سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ما يكره من الضحايا
باب: قربانی میں کون سا جانور مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 2803
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِيٍّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، الْمَعْنَى عَنْ ثَوْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ الرُّعَيْنِيُّ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ ذُو مِصْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنِّي خَرَجْتُ أَلْتَمِسُ الضَّحَايَا، فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا يُعْجِبُنِي غَيْرَ ثَرْمَاءَ فَكَرِهْتُهَا، فَمَا تَقُولُ؟ قَالَ: أَفَلَا جِئْتَنِي بِهَا؟ قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ تَجُوزُ عَنْكَ، وَلَا تَجُوزُ عَنِّي، قَالَ: نَعَمْ إِنَّكَ تَشُكُّ وَلَا أَشُكُّ، إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُصْفَرَّةِ وَالْمُسْتَأْصَلَةِ وَالْبَخْقَاءِ وَالْمُشَيَّعَةِ وَالْكَسْرَاءُ فَالْمُصْفَرَّةُ الَّتِي تُسْتَأْصَلُ أُذُنُهَا حَتَّى يَبْدُوَ سِمَاخُهَا، وَالْمُسْتَأْصَلَةُ الَّتِي اسْتُؤْصِلَ قَرْنُهَا مِنْ أَصْلِهِ، وَالْبَخْقَاءُ الَّتِي تُبْخَقُ عَيْنُهَا، وَالْمُشَيَّعَةُ الَّتِي لَا تَتْبَعُ الْغَنَمَ عَجْفًا وَضَعْفًا، وَالْكَسْرَاءُ الْكَسِيرَةُ.
یزید ذومصر کہتے ہیں کہ میں عتبہ بن عبد سلمی کے پاس آیا اور ان سے کہا: ابوالولید! میں قربانی کے لیے جانور ڈھونڈھنے کے لیے نکلا تو مجھے سوائے ایک بکری کے جس کا ایک دانت گر چکا ہے کوئی جانور پسند نہ آیا، تو میں نے اسے لینا اچھا نہیں سمجھا، اب آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس کو تم میرے لیے کیوں نہیں لے آئے، میں نے کہا: سبحان اللہ! آپ کے لیے درست ہے اور میرے لیے درست نہیں، انہوں نے کہا: ہاں تم کو شک ہے مجھے شک نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بس «مصفرة والمستأصلة والبخقاء والمشيعة»، اور «كسراء» سے منع کیا ہے، «مصفرة» وہ ہے جس کا کان اتنا کٹا ہو کہ کان کا سوراخ کھل گیا ہو، «مستأصلة» وہ ہے جس کی سینگ جڑ سے اکھڑ گئی ہو، «بخقاء» وہ ہے جس کی آنکھ کی بینائی جاتی رہے اور آنکھ باقی ہو، اور «مشيعة» وہ ہے جو لاغری اور ضعف کی وجہ سے بکریوں کے ساتھ نہ چل پاتی ہو بلکہ پیچھے رہ جاتی ہو، «كسراء» وہ ہے جس کا ہاتھ پاؤں ٹوٹ گیا ہو، (لہٰذا ان کے علاوہ باقی سب جانور درست ہیں، پھر شک کیوں کرتے ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2803]
یزید ذومصر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور (اس سے) کہا: ”اے ابوالولید! میں قربانی لینے کے لیے نکلا ہوں، مگر کوئی جانور پسند نہیں آیا سوائے ایک کے کہ اس کے دانت گر گئے ہیں۔ مگر وہ بھی مجھے پسند نہیں ہے تو آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”وہ تم نے مجھے کیوں نہیں لا دیا؟“ میں نے کہا: ”سبحان اللہ! تمہاری طرف سے جائز ہوگا تو کیا میری طرف سے جائز نہ ہوگا؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں (اس لیے کہ) تم شک کرتے ہو اور مجھے کوئی شک نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں سے منع کیا ہے جو «مُصَفَّرَة»، «مُسْتَأْصَلَة»، «بَخْقَاء»، «مُشَيَّعَة» یا «كَسْرَاء» ہوں۔“ «مُصَفَّرَة» ”وہ ہے جس کا کان جڑ سے کٹ گیا ہو کہ اس کا سوراخ نظر آنے لگے۔“ «مُسْتَأْصَلَة» ”وہ ہے جس کا سینگ جڑ سے نکل گیا ہو۔“ «بَخْقَاء» ”وہ ہے جس کی بینائی جاتی رہے مگر آنکھ قائم ہو۔“ «مُشَيَّعَة» ”وہ ہے جو ناتوانی و کمزوری کی وجہ سے دوسری بکریوں کے ساتھ نہ چل سکے“ اور «كَسْرَاء» ”وہ ہے جس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9752)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/158) (ضعیف)» (اس کے راوی یزید ذومصر لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو حميد الرعيني مجهول (تق : 8064)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 101
إسناده ضعيف
أبو حميد الرعيني مجهول (تق : 8064)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 101
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2803
| المصفرة والمستأصلة والبخقاء والمشيعة والكسراء فالمصفرة التي تستأصل أذنها حتى يبدو سماخها والمستأصلة التي استؤصل قرنها من أصله والبخقاء التي تبخق عينها والمشيعة التي لا تتبع الغنم عجفا وضعفا والكسراء الكسيرة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2803 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2803
فوائد ومسائل:
یہ حدیث ضعیف ہے۔
تاہم دیگر صیح احادیث سے ثابت ہے۔
کہ واضح قسم کے عیوب اور نقائص قربانی کے جانوروں میں نہیں ہونے چاہیں۔
یہ حدیث ضعیف ہے۔
تاہم دیگر صیح احادیث سے ثابت ہے۔
کہ واضح قسم کے عیوب اور نقائص قربانی کے جانوروں میں نہیں ہونے چاہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2803]
Sunan Abi Dawud Hadith 2803 in Urdu
ذو مصر المقرائي ← عتبة بن عبد السلمي