سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب في تعشير أهل الذمة إذا اختلفوا بالتجارات
باب: ذمی مال تجارت لے کر پھریں تو ان سے عشر (دسواں حصہ) وصول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3052
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ الْمَدِينِيُّ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عِدَّةٍ، مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَن آبَائِهِمْ دِنْيَةً، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا أَوِ انْتَقَصَهُ أَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابوصخر مدینی کا بیان ہے کہ صفوان بن سلیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے کچھ بیٹوں سے اور انہوں نے اپنے آبائ سے (جو ایک دوسرے کے عزیز تھے) اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! جس نے کسی ذمی پر ظلم کیا یا اس کا کوئی حق چھینا یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ ڈالا یا اس کی کوئی چیز بغیر اس کی مرضی کے لے لی تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے ”وکیل“ ۱؎ ہوں گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15705) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «حجیج» کا لفظ ہے یعنی میں اس کے دعوے کی وکالت کروں گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عدة من أبناء أصحاب رسول اللّٰه ﷺ كلھم مجھولون
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 112
إسناده ضعيف
عدة من أبناء أصحاب رسول اللّٰه ﷺ كلھم مجھولون
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 112
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3052
| من ظلم معاهدا أو انتقصه أو كلفه فوق طاقته أو أخذ منه شيئا بغير طيب نفس فأنا حجيجه يوم القيامة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3052 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3052
فوائد ومسائل:
کافرکا کافر ہونا اپنی جگہ پر۔
مگر انسانی حقوق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مظلوم کی طرف ہوں گے۔
اور اس کو اس کا حق دلوایئں گے۔
کسی کا مسلمان ہو جانا اسے کافر کے انسانی حقوق غصب کرنے یا اس پر ظلم کرنے کی کسی صورت بھی اجازت نہیں دیتا۔
کافرکا کافر ہونا اپنی جگہ پر۔
مگر انسانی حقوق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مظلوم کی طرف ہوں گے۔
اور اس کو اس کا حق دلوایئں گے۔
کسی کا مسلمان ہو جانا اسے کافر کے انسانی حقوق غصب کرنے یا اس پر ظلم کرنے کی کسی صورت بھی اجازت نہیں دیتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3052]
اسم مبهم ← اسم مبهم