پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب الدعاء للميت
باب: میت کے لیے دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3199
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ، فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو تو خلوص دل سے اس کے لیے دعا کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3199]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم کسی میت کا جنازہ پڑھو تو اس کے لیے اخلاص سے دعا کیا کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجنائز 23 (1497)، (تحفة الأشراف: 14993) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1674)
ابن إسحاق صرح بالسماع عند ابن حبان (الإحسان: 3077)
مشكوة المصابيح (1674)
ابن إسحاق صرح بالسماع عند ابن حبان (الإحسان: 3077)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3199
| إذا صليتم على الميت فأخلصوا له الدعاء |
سنن ابن ماجه |
1497
| إذا صليتم على الميت فأخلصوا له الدعاء |
بلوغ المرام |
459
| إذا صليتم على الميت فاخلصوا له الدعاء |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3199 کے فوائد و مسائل
الشيخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظ اللہ،ابوداود 3199
نمازِ جنازہ کے فوراً بعد ہاتھ اٹھا کر میت کے لیے اجتماعی دعا کرنا
نمازِ جنازہ کے فوراً بعد ہاتھ اٹھا کر میت کے لیے اجتماعی دعا کرنا، قبیح بدعت ہے، قرآن و حدیث میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین، صحابہ کرام، تابعین عظام، ائمہ دین اور سلف صالحین سے یہ ثابت نہیں۔
اس کے باوجود ایک فرقہ اس کو جائز قرار دیتا ہے، جنازہ کے متصل بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا اگر جائز ہوتا تو صحابہ کرام جو سب سے بڑھ کر قرآن و حدیث کے معانی، مفاہیم و مطالب اور تقاضوں کو سمجھنے والے اور ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے والے تھے، وہ ضرور اس کا اہتمام کرتے۔
چاروں اماموں سے بھی اس کا جواز یا استحباب منقول نہیں۔
واضح رہے کہ بعض حنفی اماموں نے بھی جنازہ کے متصل بعد دعا کرنے سے منع کیا ہے اور اس کو مکروہ قرار دیا ہے:
➊ ابنِ نجیم حنفی، جنہیں حنفی ”ابوحنفیہ ثانی“ کے نام سے یاد کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں:
«وَلَا يَدْعُو بَعْدَ التَّسْلِيمِ»
”نمازِ جنازہ کا سلام پھیرنے کے بعد دعا نہ کرے۔“ [البحر الرائق لابن نجیم الحنفی: 183/7]
➋ طاہر بن احمد الحنفی البخاری (م 542ھ) لکھتے ہیں:
«لَا يَقُومُ بِالدُّعَاءِ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ لِأَجْلِ الْمَيِّتِ بَعْدَ صَلَاةِ الْجَنَازَةِ وَقَبْلَهَا لَا يَقُومُ بِالدُّعَاءِ بَعْدَ صَلَاةِ الْجَنَازَةِ»
”نمازِ جنازہ سے پہلے اور بعد میت کے لیے قرآن مجید پڑھنے کے لیے مت ٹھہرے اور نمازِ جنازہ کے (متصل) بعد دعا کی غرض سے بھی مت ٹھہرے۔“ [خلاصۃ الفتاوی: 225/1]
➌ ابنِ ہمام حنفی کے شاگرد ابراہیم بن عبد الرحمن لکرکی (835-922ھ) لکھتے ہیں:
«وَالدُّعَاءُ بَعْدَ صَلَاةِ الْجَنَازَةِ مَكْرُوهٌ كَمَا يَفْعَلُهُ الْعَوَامُ فِي قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ تُرْفَعَ»
”نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو اٹھانے سے پہلے سورۂ فاتحہ کو دعا کی غرض سے پڑھنا، جیسا کہ عوام کرتے ہیں، مکروہ ہے۔“ [فتاوی فیض کرکی: 88]
➍ محمد خراسانی حنفی (م 926ھ) لکھتے ہیں:
