یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب الإسراع بالجنازة
باب: جنازہ جلدی لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3184
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَحْيَى الْمُجَبِّرِ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ، فَقَالَ" مَا دُونَ الْخَبَبِ إِنْ يَكُنْ خَيْرًا تَعَجَّلَ إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ، وَالْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ، وَلَا تُتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ ضَعِيفٌ، هُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَحْيَى الْجَابِرُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا كُوفِيٌّ، وَأَبُو مَاجِدَةَ بَصْرِيٌّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو مَاجِدَةَ هَذَا لَا يُعْرَفُ 10.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے اپنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: «خبب» ۱؎ سے کچھ کم، اگر جنازہ نیک ہے تو وہ نیکی سے جلدی جا ملے گا، اور اگر نیک نہیں ہے تو اہل جہنم کا دور ہو جانا ہی بہتر ہے، جنازہ کی پیروی کی جائے گی (یعنی جنازہ آگے رہے گا اور لوگ اس کے پیچھے رہیں گے) اسے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا، جو آگے رہے گا وہ جنازہ کے ساتھ نہیں سمجھا جائے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ المجبر ضعیف ہیں اور یہی یحییٰ بن عبداللہ ہیں اور یہی یحییٰ الجابر ہیں، یہ کوفی ہیں اور ابوماجدہ بصریٰ ہیں، نیز ابوماجدہ غیر معروف شخص ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3184]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جنازے کے ساتھ چلنے کا کیا ادب ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درمیانی سی تیز رفتار سے چلا جائے، اگر وہ نیک ہے تو بھلائی کی طرف جلدی لے جاتے ہو اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو دوزخیوں کے لیے ہلاکت ہے۔ جنازہ آگے آگے ہونا چاہیے، پیچھے نہیں ہونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ کوئی اس کے آگے چلے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ روایت ضعیف ہے (یحییٰ الجمیر) یہ یحییٰ بن عبداللہ ہے اور یہی یحییٰ الجابر ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ کوفی ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابوماجدہ بصری، غیر معروف راوی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 27 (1011)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 16 (1484)، (تحفة الأشراف: 9637)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/378، 394، 415، 419، 432) (ضعیف)» (اس کے راوی یحییٰ الجابر لین الحدیث، اور ابوماجدة مجہول ہیں، واضح رہے کہ ابوماجد، کو ابوماجدہ نیز ابن ماجدہ کہا جاتا ہے)
وضاحت: ۱؎: چال کی ایک قسم ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1011) ابن ماجه (1484)
يحيي بن عبد اللّٰه المجبر : لين الحديث وأبوماجدة : مجهول (تق : 7581،8334)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
إسناده ضعيف
ترمذي (1011) ابن ماجه (1484)
يحيي بن عبد اللّٰه المجبر : لين الحديث وأبوماجدة : مجهول (تق : 7581،8334)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1011
| السير ما دون الخبب فإن كان خيرا عجلتموه وإن كان شرا فلا يبعد إلا أهل النار الجنازة متبوعة ولا تتبع وليس منها من تقدمها |
سنن أبي داود |
3184
| السير ما دون الخبب إن يكن خيرا تعجل إليه وإن يكن غير ذلك فبعدا لأهل النار الجنازة متبوعة ولا تتبع ليس معها من تقدمها |
سنن ابن ماجه |
1484
| الجنازة متبوعة وليست بتابعة ليس منها من تقدمها |
Sunan Abi Dawud Hadith 3184 in Urdu
عائذ بن نضلة الحنفي ← عبد الله بن مسعود