سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب في صفايا رسول الله صلى الله عليه وسلم من الأموال
باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2971
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، فِي قَوْلِهِ: فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ سورة الحشر آية 6، قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ فَدَكَ وَقُرًى قَدْ سَمَّاهَا لَا أَحْفَظُهَا وَهُوَ مُحَاصِرٌ قَوْمًا آخَرِينَ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ بِالصُّلْحِ قَالَ: فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ سورة الحشر آية 6، يَقُولُ: بِغَيْرِ قِتَالٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَتْ بَنُو النَّضِيرِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا لَمْ يَفْتَحُوهَا عَنْوَةً افْتَتَحُوهَا عَلَى صُلْحٍ، فَقَسَمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ لَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَتْ بِهِمَا حَاجَةٌ.
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ اللہ نے جو فرمایا ہے: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» یعنی ”تم نے ان مالوں کے واسطے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے یعنی بغیر جنگ کے حاصل ہوئے“ (سورۃ الحشر: ۶) تو ان کا قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فدک اور کچھ دوسرے گاؤں والوں سے جن کے نام زہری نے تو لیے لیکن راوی کو یاد نہیں رہا صلح کی، اس وقت آپ ایک اور قوم کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، اور ان لوگوں نے آپ کے پاس بطور صلح مال بھیجا تھا، اس مال کے تعلق سے اللہ نے فرمایا: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» یعنی بغیر لڑائی کے یہ مال ہاتھ آیا (اور اللہ نے اپنے رسول کو دیا)۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں بنو نضیر کے مال بھی خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے، لوگوں نے اسے زور و زبردستی سے (یعنی لڑائی کر کے) فتح نہیں کیا تھا۔ صلح کے ذریعہ فتح کیا تھا، تو آپ نے اسے مہاجرین میں تقسیم کر دیا، اس میں سے انصار کو کچھ نہ دیا، سوائے دو آدمیوں کے جو ضرورت مند تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19379) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،الزهري مدلس
وھو من صغار التابعين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
إسناده ضعيف
السند مرسل،الزهري مدلس
وھو من صغار التابعين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥محمد بن ثور الصنعاني، أبو عبد الله، أبو جعفر محمد بن ثور الصنعاني ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة وكان يدلس كثيرا | |
👤←👥محمد بن عبيد الغبري محمد بن عبيد الغبري ← محمد بن ثور الصنعاني | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2971
| قسمها النبي بين المهاجرين لم يعط الأنصار منها شيئا إلا رجلين كانت بهما حاجة |
سنن أبي داود |
3016
| يحقن دماءهم ويسيرهم ففعل فسمع بذلك أهل فدك فنزلوا على مثل ذلك فكانت لرسول الله خاصة لأنه لم يوجف عليها بخيل ولا ركاب |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2971 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2971
فوائد ومسائل:
دوسروں کے محاصرے کے دوران میں صلح کے پیغام کے ذریعے سے خیبر کے دو قلعے وطخ اور سلالم مسلمانوں کے قبضے میں آئے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے اموال کا کچھ حصہ اپنی خاندانی اور ہنگامی انسانی ضروریات کے لئے مختص کرنے کے بعد باقی مہاجرین میں تقسیم فرما دیا۔
جس طرح سابقہ صحیح احادیث میں بیان ہو چکا ہے۔
دوسروں کے محاصرے کے دوران میں صلح کے پیغام کے ذریعے سے خیبر کے دو قلعے وطخ اور سلالم مسلمانوں کے قبضے میں آئے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے اموال کا کچھ حصہ اپنی خاندانی اور ہنگامی انسانی ضروریات کے لئے مختص کرنے کے بعد باقی مہاجرین میں تقسیم فرما دیا۔
جس طرح سابقہ صحیح احادیث میں بیان ہو چکا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2971]
معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري