سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب في بيان مواضع قسم الخمس وسهم ذي القربى
باب: خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2983
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًا يَقُولُ: وَلَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُمُسَ الْخُمُسِ فَوَضَعْتُهُ مَوَاضِعَهُ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَيَاةَ أَبِي بَكْرٍ، وَحَيَاةَ عُمَرَ فَأُتِيَ بِمَالٍ فَدَعَانِي، فَقَالَ: خُذْهُ فَقُلْتُ: لَا أُرِيدُهُ قَالَ: خُذْهُ فَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهِ، قُلْتُ قَدِ اسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ فَجَعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ..
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس کا خمس (پانچویں حصہ کا پانچواں حصہ) دیا، تو میں اسے اس کے خرچ کے مد میں صرف کرتا رہا، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما زندہ رہے پھر (عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں) ان کے پاس مال آیا تو انہوں نے مجھے بلایا اور کہا: اس کو لے لو، میں نے کہا: میں نہیں لینا چاہتا، انہوں نے کہا: لے لو تم اس کے زیادہ حقدار ہو، میں نے کہا: اب ہمیں اس مال کی حاجت نہیں رہی (ہمیں اللہ نے اس سے بے نیاز کر دیا ہے) تو انہوں نے اسے بیت المال میں داخل کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2983]
میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ ”میں، عباس، فاطمہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اکٹھے ہوئے۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں تو کتاب اللہ کے مطابق جو خمس میں ہمارا حق ہے، آپ اپنی زندگی میں مجھے اس کا والی بنا دیں تاکہ آپ کے بعد کوئی مجھ سے جھگڑا نہ کرے۔“ چنانچہ آپ نے ایسے ہی کر دیا۔ پھر میں آپ کی حیات مبارکہ میں اسے تقسیم کرتا رہا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا۔ حتی کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آخری سال تھا تو ان کے پاس بہت سا مال آیا، تو انہوں نے مجھے اس سے معزول کر دیا۔ پھر انہوں نے مجھے بلا بھیجا، تو میں نے عرض کیا: ”اب کے برس ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے جبکہ دیگر مسلمان اس کے حاجت مند ہیں، آپ یہ انہیں دے دیں۔“ تو انہوں نے اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بعد مجھے کسی نے اس کے لیے نہیں بلایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں سے آنے کے بعد میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے کہا: ”اے علی! آج تم نے ہمیں ایک حق سے محروم کر دیا ہے جو آئندہ کبھی ہمیں نہیں دیا جائے گا۔“ اور وہ بڑے دانا آدمی تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10224) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی ابوجعفر رازی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قلت : السند ظاهره الحسن و صححه الحاكم والذهبي (2/ 128) ولكن فيه علة قادحة،قال الدارقطني: ’’ و مطرف لم يسمع من ابن أبي ليلي ‘‘ (العلل الواردة 3/ 280 مسئلة 405) فالسند منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
إسناده ضعيف
قلت : السند ظاهره الحسن و صححه الحاكم والذهبي (2/ 128) ولكن فيه علة قادحة،قال الدارقطني: ’’ و مطرف لم يسمع من ابن أبي ليلي ‘‘ (العلل الواردة 3/ 280 مسئلة 405) فالسند منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2984
| قسمته حياة رسول الله ثم ولانيه أبو بكر حتى إذا كانت آخر سنة من سني عمر فإنه أتاه مال كثير فعزل حقنا ثم أرسل إلي فقلت بنا عنه العام غنى وبالمسلمين إليه حاجة فاردده عليهم فرده عليهم ثم لم يدعني إليه أحد بعد عم |
سنن أبي داود |
2983
| ولاني رسول الله صلةى الله عليه وسلم خمس الخمس فوضعته مواضعه حياة رسول الله وحياة أبي بكر وحياة عمر فأتي بمال فدعاني فقال خذه فقلت لا أريده قال خذه فأنتم أحق به قلت قد استغنينا عنه فجعله في بيت المال |
Sunan Abi Dawud Hadith 2983 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← علي بن أبي طالب الهاشمي