🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب ما جاء في حكم أرض خيبر
باب: خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3013
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَسَمَهَا عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ فَعَزَلَ نِصْفَهَا لِنَوَائِبِهِ، وَمَا يَنْزِلُ بِهِ الْوَطِيحَةَ وَالْكُتَيْبَةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا، وَعَزَلَ النِّصْفَ الْآخَرَ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الشِّقَّ وَالنَّطَاةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا، وَكَانَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا.
بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے خیبر اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور غنیمت عطا فرمایا تو آپ نے اس کے (۳۶ چھتیس) حصے کئے اور ہر حصے میں سو حصے رکھے، تو اس کے نصف حصے اپنی ضرورتوں و کاموں کے لیے رکھا اور اسی میں سے وطیحہ وکتیبہ ۱؎ اور ان سے متعلق جائیداد بھی ہے اور دوسرے نصف حصے کو جس میں شق و نطاۃ ۲؎ ہیں اور ان سے متعلق جائیداد بھی شامل تھی الگ کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ان دونوں گاؤں کے متعلقات میں تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3013]
جناب بشیر بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر عنایت فرما دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھتیس حصوں پر تقسیم کیا۔ ہر حصے میں سو حصے تھے۔ چنانچہ ان میں سے آدھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتفاقی اخراجات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے والے مہمانوں اور وفود کے لیے تھے یعنی قلعہ وطیحہ، کتیبہ اور ان کے ساتھ ملحق اراضی وغیرہ اور باقی آدھے مسلمانوں میں تقسیم کر دیے، یعنی قلعہ شق اور نطاہ اور ان کے مضافات۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ بھی انہی کے ملحقات و مضافات میں تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3011)، (تحفة الأشراف: 15535، 18456) (صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ روایت گرچہ مرسل ہے پچھلی سے تقویت پا کر صحیح ہے، أغلب یہی ہے کہ وہی صحابی یہاں بھی واسطہ ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ دونوں گاؤں کے نام ہیں۔
۲؎: یہ بھی دو گاؤں کے نام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد منھا السابق (3012)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بشير بن يسار الحارثي، أبو كيسانثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← بشير بن يسار الحارثي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← يحيى بن سعيد الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3012
لما ظهر على خيبر قسمها على ستة وثلاثين سهما جمع كل سهم مائة سهم فكان لرسول الله وللمسلمين النصف من ذلك عزل النصف الباقي لمن نزل به من الوفود والأمور ونوائب الناس
سنن أبي داود
3013
قسمها على ستة وثلاثين سهما جمع كل سهم مائة سهم فعزل نصفها لنوائبه وما ينزل به الوطيحة والكتيبة وما أحيز معهما عزل النصف الآخر فقسمه بين المسلمين الشق والنطاة وما أحيز معهما وكان سهم رسول الله فيما أحيز معهما
سنن أبي داود
3014
أفاء الله عليه خيبر قسمها ستة وثلاثين سهما جمعا فعزل للمسلمين الشطر ثمانية عشر سهما يجمع كل سهم مائة النبي معهم له سهم كسهم أحدهم عزل رسول الله ثمانية عشر سهما وهو الشطر لنوائبه وما ينزل به من أمر المسلمين فكان ذلك ا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3013 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3013
فوائد ومسائل:
قلعوں کے آخری مجموعے جو مسلمانوں نے بزور شمشیر فتح کیے وہ حصون النطاۃ اور حصون الشق تھے۔
یہاں سے جو یہودی جان بچا کر بھاگ نکلے انہوں نے حصون الکتیبہ کے مجموع میں پناہ لی۔
اس میں تین قلعے تھے۔
سب سے بڑا قموس۔
پھر وطیح اور سلالم تھا۔
جب ان کا محاصرہ ہوا تو یہ قلعے مالکوں نے لڑنے والوں کی جان بخشی اور ان کے بچوں کی آزادی کی شرائط پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کردیئے۔
(عون المعبود۔
باب ما جاء فی حکم ارض خیبر بحوالہ زرقانی) ان کے بعد فدک والوں نے اپنے علاقے حوالے کیے۔
(فتح الباري، کتاب فرض الخمس، باب فرض الخمس) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لئے یہی علاقے مخصوص تھے۔
کیونکہ یہی بغیر لڑے آپ کی تحویل میں آئے تھے۔
ان کو مضافات وملحقات کہا گیا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3013]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3014
خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ نے خیبر کا مال عطا کیا تو آپ نے اس کے کل چھتیس حصے کئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھے یعنی اٹھارہ حصے مسلمانوں کے لیے الگ کر دئیے، ہر حصے میں سو حصے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں کے ساتھ تھے آپ کا بھی ویسے ہی ایک حصہ تھا جیسے ان میں سے کسی دوسرے شخص کا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ حصے (یعنی نصف آخر) اپنی ضروریات اور مسلمانوں کے امور کے لیے الگ کر دیے، اسی نصف میں وطیح، کتیبہ اور سلالم (دیہات کے نام ہیں) اور ان کے متعلقات تھے، جب یہ سب اموال رسول ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3014]
فوائد ومسائل:
خیبر کا آدھا حصہ جو بطور غنیمت حاصل ہوا تھا۔
اس میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا یہ بقیہ حصہ فی کے ساتھ ملا کر سارا صدقہ کردیا کرتے تھے۔
البتہ اس میں سے بقدر کفاف اپنی ازواج کو دیتے تھے۔
جس طرح پہلے بالتفصیل بیان ہوچکا ہے۔


اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زمین کو حصہ داری پر کاشت کرانا جسے مزارعت اور بٹائی کہا جاتا ہے۔
ایک جائز معاملہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3014]

Sunan Abi Dawud Hadith 3013 in Urdu