«وَلَا يَقُومُ دَاعِيًا لَهُ»
”نمازِ جنازہ کے (متصل) بعد میت کے حق میں دعا کے لیے کھڑا نہ ہو۔“ [جامع الرموز: 125/1]
یہ مفہوم کئی وجوہ سے باطل ہے:
➊ حنفی مذہب کی کسی معتبر کتاب میں یہ مفہوم مذکور نہیں، لہٰذا مردود و باطل ہے۔
➋ یہاں ”قیام“ کا معنی کھڑے ہونا نہیں، بلکہ ٹھہرنا مراد ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ﴾ [التوبہ: 84]
یعنی: ”آپ منافقین میں سے کسی کی قبر پر مت ٹھہریں۔“
یہ مطلب نہیں کہ منافقین کی قبروں پر کھڑے نہیں ہو سکتے، بیٹھ کر دعا کر سکتے ہیں، بلکہ یہاں قیام سے مراد ٹھہرنا ہے کہ آپ ان کی قبروں پر دعا کے لیے نہیں ٹھہر سکتے۔
آئیے نمازِ جنازہ کے متصل بعد دعا کے مزعومہ دلائل کا جائزہ لیتے ہیں:
دلیل نمبر ➊
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾
”میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں، جب بھی وہ مجھ سے دعا کرے۔“
تبصرہ:
➊ بعض الناس کا عمومی دلائل سے اس کا ثبوت پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔
➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام جو قرآن کے مفاہیم و مطالب سب سے بڑھ کر جاننے والے تھے، ان سے جنازہ کے متصل بعد اجتماعی دعا کرنا ثابت نہیں، اگر اس آیت کے عموم سے یہ مسئلہ نکلتا تو وہ ضرور دعا کرتے۔
➌ خود تقلید پرست جنازہ سے پہلے اجتماعی ہیئت کے ساتھ دعا کرنے کے قائل نہیں، لہٰذا ان کا اس آیت کے عموم پر عمل نہیں۔
دلیل نمبر ➋
رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ٭ وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ﴾ [الم نشرح: 7-8]
”تو جب تم فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو۔“
اس کی تفسیر میں مفسرین کے ارشادات:
اس کی تفسیر میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، قتادہ، ضحاک اور مقاتل وغیرہ سے مروی ہے:
«إِذَا فَرَغْتَ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ أَوْ مُطْلَقِ الصَّلَاةِ فَانْصَبْ إِلَى رَبِّكَ فِي الدُّعَاءِ وَارْغَبْ إِلَيْهِ فِي الْمَسْأَلَةِ»
”جب تم نمازِ فرض یا کسی بھی قسم کی نماز سے فارغ ہو تو اپنے رب سے دعا کرنے میں لگ جاؤ اور اس کی بارگاہ میں سوال کرنے میں رغبت کرو۔“ [تفسیر مظہری: 94/10]
تبصرہ:
➊ اس آیتِ کریمہ سے کسی ثقہ امام نے نمازِ جنازہ کے متصل بعد اجتماعی ہیئت سے دعا کا جواز ثابت نہیں کیا، لہٰذا یہ استدلال باطل ہے۔
➋ سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے یہ تفسیر ثابت نہیں، کیونکہ اس کی سند میں موجود راوی ضعیف ہیں۔
➌ ◈ امام قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
«إِذَا فَرَغْتَ مِنْ صَلَاتِكَ فَانْصَبْ فِي الدُّعَاءِ»
”جب تو اپنی نماز سے فارغ ہو تو دعا میں رغبت کر۔“ [تفسیر طبری: 152/3، وسندہ صحیح]
اس صحیح تفسیر میں نمازِ جنازہ کا کوئی ذکر نہیں، اور نہ ہی اجتماعی ہیئت کا ذکر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نماز سے فارغ ہوں تو اذکارِ مسنونہ میں کوشش کریں یا دنیاوی امور سے فارغ ہو کر عبادت میں محنت کریں۔
دلیل نمبر ➌
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
❀ «إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ، فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ»
”جب تم میت پر جنازہ پڑھو تو اس کے لیے خلوص کے ساتھ دعا کرو۔“ [سنن ابی داؤد: 3199، سنن ابن ماجہ: 1497، وسندہ حسن]
تبصرہ:
