یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب كيف كان إخراج اليهود من المدينة
باب: مدینہ سے یہود کیسے نکالے گئے۔
حدیث نمبر: 3001
حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الأَيَامِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ الْيَهُودَ فِي سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعَ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قُرَيْشًا"، قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ لَا يَغُرَّنَّكَ مِنْ نَفْسِكَ أَنَّكَ قَتَلْتَ نَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا أَغْمَارًا لَا يَعْرِفُونَ الْقِتَالَ إِنَّكَ لَوْ قَاتَلْتَنَا لَعَرَفْتَ أَنَّا نَحْنُ النَّاسُ وَأَنَّكَ لَمْ تَلْقَ مِثْلَنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ سورة آل عمران آية 12، قَرَأَ مُصَرِّفٌ إِلَى قَوْلِهِ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 13 بِبَدْرٍ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ سورة آل عمران آية 13.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں قریش پر فتح حاصل کی اور مدینہ لوٹ کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بنی قینقاع کے بازار میں اکٹھا کیا، اور ان سے کہا: ”اے یہود کی جماعت! تم مسلمان ہو جاؤ قبل اس کے کہ تمہارا حال بھی وہی ہو جو قریش کا ہوا“، انہوں نے کہا: محمد! تم اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تم نے قریش کے کچھ نا تجربہ کار لوگوں کو جو جنگ سے واقف نہیں تھے قتل کر دیا ہے، اگر تم ہم سے لڑتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ مرد میدان ہم ہیں ابھی تمہاری ہم جیسے جنگجو بہادر لوگوں سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «قل للذين كفروا ستغلبون» ”کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے“ (سورۃ آل عمران: ۱۲) حدیث کے راوی مصرف نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «فئة تقاتل في سبيل الله»، «وأخرى كافرة» تک تلاوت کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3001]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بدر کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش پر غالب آ گئے اور فتح کے بعد مدینہ پہنچے تو یہودیوں کو بنو قینقاع کے بازار میں جمع کیا اور فرمایا: ”اے جماعتِ یہود! اسلام قبول کر لو، قبل اس کے کہ تمہیں ان حالات سے دو چار ہونا پڑے جن سے قریش دو چار ہوئے ہیں۔“ تو ان لوگوں نے کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ دھوکے میں نہ رہیں کہ قریش کے اناڑی لوگوں کو قتل کر آئے ہیں، وہ جنگ کرنا جانتے ہی نہیں تھے۔ اگر تم نے ہم سے جنگ کی تو پتا چل جائے گا کہ ہم مرد ہیں، تمہارا ہم جیسوں سے سامنا نہیں ہوا ہے۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ﴾ [سورة آل عمران: 12] ”کافروں سے کہہ دیجیے کہ تم عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے۔“ راویِ حدیث مصرف (بن عمرو) نے آگے تک پڑھا: «فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ» [سورة آل عمران: 13] ”ایک جماعت تو اللہ کی راہ میں لڑ رہی تھی (بدر میں) اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5606) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی محمد بن ابی محمد مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن أبي محمد :مجهول (تق : 6276)
وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
إسناده ضعيف
محمد بن أبي محمد :مجهول (تق : 6276)
وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3001
| أسلموا قبل أن يصيبكم مثل ما أصاب قريشا قالوا يا محمد لا يغرنك من نفسك أنك قتلت نفرا من قريش كانوا أغمارا لا يعرفون القتال |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3001 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3001
فوائد ومسائل:
روایت سندا ضعیف ہے۔
لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح مشرکین مکہ میں بیٹھ کر مسلمانوں کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔
اس طرح یہودی مسلمانوں کے ساتھ بقائے باہمی کا معاہدہ کرنے کے باوجود صرف قریش کی سازشوں میں شریک تھے۔
بلکہ اپنے طور پر بھی مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کارروایوں میں مشغول رہتے تھے۔
اگلی روایت بھی سندا ضعیف ہے۔
اگر اس میں مذکورہ واقعہ درست ہو تو پتہ چلے گا کہ یہود جب غداری پراترآئے۔
تو مسلمانوں کے پاس مقابلے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تھا۔
یہود کی غداری کی تفصیل حدیث نمبر3004 کے ذیلی فوائد میں دیکھیں۔
روایت سندا ضعیف ہے۔
لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح مشرکین مکہ میں بیٹھ کر مسلمانوں کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔
اس طرح یہودی مسلمانوں کے ساتھ بقائے باہمی کا معاہدہ کرنے کے باوجود صرف قریش کی سازشوں میں شریک تھے۔
بلکہ اپنے طور پر بھی مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کارروایوں میں مشغول رہتے تھے۔
اگلی روایت بھی سندا ضعیف ہے۔
اگر اس میں مذکورہ واقعہ درست ہو تو پتہ چلے گا کہ یہود جب غداری پراترآئے۔
تو مسلمانوں کے پاس مقابلے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تھا۔
یہود کی غداری کی تفصیل حدیث نمبر3004 کے ذیلی فوائد میں دیکھیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3001]
Sunan Abi Dawud Hadith 3001 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي