یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب الركوب في الجنازة
باب: جنازہ میں سوار ہو کر جانا۔
حدیث نمبر: 3177
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ،عَنْ ثَوْبَانَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُتِيَ بِدَابَّةٍ، وَهُوَ مَعَ الْجَنَازَةِ، فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَ، فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ:"إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي، فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبَ وَهُمْ يَمْشُونَ، فَلَمَّا ذَهَبُوا رَكِبْتُ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سواری پیش کی گئی اور آپ جنازہ کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کیا (پیدل ہی گئے) جب جنازے سے فارغ ہو کر لوٹنے لگے تو سواری پیش کی گئی تو آپ سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: ”جنازے کے ساتھ فرشتے پیدل چل رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر چلوں، پھر جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3177]
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے ساتھ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پیش کی گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کر دیا، پھر جب واپس ہوئے اور سواری پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے۔ اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو فرمایا: ”تحقیق فرشتے چل رہے تھے تو مجھے لائق نہ تھا کہ وہ چل رہے ہوں اور میں سوار ہو جاؤں، جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2121)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1480) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي كثير مدلس و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي كثير مدلس و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3177
| الملائكة كانت تمشي فلم أكن لأركب وهم يمشون فلما ذهبوا ركبت |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3177 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3177
فوائد ومسائل:
صاحب ایمان کی بہت بڑی فضیلت ہے۔
کہ فرشتے بھی اس کے جنازے میں شرکت کرتے ہیں۔
نیز اصحاب فضل کا ازحد ادب کرنا چاہیے۔
جس کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موجودگی میں سوارہونا پسند نہ فرمایا۔
ویسے جنازے کے ساتھ سوار ہوکے جانا جائز ہے۔
مگر سوار پیچھے پیچھے رہے۔
صاحب ایمان کی بہت بڑی فضیلت ہے۔
کہ فرشتے بھی اس کے جنازے میں شرکت کرتے ہیں۔
نیز اصحاب فضل کا ازحد ادب کرنا چاہیے۔
جس کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موجودگی میں سوارہونا پسند نہ فرمایا۔
ویسے جنازے کے ساتھ سوار ہوکے جانا جائز ہے۔
مگر سوار پیچھے پیچھے رہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3177]
Sunan Abi Dawud Hadith 3177 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← ثوبان بن بجدد القرشي