سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب في إقطاع الأرضين
باب: زمین جاگیر میں دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3070
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتَايَ صَفِيَّةُ، وَدُحَيْبَةُ ابْنَتَا عُلَيْبَةَ وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ، وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيهِمَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا، قَالَتْ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: تَقَدَّمَ صَاحِبِي تَعْنِي حُرَيْثَ بْنَ حَسَّانَ وَافِدَ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ فَبَايَعَهُ عَلَى الإِسْلَامِ عَلَيْهِ وَعَلَى قَوْمِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ بِالدَّهْنَاءِ أَنْ لَا يُجَاوِزَهَا إِلَيْنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا مُسَافِرٌ أَوْ مُجَاوِرٌ، فَقَالَ:" اكْتُبْ لَهُ يَا غُلَامُ بِالدَّهْنَاءِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَدْ أَمَرَ لَهُ بِهَا شُخِصَ بِي وَهِيَ وَطَنِي وَدَارِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمْ يَسْأَلْكَ السَّوِيَّةَ مِنَ الأَرْضِ إِذْ سَأَلَكَ إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الدَّهْنَاءُ عِنْدَكَ مُقَيَّدُ الْجَمَلِ وَمَرْعَى الْغَنَمِ وَنِسَاءُ بَنِي تَمِيمٍ وَأَبْنَاؤُهَا وَرَاءَ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَمْسِكْ يَا غُلَامُ صَدَقَتِ الْمِسْكِينَةُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ يَسَعُهُمَا الْمَاءُ وَالشَّجَرُ وَيَتَعَاوَنَانِ عَلَى الْفَتَّانِ".
عبداللہ بن حسان عنبری کا بیان ہے کہ مجھ سے میری دادی اور نانی صفیہ اور دحیبہ نے حدیث بیان کی یہ دونوں علیبہ کی بیٹیاں تھیں اور قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا کی پروردہ تھیں اور قیلہ ان دونوں کے والد کی دادی تھیں، قیلہ نے ان سے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہمارا ساتھی حریث بن حسان جو بکر بن وائل کی طرف پیامبر بن کر آیا تھا ہم سے آگے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، اور آپ سے اسلام پر اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے بیعت کی پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان دہناء ۱؎ کو سرحد بنا دیجئیے، مسافر اور پڑوسی کے سوا اور کوئی ان میں سے آگے بڑھ کر ہماری طرف نہ آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے غلام! دہناء کو انہیں لکھ کر دے دو“، قیلہ کہتی ہیں: جب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دہناء انہیں دے دیا تو مجھے اس کا ملال ہوا کیونکہ وہ میرا وطن تھا اور وہیں میرا گھر تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے اس زمین کا آپ سے مطالبہ کر کے مبنی پر انصاف مطالبہ نہیں کیا ہے، دہناء اونٹوں کے باندھنے کی جگہ اور بکریوں کی چراگاہ ہے اور بنی تمیم کی عورتیں اور بچے اس کے پیچھے رہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے غلام رک جاؤ! (مت لکھو) بڑی بی صحیح کہہ رہی ہیں، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ایک دوسرے کے درختوں اور پانی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور مصیبتوں و فتنوں میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے اور کام آ سکتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3070]
سیدنا عبداللہ بن حسان عنبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بے حد پریشانی ہوئی (کیونکہ) وہ میرا وطن ہے اور میرا گھر بھی وہیں ہے، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے آپ سے متوسط قسم کی زمین کا سوال نہیں کیا ہے (بلکہ عمدہ اور نفیس زمین طلب کی ہے)، یہ دھناء اونٹ باندھنے کی جگہ ہے (کہ اونٹ وہاں سے نکلتے ہی نہیں یا نکالے نہیں جاتے۔ کیونکہ یہ بہت سرسبز ہے) اور بکریوں کی چراگاہ ہے، اور بنو تمیم کی عورتیں اور ان کے بچے ان کے پیچھے (مقیم ہیں)۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لڑکے! رک جاؤ، اس مسکین عورت نے سچ کہا ہے، مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے، پانی اور درخت سب کے فائدے کے لیے ہیں، فتنہ پرور لوگوں کے مقابلے میں انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3070]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 50 (2814)، (تحفة الأشراف: 18047) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 7/392)»
وضاحت: ۱؎: دہناء : ایک جگہ کانام ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2814) والحديث الآتي (4847)
صفية بنت عليبة : مجهولة كما في التحرير (8626) وأختھا دحيبة : مثلھا (التحرير: 8579)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 113
إسناده ضعيف
ترمذي (2814) والحديث الآتي (4847)
صفية بنت عليبة : مجهولة كما في التحرير (8626) وأختھا دحيبة : مثلھا (التحرير: 8579)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 113
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3070
| المسلم أخو المسلم يسعهما الماء والشجر ويتعاونان على الفتان |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3070 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3070
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف الاسناد ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے اور یہ پچھلی احادیث میں واضح ہوچکا ہے۔
کہ کوئی ایسی جاگیر جس فائدہ اور نفع عام مسلمانوں سے متعلق ہو اسے کیس ایک کےلئے خاص نہیں کیا جاسکتا۔
یہ روایت ضعیف الاسناد ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے اور یہ پچھلی احادیث میں واضح ہوچکا ہے۔
کہ کوئی ایسی جاگیر جس فائدہ اور نفع عام مسلمانوں سے متعلق ہو اسے کیس ایک کےلئے خاص نہیں کیا جاسکتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3070]
Sunan Abi Dawud Hadith 3070 in Urdu
صفية بنت عليبة العنبرية ← قيلة بنت مخرمة العنبرية