بن سعيد الجوهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعيد الجوهري ← زيد بن الحباب التميمي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2729
حتى إذا فتح الله عليه خيبر أسهم لنا كما أسهم للرجال قال قلت لها يا جدة وما كان ذلك قالت تمرا
Sunan Abi Dawud Hadith 2729 in Urdu