یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب التعجيل بالجنازة وكراهية حبسها
باب: جنازہ لے جانے میں جلدی کرنا مستحب اور اسے روکے رکھنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 3159
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ أَبُو سُفْيَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ ابْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ، عَنْ عَزْرَةَ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ: عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ: أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالَ:" إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ، فَآذِنُونِي بِهِ، وَعَجِّلُوا، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ".
حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے آئے، اور فرمایا: ”میں یہی سمجھتا ہوں کہ اب طلحہ مرنے ہی والے ہیں، تو تم لوگ مجھے ان کے انتقال کی خبر دینا اور تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا، کیونکہ کسی مسلمان کی لاش اس کے گھر والوں میں روکے رکھنا مناسب نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3159]
حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ طلحہ کی موت آ گئی ہے۔ (جب ان کی وفات ہو جائے) تو مجھے اطلاع دینا اور جلدی کرنا، مناسب نہیں کہ مسلمان کی میت اس کے گھر والوں کے پاس پڑی رہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3418) (ضعیف)» (اس کے راوی سعید بن عثمان لین الحدیث اور عروة مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عروة بن سعيد و أبوه : مجهولان (تق : 4562،2426)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
إسناده ضعيف
عروة بن سعيد و أبوه : مجهولان (تق : 4562،2426)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3159
| لا أرى طلحة إلا قد حدث فيه الموت فآذنوني به وعجلوا فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3159 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3159
فوائد ومسائل:
روایت ضعیف ہے۔
مگر دوسری صحیح احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جنازے کی تجہیزوتکفین میں جلدی کرنی چاہیے۔
روایت ضعیف ہے۔
مگر دوسری صحیح احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جنازے کی تجہیزوتکفین میں جلدی کرنی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3159]
Sunan Abi Dawud Hadith 3159 in Urdu
سعيد الأنصاري ← الحصين بن وحوح الأنصاري