🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
152. باب في المرأة والعبد يحذيان من الغنيمة
باب: عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2730
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَعْنَاهُ أَنَّهُ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: كَانَ حَرَّمَ اللَّحْمَ عَلَى نَفْسِهِ فَسُمِّيَ آبِي اللَّحْمِ.
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ مجھ سے عمیر مولی آبی اللحم نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ میں جنگ خیبر میں اپنے مالکوں کے ساتھ گیا، انہوں نے میرے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ نے مجھے (ہتھیار پہننے اور مجاہدین کے ساتھ رہنے کا) حکم دیا، چنانچہ میرے گلے میں ایک تلوار لٹکائی گئی تو میں اسے (اپنی کم سنی اور کوتاہ قامتی کی وجہ سے زمین پر) گھسیٹ رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ نے مجھے گھر کے سامانوں میں سے کچھ سامان دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں (آبی اللحم) نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا، اسی وجہ سے ان کا نام آبی اللحم رکھ دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2730]
سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ جو کہ سیدنا آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، بیان کرتے ہیں: میں اپنے مالکوں کے ساتھ غزوہ خیبر میں حاضر ہوا تو انہوں نے میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے متعلق حکم دیا، میری گردن میں ایک تلوار لٹکا دی گئی، میں اسے گھسیٹنے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ غلام ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے متعلق فرمایا: اور مجھے گھر کے اسباب میں سے کچھ بطور انعام دیا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت میں سے حصہ نہیں دیا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا ہے: ابو عبید نے بیان کیا کہ راویِ حدیث (آبی اللحم) کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ انہوں نے گوشت کو اپنے لیے حرام کر لیا تھا، اس لیے انہیں «آبِي اللَّحْمِ» آبی اللحم کہا جاتا تھا (گوشت سے انکار کرنے والا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/السیر 9 (1557)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 37 (2855)، (تحفة الأشراف: 10898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/223)، سنن الدارمی/ السیر 35 (2518) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4005)
أخرجه الترمذي (1557 وسنده صحيح)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمير مولى آبي اللحمصحابي
👤←👥محمد بن زيد القرشي، أبو بكر
Newمحمد بن زيد القرشي ← عمير مولى آبي اللحم
ثقة
👤←👥بشر بن المفضل الرقاشي، أبو إسماعيل
Newبشر بن المفضل الرقاشي ← محمد بن زيد القرشي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← بشر بن المفضل الرقاشي
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1557
أمر بي فقلدت السيف فإذا أنا أجره فأمر لي بشيء من خرثي المتاع وعرضت عليه رقية كنت أرقي بها المجانين فأمرني بطرح بعضها وحبس بعضها
سنن أبي داود
2730
أمر بي فقلدت سيفا فإذا أنا أجره فأخبر أني مملوك فأمر لي بشيء من خرثي المتاع
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2730 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2730
فوائد ومسائل:
ان کا اصل نام عب اللہ بن عبد الملک بن عبد اللہ بن غفار ہے۔
(الإصابة)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2730]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1557
مال غنیمت میں غلام کے حصے کا بیان۔
عمیر مولیٰ ابی اللحم رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے مالکان کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے سلسلے میں گفتگو کی اور آپ کو بتایا کہ میں غلام ہوں، چنانچہ آپ نے حکم دیا اور میرے جسم پر تلوار لٹکا دی گئی، میں (کوتاہ قامت ہونے اور تلوار کے بڑی ہونے کے سبب) اسے گھسیٹتا تھا، آپ نے میرے لیے مال غنیمت سے کچھ سامان دینے کا حکم دیا، میں نے آپ کے سامنے وہ دم، جھاڑ پھونک پیش کیا جس سے میں دیوانوں کو جھاڑ پھونک کرتا تھا، آپ نے مجھے اس کا کچھ حصہ چھوڑ دینے اور کچھ یاد رکھنے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1557]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جو حصہ قرآن وحدیث کے خلاف تھا اسے چھوڑدینے اور شرک سے خالی کلمات کو باقی رکھنے کوکہا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1557]

Sunan Abi Dawud Hadith 2730 in Urdu