🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب القيام للجنازة
باب: میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3176
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ، أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقُومُ فِي الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ فِي، اللَّحْدِ فَمَرَّ بِهِ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: هَكَذَا نَفْعَلُ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: اجْلِسُوا خَالِفُوهُمْ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے، اور جب تک جنازہ قبر میں اتار نہ دیا جاتا، بیٹھتے نہ تھے، پھر آپ کے پاس سے ایک یہودی عالم کا گزر ہوا تو اس نے کہا: ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں (اس کے بعد سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے، اور فرمایا: (مسلمانو!) تم (بھی) بیٹھے رہو، ان کے خلاف کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3176]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 35 (1020)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 35 (1545)، (تحفة الأشراف: 5076) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1020) ابن ماجه (1545)
قال الترمذي :’’ غريب،وبشربن رافع ليس بالقوي في الحديث ‘‘وعبد اللّٰه بن سليمان بن جنادة ضعيف (تقريب التهذيب:3369)
وأبوه منكر الحديث (تق : 2542)
وللحديث شواھد ضعيفةوحديث مسلم (962) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبادة بن الصامت الأنصاري، أبو الوليدصحابي
👤←👥جنادة بن أبي أمية الأزدي، أبو عبد الله
Newجنادة بن أبي أمية الأزدي ← عبادة بن الصامت الأنصاري
مختلف في صحبته
👤←👥سليمان بن جنادة الأزدي
Newسليمان بن جنادة الأزدي ← جنادة بن أبي أمية الأزدي
منكر الحديث
👤←👥عبد الله بن سليمان الدوسي
Newعبد الله بن سليمان الدوسي ← سليمان بن جنادة الأزدي
ضعيف الحديث
👤←👥بشر بن رافع الحارثي، أبو الأسباط
Newبشر بن رافع الحارثي ← عبد الله بن سليمان الدوسي
منكر الحديث
👤←👥حاتم بن إسماعيل الحارثي، أبو إسماعيل
Newحاتم بن إسماعيل الحارثي ← بشر بن رافع الحارثي
ثقة
👤←👥هشام بن بهرام المدائني، أبو محمد
Newهشام بن بهرام المدائني ← حاتم بن إسماعيل الحارثي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3176
يقوم في الجنازة حتى توضع في اللحد فمر به حبر من اليهود اجلسوا خالفوهم
سنن ابن ماجه
1545
إذا اتبع جنازة لم يقعد حتى توضع في اللحد فعرض له حبر فقال هكذا نصنع يا محمد جلس رسول الله وقال خالفوهم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3176 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3176
فوائد ومسائل:
کفار کی مخالفت کرنے کا حکم ان کے دینی امور اور خاص قومی عادات میں ہے۔
امورعامہ وعادیہ میں نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3176]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1545
جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا بیان۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے پیچھے چلتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا، ایک یہودی عالم آپ کے سامنے آیا، اور کہا: اے محمد! ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنا شروع کر دیا، اور فرمایا: ان کی مخالفت کرو ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1545]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ میت کی تدفین تک کھڑے رہنا منسوخ ہے۔
بلکہ جب میت کی چار پائی زمین پر رکھ دی جائے۔
تو ساتھ آنے والے بیٹھ سکتے ہیں۔

(2)
غیرمسلموں سے امتیاز قائم کرنا اسلام کا ایک اہم اصول ہے۔
شریعت میں اس اُصول کا لحاظ عبادات میں بھی رکھا گیا ہے۔
اور دوسرے روز مرہ معاملات میں بھی، لہٰذا عیسائيوں کا بڑا دن نیا سال (یکم جنوری کو خوشی منانا)
اور ہندووں کی بسنت ہولی اور دیوالی، شادی، غمی کی رسمیں مثلاً غم کے موقع پر سیاہ لباس پہننا یا بیوہ کی دوسری شادی کو معیوب سمجھنا یا شادی کے موقع پر دولیا کا دلہن کی رشتہ دار عورتوں سے بلا تکلف ملنا اور آپس میں ہنسی مذاق کرنا۔
اور اسی طرح کے دیگر معاملات اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہونے کی وجہ سے اور غیر مسلموں کے رواج ہونے کی وجہ حرام ہیں جن سے پرہیز انتہائی ضروری ہے۔

(3)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ یہی روایت سنن ابی داؤد۔ (حدیث: 3176)
میں بھی مروی ہے۔
وہاں پر بھی ہمارے شیخ نے اس کو سنداًضعیف قرار دیا ہے۔
لیکن مزید لکھا ہے کہ صحیح مسلم کی روایت (962)
اس سے کفایت کرتی ہے۔
لہٰذا مسئلہ اسی طرح ہے کہ بعض محققین کے نزدیک میت کودیکھ کر کھڑا ہونا منسوخ ہے۔
اور بعض کے نزدیک کھڑا ہونا مستحب ہے۔
صرف وجوب مسنوخ ہے- واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1545]