یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب ما يستحب من الضحايا
باب: کس قسم کا جانور قربانی میں بہتر ہوتا ہے؟
حدیث نمبر: 2795
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ:" إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ وَعَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ"، ثُمَّ ذَبَحَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن سینگ دار ابلق خصی کئے ہوئے دو دنبے ذبح کئے، جب انہیں قبلہ رخ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض على ملة إبراهيم حنيفا وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له، وبذلك أمرت وأنا من المسلمين، اللهم منك ولك وعن محمد وأمته باسم الله والله أكبر» ”میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں ابراہیم کے دین پر ہوں، کامل موحد ہوں، مشرکوں میں سے نہیں ہوں بیشک میری نماز میری تمام عبادتیں، میرا جینا اور میرا مرنا خالص اس اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی عطا ہے، اور خاص تیری رضا کے لیے ہے، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول کر، (بسم اللہ واللہ اکبر) اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ بہت بڑا ہے“ پھر ذبح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2795]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن دو مینڈھے ذبح کیے جو سینگوں والے، چتکبرے اور خصی تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبلہ رخ کیا تو یہ دعا پڑھی: « ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾ [سورة الأنعام: 79] عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ﴿وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ، ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، وَعَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ، بِاسْمِ اللہِ، وَاللہُ أَكْبَرُ» ”میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، میں ملت ابراہیم پر ہوں اور یک سو ہوں، اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں، بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہان والوں کا پالنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اطاعت گزاروں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ (قربانی) تیری طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، اسے محمد اور اس کی امت کی طرف سے قبول فرما، اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذبح کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2795]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأضاحي 1 (3121)، (تحفة الأشراف: 3166)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي 22 (1521)، مسند احمد (3/356، 362، 375)، سنن الدارمی/الأضاحي 1 (1989) (حسن)» (اس کے راوی ابوعیاش مصری مجہول، لین الحدیث ہیں، لیکن تابعی ہیں، اور تین ثقہ راویوں نے ان سے روایت کی ہے، نیز حدیث کی تصحیح ابن خزیمہ، حاکم، اور ذھبی نے کی ہے، البانی نے پہلے اسے ضعیف ابی داود میں رکھا تھا، پھر تحسین کے بعد اسے صحیح ابی داود میں داخل کیا) (8؍ 142)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن إسحاق لم يصرح في ھذه الرواية و صرح في رواية أخري و ليس فيھا : موجئين و حديث ابن خزيمة (2899 وسنده حسن) يغني عنه
انظر سنن ابن ماجه بتحقيقي (الأصل : 3121)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 101
إسناده ضعيف
محمد بن إسحاق لم يصرح في ھذه الرواية و صرح في رواية أخري و ليس فيھا : موجئين و حديث ابن خزيمة (2899 وسنده حسن) يغني عنه
انظر سنن ابن ماجه بتحقيقي (الأصل : 3121)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 101
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1521
| أتي بكبش فذبحه رسول الله بيده وقال بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي |
سنن أبي داود |
2795
| وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض على ملة إبراهيم حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم منك ولك وعن محمد وأمته باسم الله والله أكبر ذبح |
سنن ابن ماجه |
3121
| وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم منك ولك عن محمد وأمته |
Sunan Abi Dawud Hadith 2795 in Urdu
أبو عياش بن النعمان المعافري ← جابر بن عبد الله الأنصاري