🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب في الحلف
باب: قول و قرار پر قسمیں کھانے اور حلف اٹھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2926
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا، فَقِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حِلْفَ فِي الإِسْلَامِ"، فَقَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا، تو ان (یعنی انس) سے کہا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا ہے کہ اسلام میں حلف (عہد و پیمان) نہیں ہے؟ تو انہوں نے دو یا تین بار زور دے کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا ہے کہ وہ بھائیوں کی طرح مل کر رہیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2926]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے احاطے میں بیٹھ کر مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا۔ ان سے کہا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: اسلام میں کوئی حلف نہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے احاطے میں بیٹھ کر مہاجرین اور انصار کے درمیان حلف قائم کیا تھا۔ انہوں نے اپنی یہ بات دو یا تین بار دہرائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الکفالة 2 (2294)، والأدب 67 (6083)، والاعتصام 16 (7340)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 50 (2529)، (تحفة الأشراف: 930)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3 /111، 145، 281) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7340) صحيح مسلم (2529

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عاصم الأحول
ثقة حافظ حجة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6083
حالف النبي بين قريش و الأنصار في داري
صحيح مسلم
6464
حالف رسول الله بين قريش والأنصار في داره التي بالمدينة
سنن أبي داود
2926
حالف رسول الله بين المهاجرين و الأنصار في دارنا
مسندالحميدي
1239
لا حلف في الإسلام
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2926 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2926
فوائد ومسائل:
اہل اسلام وایمان (وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى) کی بنیاد پر جو عہد معاہدہ کر لیں جائز ہے۔
مگر جاہلیت کی طرح معاہدے جو محض عصبیت پر طے ہوتے تھے، ان کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: اسلام میں حلف نہیں کا مطلب بھی یہی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2926]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1239
1239- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجر ین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے۔ اسلام میں حلف کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔‏‏‏‏ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ روایت دوبارہ بیان کی اور بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین اور انصار کے درمیان حلف (ایک دوسرے کا حلیف ہونا) قائم کیا تھا۔ سفیان کہتے ہیں: علماء نے ا س کی وضاحت یہ کی ہے، بھائی چارہ قائم کیا تھا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1239]
فائدہ:
زمانہ جاہلیت میں کسی کو بھی حلیف بنا لیا جاتا تھا، ہماری شریعت نے اس سے منع فرما دیا ہے، کیونکہ جب کوئی کسی کا حلیف بن جا تا ہے تو وہ وراثت کا بھی حق دار بن جاتا ہے، جبکہ مواخاۃ میں ایسی چیز نہیں ہوتی، اس کے علاوہ حدیث میں وضاحت ہے کہ زمانہ جاہلیت کے حلف کا اسلام کی حالت میں بھی اعتبار کیا جائے گا، اگر کسی نے زمانہ جاہلیت میں کسی کو اپنی وراثت کا حق دار بنایا تھا، پھر وہ دونوں مسلمان ہو گئے، تو ان کے زمانہ جاہلیت کے حلف کا اعتبار کرتے ہوئے اس کو دی ہوئی وراثت اس کے پاس رہے گی۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1238]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6083
6083. حضرت عاصم سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا: کیا تمہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں عقد حلف نہیں ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میرے گھر میں انصار اور قریش کے درمیان عقد حلف منعقد کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6083]
حدیث حاشیہ:
حلف یہ کہ قول قرار کر کے کسی اور قوم میں شریک ہو جانا جیسا کہ جاہلیت میں دستور تھا اب بھی البتہ ضرورت کے اوقات میں مسلمان اگر دوسری طاقتوں سے معاہدہ کریں تو ظاہر ہے کہ جائز ہوگا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6083]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6083
6083. حضرت عاصم سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا: کیا تمہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں عقد حلف نہیں ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میرے گھر میں انصار اور قریش کے درمیان عقد حلف منعقد کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6083]
حدیث حاشیہ:
اسلام میں عقد حلف نہیں ہے کیونکہ اس عقد سے باہمی اتفاق کی صورت مطلوب ہوتی ہے اور اسلام نے تمام مسلمانوں کو جمع اور یکجا کر دیا ہے اور ان کے دل جوڑ دیے ہیں، اب عقد حلف کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عقد حلف کا وجود ہے، بہرحال جس عقد حلف کی نفی ہے اس سے مراد دور جاہلیت کا عہد ہے جس کے ذریعے سے وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنتے تھے، اسلام نے اسے ختم کر دیا ہے، اور جس عقد حلف کا اس حدیث میں ذکر ہے اس سے مراد سلسلۂ مؤاخات ہے اور باہمی تعاون کے لیے عقد حلف کا جواز ہے۔
اسلامی اخوت اور بھائی چارے کا عقد حلف اب بھی موجود ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اسلام نے غیر شرعی حلف عقد کو ختم کیا ہے اور وہ حلف اور عہد جائز ہے کیونکہ اسلامی اخوت اور مظلوم کی مدد کرنا وغیرہ اسلام میں پسندیدہ امر ہے، لہذا یہ منسوخ نہیں۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 617/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6083]

Sunan Abi Dawud Hadith 2926 in Urdu