🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
159. باب في السرية ترد على أهل العسكر
باب: اس فوجی دستہ کا بیان جو واپس لوٹ کر لشکر میں مل جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2752
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَغَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلَ رَاعِيَهَا فَخَرَجَ يَطْرُدُهَا هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ فِي خَيْلٍ، فَجَعَلْتُ وَجْهِي قِبَلَ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: يَا صَبَاحَاهُ، ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ فَجَعَلْتُ أَرْمِي وَأَعْقِرُهُمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ، جَلَسْتُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جَعَلْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي، وَحَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ رُمْحًا وَثَلَاثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ مِنْهَا، ثُمَّ أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ مَدَدًا فَقَالَ: لِيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ، فَقَامَ إِلَيَّ أَرْبَعَةٌ مِنْهُمْ فَصَعِدُوا الْجَبَلَ فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمْ قُلْتُ: أَتَعْرِفُونِي قَالُوا: وَمَنْ أَنْتَ قُلْتُ: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ فَيُدْرِكُنِي وَلَا أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ، فَيَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ الْأَخْرَمُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ فَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ، فَيَلْحَقُ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَيْنِ فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ وَقَتَلَهُ أَبُو قَتَادَةَ فَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي جَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ ذُو قَرَدٍ فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسِ مِائَةٍ فَأَعْطَانِي سَهْمَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ.
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عیینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ لیا، آپ کے چرواہے کو مار ڈالا، اور اونٹوں کو ہانکتا ہوا وہ اور اس کے ساتھ کچھ لوگ جو گھوڑوں پر سوار تھے چلے، تو میں نے اپنا رخ مدینہ کی طرف کیا، اور تین بار پکار کر کہا «يا صباحاه» (اے صبح کا حملہ) ۱؎، اس کے بعد میں لٹیروں کے پیچھے چلا، ان کو تیر مارتا اور زخمی کرتا جاتا تھا، جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف پلٹتا تو میں کسی درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے اونٹوں کو میں نے اپنے پیچھے کر دیا، انہوں نے اپنا بوجھ کم کرنے کے لیے تیس سے زائد نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں نیچے پھینک دیں، اتنے میں عیینہ ان کی مدد کے لیے آ پہنچا، اور اس نے کہا: تم میں سے چند آدمی اس شخص کی طرف (یعنی سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ) کی طرف جائیں (اور اسے قتل کر دیں) چنانچہ ان میں سے چار آدمی میری طرف آئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے، جب اتنے فاصلہ پر ہوئے کہ میں ان کو اپنی آواز پہنچا سکوں تو میں نے کہا: تم مجھے پہچانتے ہو، انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں اکوع کا بیٹا ہوں، قسم اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بزرگی عنایت کی، تم میں سے کوئی شخص مجھے پکڑنا چاہے تو کبھی نہ پکڑ سکے گا، اور میں جس کو چاہوں گا وہ بچ کر جا نہ سکے گا، پھر تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں کو دیکھا کہ درختوں کے بیچ سے چلے آ رہے ہیں، ان میں سب سے آگے اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے، وہ عبدالرحمٰن بن عیینہ فزاری سے جا ملے، عبدالرحمٰن نے ان کو دیکھا تو دونوں میں بھالا چلنے لگا، اخرم رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کے گھوڑے کو مار ڈالا، اور عبدالرحمٰن نے اخرم رضی اللہ عنہ کو مار ڈالا، پھر عبدالرحمٰن اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو گیا، اس کے بعد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو جا لیا، دونوں میں بھالا چلنے لگا، تو اس نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو مار ڈالا، اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو مار ڈالا، پھر ابوقتادہ اخرم کے گھوڑے پر سوار ہو گئے، اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ ذو قرد نامی چشمے پر تھے جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگایا تھا تو دیکھتا ہوں کہ آپ پانچ سو آدمیوں کے ساتھ موجود ہیں، آپ نے مجھے سوار اور پیدل دونوں کا حصہ دیا ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2752]
