سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب [ في ] اتخاذ الكلب للصيد وغيره
باب: شکار یا کسی اور کام کے لیے کتا رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2846
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ يَعْنِي بِالْكَلْبِ فَنَقْتُلُهُ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْ قَتْلِهَا، وَقَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا یہاں تک کہ کوئی عورت دیہات سے اپنے ساتھ کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے سے منع فرما دیا اور فرمایا کہ صرف کالے کتوں کو مارو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2846]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابتدائی ایام میں) کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا حتیٰ کہ اگر کوئی عورت دیہات سے آتی اور اس کے ساتھ کتا ہوتا تو ہم اسے بھی قتل کر ڈالتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا اور فرمایا: ”صرف کالے کتوں کو مارو۔“” [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2846]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 10 (1572)، (تحفة الأشراف: 2813)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/333) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1572)
مشكوة المصابيح (4102)
مشكوة المصابيح (4102)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2846
| عليكم بالأسود |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2846 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2846
فوائد ومسائل:
کالا کتا اور بالخصوص وہ جس کی آنکھوں پر دو نقطے سے ہوں۔
اسے شیطان سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اس لئے اسے مارنے کا حکم ہے۔
اگر کسی آبادی میں عام کتے بڑھ جایئں اور لوگوں کے لئے اذیت کا باعث ہوں۔
تو ان کو قتل کرنا اور کم کرنا بھی جائز ہے، لیکن بالکل فنا کر دینا بھی جائز نہیں۔
کالا کتا اور بالخصوص وہ جس کی آنکھوں پر دو نقطے سے ہوں۔
اسے شیطان سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اس لئے اسے مارنے کا حکم ہے۔
اگر کسی آبادی میں عام کتے بڑھ جایئں اور لوگوں کے لئے اذیت کا باعث ہوں۔
تو ان کو قتل کرنا اور کم کرنا بھی جائز ہے، لیکن بالکل فنا کر دینا بھی جائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2846]
Sunan Abi Dawud Hadith 2846 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري