سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب فِي تَدْوِينِ الْعَطَاءِ
باب: وظیفہ کے مستحقین کے ناموں کو رجسٹر میں لکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2961
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي فِيمَا حَدَّثَهُ ابْنٌ لِعَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَتَبَ إِنَّ مَنْ سَأَلَ عَنْ مَوَاضِعِ الْفَيْءِ فَهُوَ مَا حَكَمَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَآهُ الْمُؤْمِنُونَ عَدْلًا مُوَافِقًا لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ اللَّهُ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ فَرَضَ الْأَعْطِيَةَ، وَعَقَدَ لِأَهْلِ الأَدْيَانِ ذِمَّةً بِمَا فُرَضَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْجِزْيَةِ لَمْ يَضْرِبْ فِيهَا بِخُمُسٍ وَلَا مَغْنَمٍ.
عدی بن عدی کندی کے ایک لڑکے کا بیان ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھا کہ جو کوئی شخص پوچھے کہ مال فیٔ کہاں کہاں صرف کرنا چاہیئے تو اسے بتایا جائے کہ جہاں جہاں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے وہیں خرچ کیا جائے گا، عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کو مسلمانوں نے انصاف کے موافق اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: ” «جعل الله الحق على لسان عمر وقلبه» “ (اللہ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کر دیا ہے) کا مصداق جانا، انہوں نے مسلمانوں کے لیے عطیے مقرر کئے اور دیگر ادیان والوں سے جزیہ لینے کے عوض ان کے امان اور حفاظت کی ذمہ داری لی، اور جزیہ میں نہ خمس (پانچواں حصہ) مقرر کیا اور نہ ہی اسے مال غنیمت سمجھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2961]
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”جو شخص یہ پوچھے کہ مال فے کہاں کہاں خرچ ہوتا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا مصرف وہی ہے جس کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا تھا اور اہل ایمان نے بھی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں عدل پر مبنی پایا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا تھا: ”اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر رکھ دیا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مال فے کے عطایا کو مسلمانوں کے لیے خاص کیا ہوا تھا اور دیگر مذاہب والوں کے لیے امن و امان کا عہد دیا تھا بعوض اس جزیہ کے جو ان سے لیا جاتا تھا اور ان کا خمس یا غنیمت میں کوئی حصہ نہ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد)» (عدی بن عدی کے لڑکے مبہم ہیں)
وضاحت: ۱؎: مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کیا جاتا ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ اللہ و رسول کے حق کے طور پر نکالا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن عدي بن عدي الكندي لم يسم ولا يعرف حاله (تق : 8480)
وحديث ابن حبان (الموارد : 2184) يغني عنه وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
إسناده ضعيف
ابن عدي بن عدي الكندي لم يسم ولا يعرف حاله (تق : 8480)
وحديث ابن حبان (الموارد : 2184) يغني عنه وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2961
| جعل الله الحق على لسان عمر وقلبه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2961 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2961
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
لیکن امر واقع یہی تھا چونکہ غیر مسلم کا جہادی امور اورملک کے دفاع میں کوئی حصہ نہیں تھا۔
لہذا ان کے لئے حق الخدمت بھی نہیں تھا۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
لیکن امر واقع یہی تھا چونکہ غیر مسلم کا جہادی امور اورملک کے دفاع میں کوئی حصہ نہیں تھا۔
لہذا ان کے لئے حق الخدمت بھی نہیں تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2961]
Sunan Abi Dawud Hadith 2961 in Urdu
اسم مبهم ← عمر بن عبد العزيز الأموي