علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
174. باب في سجود الشكر
باب: سجدہ شکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2774
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَنِي أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ: إِذَا جَاءَهُ أَمْرُ سُرُورٍ، أَوْ بُشِّرَ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شَاكِرًا لِلَّهِ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی خوشی کی بات آتی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خوشخبری سنائی جاتی تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2774]
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی خوشی کی خبر آتی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا شکر کرتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/السیر 25 (1578)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 192 (1394)، (تحفة الأشراف: 11698) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسے سجدہ شکر کہتے ہیں، جو ائمہ اسلام شافعی، احمد، اور محمد کے نزدیک مسنون اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک مکروہ ہے، یہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1494)
أخرجه الترمذي (1578 وسنده حسن) وابن ماجه (1394 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (1494)
أخرجه الترمذي (1578 وسنده حسن) وابن ماجه (1394 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1578
| خر لله ساجدا |
سنن أبي داود |
2774
| بشر به خر ساجدا شاكرا لله |
سنن ابن ماجه |
1394
| إذا أتاه أمر يسره خر ساجدا شكرا لله |
بلوغ المرام |
277
| إذا جاءه خبر يسره خر ساجدا لله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2774 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2774
فوائد ومسائل:
انسان کو جب کوئی خوشی کی خبر ملے تو سجدہ کرنا مسنون ومستحب ہے۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توبہ قبول ہوئی۔
تو انہوں نے سجدہ شکر کیا۔
(بخاری 4418) اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل بھی یہی تھا۔
انسان کو جب کوئی خوشی کی خبر ملے تو سجدہ کرنا مسنون ومستحب ہے۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توبہ قبول ہوئی۔
تو انہوں نے سجدہ شکر کیا۔
(بخاری 4418) اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل بھی یہی تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2774]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 277
سجود سہو وغیرہ کا بیان
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشخبری ملتی تو اللہ کے حضور سجدے میں گر پڑتے۔
نسائی کے علاوہ پانچوں نے اسے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 277»
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشخبری ملتی تو اللہ کے حضور سجدے میں گر پڑتے۔
نسائی کے علاوہ پانچوں نے اسے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 277»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في سجود الشكر، حديث:2774، والترمذي، السير، حديث:1578، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1394، وأحمد:5 /45.» تشریح:
1. کسی نئی نعمت کے حاصل ہونے پر‘ کسی مصیبت سے بچ نکلنے پر اور کسی خوشی و مسرت کے موقع پر سجدۂ شکر بجا لانا شریعت سے ثابت ہے۔
2. حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول ہوئی تو انھوں نے سجدۂ شکر کیا۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل بھی یہی تھا جیسا کہ درج ذیل روایت میں مروی ہے۔
«أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في سجود الشكر، حديث:2774، والترمذي، السير، حديث:1578، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1394، وأحمد:5 /45.»
1. کسی نئی نعمت کے حاصل ہونے پر‘ کسی مصیبت سے بچ نکلنے پر اور کسی خوشی و مسرت کے موقع پر سجدۂ شکر بجا لانا شریعت سے ثابت ہے۔
2. حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول ہوئی تو انھوں نے سجدۂ شکر کیا۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل بھی یہی تھا جیسا کہ درج ذیل روایت میں مروی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 277]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1578
جنگ میں فتح کی خبر سن کر سجدہ شکر کا بیان۔
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خبر آئی، آپ اس سے خوش ہوئے اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گر گئے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1578]
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خبر آئی، آپ اس سے خوش ہوئے اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گر گئے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1578]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا سجدئہ شکر بجالانا صحیح روایات سے ثابت ہے،
اور مسیلمہ کذاب کے قتل کی خبر سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی سجدہ میں گرگئے تھے،
گویا ایسی خبر جس سے دل کو خوشی ومسرت حاصل ہو اس پرسجدہ شکر بجالانا مشروع ہے۔
وضاحت:
1؎:
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا سجدئہ شکر بجالانا صحیح روایات سے ثابت ہے،
اور مسیلمہ کذاب کے قتل کی خبر سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی سجدہ میں گرگئے تھے،
گویا ایسی خبر جس سے دل کو خوشی ومسرت حاصل ہو اس پرسجدہ شکر بجالانا مشروع ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1578]
Sunan Abi Dawud Hadith 2774 in Urdu
عبد العزيز بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي