سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب الدعاء للميت
باب: میت کے لیے دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3200
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ، قَالَ: شَهِدْتُ مَرْوَانَ، سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ: كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ؟ قَالَ: أَمَعَ الَّذِي قُلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كَلَامٌ كَانَ بَيْنَهُمَا قَبْلَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ، فَاغْفِرْ لَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي اسْمِ عَلِيِّ بْنِ شَمَّاخٍ، قَالَ فِيهِ عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاسٍ، وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْمُوصِلِيَّ، يُحَدِّثُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ أَنِّي جَلَسْتُ مِنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ مَجْلِسًا، إِلَّا نَهَى فِيهِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَجَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
علی بن شماخ کہتے ہیں میں مروان کے پاس موجود تھا، مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے نماز میں کیسی دعا پڑھتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم ان باتوں کے باوجود مجھ سے پوچھتے ہو جو پہلے کہہ چکے ہو؟ مروان نے کہا: ہاں۔ راوی کہتے ہیں: ان دونوں میں اس سے پہلے کچھ کہا سنی (سخت کلامی) ہو گئی تھی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها للإسلام وأنت قبضت روحها وأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئناك شفعاء فاغفر له» ”اے اللہ! تو ہی اس کا رب ہے، تو نے ہی اس کو پیدا کیا ہے، تو نے ہی اسے اسلام کی راہ دکھائی ہے، تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے، تو اس کے ظاہر و باطن کو زیادہ جاننے والا ہے، ہم اس کی سفارش کرنے آئے ہیں تو اسے بخش دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3200]
سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازہ پڑھتے ہوئے کیسے سنا ہے؟“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا اس سب کے باوجود جو تم نے کہا ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ راوی نے وضاحت کی کہ ان دونوں کے مابین اس سے پہلے کوئی بات ہوئی تھی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ، فَاغْفِرْ لَهُ» ”اے اللہ! تو اس میت کا رب ہے، تو نے ہی اسے پیدا کیا ہے اور دین اسلام کی ہدایت دی ہے اور تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے اور تو اس کے باطن اور ظاہر سے بخوبی آگاہ ہے، ہم اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں تو اسے معاف فرما دے۔““ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”شعبہ نے سند کے ایک راوی علی بن شماخ کے نام میں غلطی کرتے ہوئے اسے عثمان بن شماس کہہ دیا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے احمد بن ابراہیم موصلی سے سنا جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے روایت کرتے تھے کہ میں جب بھی حماد بن زید کی مجلس میں بیٹھا تو وہ عبدالوارث اور جعفر بن سلیمان سے روایت لینے سے منع کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة (1078)، (تحفة الأشراف: 14261)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/256، 345، 363، 458) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی علی بن شماخ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1688)
علي بن شماخ ذكره ابن حبان في الثقات وحسن له الحافظ ابن حجر في الفتوحات الربانية (5/176)
مشكوة المصابيح (1688)
علي بن شماخ ذكره ابن حبان في الثقات وحسن له الحافظ ابن حجر في الفتوحات الربانية (5/176)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3200
| أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها للإسلام وأنت قبضت روحها وأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئناك شفعاء فاغفر له |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3200 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3200
فوائد ومسائل:
یہ روایت حسن درجہ کی ہے۔
اس لئے جنازے کی دیگر دعائوں کے ساتھ ساتھ اس کا پڑھنا بھی جائز ہے۔
یہ روایت حسن درجہ کی ہے۔
اس لئے جنازے کی دیگر دعائوں کے ساتھ ساتھ اس کا پڑھنا بھی جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3200]
Sunan Abi Dawud Hadith 3200 in Urdu
علي بن شماخ ← أبو هريرة الدوسي