ایاس بن سلمہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عیینہ (فزاری) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لوٹ لیے، ان کے چرواہے کو قتل کر ڈالا اور پھر وہ اور اس کے گھوڑ سوار ساتھی انہیں ہانکتے ہوئے چل نکلے۔ (مجھے خبر ہوئی) تو میں نے اپنا منہ مدینہ کی طرف کیا اور تین بار یہ ہانک لگائی «يَا صَبَاحَاهُ» لوگو! مدد کو پہنچو، ہم کو دشمن نے لوٹ لیا ہے، پھر میں (دوڑتے ہوئے) ان لوگوں کے پیچھے ہو لیا، تیر مارتا جاتا تھا اور ان کی سواریوں کو زخمی کرتا جا رہا تھا، اگر ان میں سے کوئی گھوڑ سوار میری طرف پلٹتا تو میں کسی درخت کی اوٹ میں ہو جاتا حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سواریاں جو اللہ نے پیدا فرمائی تھیں میں نے ان کو اپنے پیچھے (اپنے قبضے میں) کر لیا۔ اور ان لوگوں نے اپنا بوجھ ہلکا کرنے کی غرض سے تیس سے زیادہ بھالے اور تیس چادریں پھینک دیں۔ پھر عیینہ بھی ان کی مدد کو آن پہنچا تو اس نے کہا: تم میں سے کچھ آدمی اس (سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کی طرف ہو جاؤ۔ تو ان میں سے چار آدمی میری طرف آئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے۔ میں نے بلند آواز سے انہیں کہا: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں اکوع کا فرزند ہوں، اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی ہے! یہ نہیں ہو سکتا کہ تم میں سے کوئی مجھے پکڑنا چاہے تو میں اس کے ہاتھ آ جاؤں اور اگر میں پکڑنا چاہوں تو وہ بھاگ نکلے۔ پھر تھوڑی دیر گزری تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار درختوں میں سے (دوڑے) آ رہے ہیں۔ ان میں سب سے آگے سیدنا اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ عبدالرحمٰن بن عیینہ کے مقابلے میں ہو گئے، عبدالرحمٰن ان پر پلٹا اور پھر دونوں میں ایک دوسرے پر نیزے چلائے۔ چنانچہ اخرم اسدی رضی اللہ عنہ نے اس (عبدالرحمٰن) کا گھوڑا زخمی کر دیا اور عبدالرحمٰن نے اخرم رضی اللہ عنہ کو نیزہ مارا اور ان کو شہید کر دیا۔ پھر عبدالرحمٰن، اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو گیا تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ، عبدالرحمٰن کے مقابلے میں آ گئے۔ ان کے مابین بھی نیزے کے حملوں کا تبادلہ ہوا۔ اس نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کا گھوڑا زخمی کر دیا لیکن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو قتل کر ڈالا۔ پھر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ، اخرم رضی اللہ عنہ والے گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چشمے پر تشریف لے آئے تھے جہاں سے میں نے ان کو بھگایا تھا۔ اس کا نام ذوقرد تھا۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ سو سوار لیے ہوئے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک شہسوار اور ایک پیدل کا حصہ عنایت فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4527)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجھاد 45 (1806)، مسند احمد (4/48) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: يا صباحاه: یہ وہ کلمہ ہے جسے عام طور سے فریادی کہا کرتے تھے۔
۲؎: تو تین حصے دیئے یا چار، انہوں نے کام ہی ایسا کیا تھا کہ جو بہت سے آدمیوں سے نہ ہوتا، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواروں میں آج سب سے بہتر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ہیں، اور پیادوں میں سب سے بہتر سلمہ بن الاکوع ہیں ، پھر سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے عضباء نامی اونٹی پر بیٹھا لیا، اور مدینے تک اسی طرح آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کو ایک سوار کا حصہ دیا، اور ایک پیدل کا، اس میں دو احتمال ہے: ایک یہ کہ چار حصے دیئے، دوسرے یہ کہ تین حصے دئیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سوار کے حصہ میں اختلاف ہے، جن لوگوں کے نزدیک سوار کے تین حصے ہیں، ایک حصہ خود اس کا، دو حصہ اس کے گھوڑے کا، اور جن کے نزدیک سوار کے دو حصے ہیں، ایک حصہ اس کا، اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح مسلم (1807)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمة بن الأكوع الأسلمي، أبو مسلم، أبو إياس، أبو عامرصحابي
👤←👥إياس بن سلمة الأسلمي، أبو بكر، أبو سلمة
Newإياس بن سلمة الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي
ثقة
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← إياس بن سلمة الأسلمي
صدوق يغلط
👤←👥هاشم بن القاسم الليثي، أبو النضر
Newهاشم بن القاسم الليثي ← عكرمة بن عمار العجلي
ثقة ثبت
👤←👥هارون بن عبد الله البزاز، أبو موسى
Newهارون بن عبد الله البزاز ← هاشم بن القاسم الليثي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2752
أغار عبد الرحمن بن عيينة على إبل رسول الله فقتل راعيها فخرج يطردها هو وأناس معه في خيل فجعلت وجهي قبل المدينة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2752 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2752
فوائد ومسائل:
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ انتہائی تیز رفتار بہادر جوان تھے۔
انہیں ان کی اسی جراءت وبہادری کا اضافی انعام دیا گیا اور باقی دوسرے مجاہدین میں تقسیم ہوا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2752]

Sunan Abi Dawud Hadith 2752 in Urdu