سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب في المرأة ترث من دية زوجها
باب: عورت اپنے شوہر کی دیت سے حصہ پائے گی۔
حدیث نمبر: 2927
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِح، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ يَقُولُ: الدِّيَةُ للْعَاقِلةِ وَلا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا حَتَّى قَالَ لهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيَّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَرَجَعَ عُمْرُ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِح، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مُعَمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَقَالَ فِيهِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الأَعْرَابِ.
سعید کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پہلے کہتے تھے کہ دیت کنبہ والوں پر ہے، اور عورت اپنے شوہر کی دیت سے کچھ حصہ نہ پائے گی، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو میں اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دلاؤں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا ۱؎۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر کے واسطہ سے بیان کی ہے وہ اسے زہری سے اور وہ سعید سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یعنی ضحاک کو) دیہات والوں پر عامل بنایا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2927]
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”دیت کنبے والوں کا حق ہے (جو باپ کی طرف سے قرابت دار ہوتے ہیں) اور عورت اپنے شوہر کی دیت میں سے کچھ نہ پائے گی“، حتیٰ کہ سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے حصہ دلاؤں۔“ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا۔ احمد بن صالح نے بیان کیا کہ ہمیں یہ حدیث عبدالرزاق نے بواسطہ زہری اور انہوں نے سعید سے روایت کی ہے اور اس میں ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضحاک کو دیہاتیوں پر عامل بنایا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدیات 19 (1415)، سنن ابن ماجہ/الدیات 12 (2642)، (تحفة الأشراف: 4973)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/452) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ آپ کو صحیح حدیث مل گئی، حدیث یا آیت کے مل جانے پر رائے اور قیاس پر اعتماد صحیح نہیں ہے، خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کہ جن کی اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ضروری ہے ان کا یہ حال ہو کہ اپنی رائے و قیاس کو حدیث پہنچتے ہی چھوڑ دیں تو فقہاء و مجتہدین کی رائے کس شمار میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3063)
وللحديث شواھد حسن عند الطبراني (2/276 ح 5315) وغيره
مشكوة المصابيح (3063)
وللحديث شواھد حسن عند الطبراني (2/276 ح 5315) وغيره
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥أحمد بن صالح المصري، أبو جعفر أحمد بن صالح المصري ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة ثبت | |
👤←👥الضحاك بن سفيان الكلابي، أبو سعيد الضحاك بن سفيان الكلابي ← أحمد بن صالح المصري | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← الضحاك بن سفيان الكلابي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥أحمد بن صالح المصري، أبو جعفر أحمد بن صالح المصري ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1415
| ورث امرأة أشيم الضبابي من دية زوجها |
سنن أبي داود |
2927
| أورث امرأة أشيم الضبابي من دية زوجها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2927 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2927
فوائد ومسائل:
1۔
مقتول کے سلسلے میں ملنے والی دیت اس کی ملکیت شمار ہوکر اس کے شرعی وارثوں میں تقسیم ہوگی۔
جن میں سے ایک وارث بیوی بھی ہے۔
2۔
کسی بھی مسلمان کو روا نہیں کہ صحیح احادیث کے ہوتے ہوئے آئمہ مجتہدین کے فتویٰ رائے یا اجتہاد کو ترجیح دے۔
3۔
اشیم ضبابی کو ابن عبد البر نے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین میں شمار کیا ہے۔
اور ضبابی کے متعلق لکھتے ہیں۔
کہ یہ ضباب کی طرف نسبت ہے۔
جو کہ کوفہ میں ایک قلعہ ہے۔
(عون المعبود)
1۔
مقتول کے سلسلے میں ملنے والی دیت اس کی ملکیت شمار ہوکر اس کے شرعی وارثوں میں تقسیم ہوگی۔
جن میں سے ایک وارث بیوی بھی ہے۔
2۔
کسی بھی مسلمان کو روا نہیں کہ صحیح احادیث کے ہوتے ہوئے آئمہ مجتہدین کے فتویٰ رائے یا اجتہاد کو ترجیح دے۔
3۔
اشیم ضبابی کو ابن عبد البر نے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین میں شمار کیا ہے۔
اور ضبابی کے متعلق لکھتے ہیں۔
کہ یہ ضباب کی طرف نسبت ہے۔
جو کہ کوفہ میں ایک قلعہ ہے۔
(عون المعبود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2927]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1415
شوہر کی دیت سے بیوی کے میراث پانے کا بیان۔
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی الله عنہ کہتے تھے: دیت کی ادائیگی عاقلہ ۱؎ پر ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت سے میراث میں کچھ نہیں پائے گی، یہاں تک کہ ان کو ضحاک بن سفیان کلابی نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھا تھا: ”اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے میراث دو“ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1415]
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی الله عنہ کہتے تھے: دیت کی ادائیگی عاقلہ ۱؎ پر ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت سے میراث میں کچھ نہیں پائے گی، یہاں تک کہ ان کو ضحاک بن سفیان کلابی نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھا تھا: ”اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے میراث دو“ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1415]
اردو حاشہ:
وضاخت:
1؎:
دیت کے باب میں عقل،
عقول اور عاقلہ کا ذکر اکثر آتا ہے اس لیے اس کی وضاحت ضروری ہے:
عقل دیت کا ہم معنی ہے،
اس کی اصل یہ ہے کہ قاتل جب کسی کو قتل کرتا تودیت کی ادائیگی کے لیے اونٹوں کو جمع کرتا،
پھر انہیں مقتول کے اولیاء کے گھر کے سامنے رسیوں میں باندھ دیتا،
اسی لیے دیت کا نام عقل پڑگیا،
اس کی جمع عقول آتی ہے،
اور عاقلہ باپ کی جہت سے قاتل کے وہ قریبی لوگ ہیں جو قتل خطا کی صورت میں دیت کی ادائیگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
2؎:
سنن ابوداؤد کی روایت میں ا تنا اضافہ ہے کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اس قول ”بیوی شوہر کی دیت سے میراث نہیں پائے گی“ سے رجوع کرلیا۔
نوٹ:
(شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،
ورنہ سعید بن المسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع میں اختلاف ہے،
ملاحظہ ہو صحیح ابی داؤد رقم: 2599)
وضاخت:
1؎:
دیت کے باب میں عقل،
عقول اور عاقلہ کا ذکر اکثر آتا ہے اس لیے اس کی وضاحت ضروری ہے:
عقل دیت کا ہم معنی ہے،
اس کی اصل یہ ہے کہ قاتل جب کسی کو قتل کرتا تودیت کی ادائیگی کے لیے اونٹوں کو جمع کرتا،
پھر انہیں مقتول کے اولیاء کے گھر کے سامنے رسیوں میں باندھ دیتا،
اسی لیے دیت کا نام عقل پڑگیا،
اس کی جمع عقول آتی ہے،
اور عاقلہ باپ کی جہت سے قاتل کے وہ قریبی لوگ ہیں جو قتل خطا کی صورت میں دیت کی ادائیگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
2؎:
سنن ابوداؤد کی روایت میں ا تنا اضافہ ہے کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اس قول ”بیوی شوہر کی دیت سے میراث نہیں پائے گی“ سے رجوع کرلیا۔
نوٹ:
(شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،
ورنہ سعید بن المسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع میں اختلاف ہے،
ملاحظہ ہو صحیح ابی داؤد رقم: 2599)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1415]
Sunan Abi Dawud Hadith 2927 in Urdu
محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي