یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب في تعشير أهل الذمة إذا اختلفوا بالتجارات
باب: ذمی مال تجارت لے کر پھریں تو ان سے عشر (دسواں حصہ) وصول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3051
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّكُمْ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا فَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ فَيَتَّقُونَكُمْ بِأَمْوَالِهِمْ دُونَ أَنْفُسِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ"، قَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ: فَيُصَالِحُونَكُمْ عَلَى صُلْحٍ، ثُمَّ اتَّفَقَا فَلَا تُصِيبُوا مِنْهُمْ شَيْئًا فَوْقَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكُمْ.
جہینہ کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا ہو سکتا ہے کہ تم ایک قوم سے لڑو اور اس پر غالب آ جاؤ تو وہ تمہیں مال (جزیہ) دے کر اپنی جانوں اور اپنی اولاد کو تم سے بچا لیں“۔ سعید کی روایت میں ہے: «فيصالحونكم على صلح» پھر وہ تم سے صلح پر مصالحت کر لیں پھر (مسدد اور سعید بن منصور دونوں راوی آگے کی بات پر) متفق ہو گئے کہ: جتنے پر مصالحت ہو گئی ہو اس سے زیادہ کچھ بھی نہ لینا کیونکہ یہ تمہارے واسطے درست نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3051]
جہینہ (قبیلے) کے ایک شخص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید کہ تم ایک قوم سے قتال کرو گے اور ان پر غالب آ جاؤ گے، تو وہ اپنی جانیں اور اپنی اولادیں بچانے کے لیے اپنے مال پیش کریں گے۔“ سعید (سعید بن منصور) رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ بیان کیا: ”پھر وہ تم سے مصالحت کر لیں گے۔“ پھر دونوں راوی حدیث کے اگلے الفاظ بیان کرنے میں متفق ہیں: ”تو تم اس سے زیادہ لینے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ یہ تمہارے لیے جائز نہ ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15707) (ضعیف)» (رجل من ثقیف مبہم مجہول راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من ثقيف : مجهول،وإليه أشار المنذري (انظر عون المعبود 136/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 112
إسناده ضعيف
رجل من ثقيف : مجهول،وإليه أشار المنذري (انظر عون المعبود 136/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 112
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3051
| لعلكم تقاتلون قوما فتظهرون عليهم فيتقونكم بأموالهم دون أنفسهم وأبنائهم |
Sunan Abi Dawud Hadith 3051 in Urdu
اسم مبهم ← اسم مبهم