اس حدیث سے نمازِ جنازہ کے اندر میت کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، محدثین کرام نے اس سے یہی مسئلہ اخذ کیا ہے:
◈ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اس پر یوں تبویب کی ہے:
«باب ما جاء فى الدعاء فى الصلاة على الجنازة»
”نمازِ جنازہ کے اندر دعا کرنے کا بیان۔“
◈ امام ابنِ حبان رحمہ اللہ کی تبویب:
«ذكر الامر لمن صلى على ميت ان يخلص له الدعاء»
مبتدعین اس حدیث کو نمازِ جنازہ کے متصل بعد اجتماعی دعا کے لیے بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں، یہ حدیث کی معنوی تحریف ہے۔
◈ چنانچہ احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
”ف سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے فوراً بعد دعا کی جاوے، بلا تاخیر۔ جو لوگ اس کے معنیٰ کرتے ہیں کہ نماز میں اس کے لیے دعا مانگو، وہ ”ف“ کے معنیٰ سے غفلت کرتے ہیں۔“ [جاء الحق: 274]
دیکھا آپ نے کہ ”مفتی صاحب“ کس جرأت سے محدثین کرام اور حنفی فقہاء کو ”غفلت“ کا الزام دے رہے ہیں۔ اگر ہر جگہ ”فا“ کا معنی یہی لیا جائے تو
﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ﴾
کا معنی یہ ہوگا کہ قرآن پاک پڑھ لینے کے بعد ”اعوذ باللہ“ پڑھنا چاہیے۔
قرآنِ مجید کی ایک آیت سے اشارۃ النص ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ جنازہ کے متصل بعد دعا کرنا جائز نہیں:
﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ﴾ [التوبہ: 84]
”آپ کبھی بھی ان (منافقین) پر نمازِ جنازہ نہ پڑھیں، نہ ہی ان کی قبر پر (دعا کے لیے) ٹھہریں۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کا جنازہ پڑھتے تھے تو منافقین سے روک دیا گیا۔ اگر آپ نمازِ جنازہ کے متصل بعد مسلمان میت کے لیے اجتماعی دعا کرتے ہوتے تو منافقین کے حق میں اس سے بھی روک دیا جاتا۔ ثابت ہوا کہ نمازِ جنازہ کے متصل بعد اجتماعی دعا سنتِ نبوی سے ثابت نہیں ہے۔
(ماخذ): مضمون: نمازِ جنازہ کے بعد دعا کی شرعی حیثیت
نمازِ جنازہ کے فوراً بعد ہاتھ اٹھا کر میت کے لیے اجتماعی دعا کرنا، قبیح بدعت ہے، قرآن و حدیث میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین، صحابہ کرام، تابعین عظام، ائمہ دین اور سلف صالحین سے یہ ثابت نہیں۔
اس کے باوجود ایک فرقہ اس کو جائز قرار دیتا ہے، جنازہ کے متصل بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا اگر جائز ہوتا تو صحابہ کرام جو سب سے بڑھ کر قرآن و حدیث کے معانی، مفاہیم و مطالب اور تقاضوں کو سمجھنے والے اور ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے والے تھے، وہ ضرور اس کا اہتمام کرتے۔
چاروں اماموں سے بھی اس کا جواز یا استحباب منقول نہیں۔
واضح رہے کہ بعض حنفی اماموں نے بھی جنازہ کے متصل بعد دعا کرنے سے منع کیا ہے اور اس کو مکروہ قرار دیا ہے:
➊ ابنِ نجیم حنفی، جنہیں حنفی ”ابوحنفیہ ثانی“ کے نام سے یاد کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں:
«وَلَا يَدْعُو بَعْدَ التَّسْلِيمِ»
”نمازِ جنازہ کا سلام پھیرنے کے بعد دعا نہ کرے۔“ [البحر الرائق لابن نجیم الحنفی: 183/7]
➋ طاہر بن احمد الحنفی البخاری (م 542ھ) لکھتے ہیں:
«لَا يَقُومُ بِالدُّعَاءِ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ لِأَجْلِ الْمَيِّتِ بَعْدَ صَلَاةِ الْجَنَازَةِ وَقَبْلَهَا لَا يَقُومُ بِالدُّعَاءِ بَعْدَ صَلَاةِ الْجَنَازَةِ»
”نمازِ جنازہ سے پہلے اور بعد میت کے لیے قرآن مجید پڑھنے کے لیے مت ٹھہرے اور نمازِ جنازہ کے (متصل) بعد دعا کی غرض سے بھی مت ٹھہرے۔“ [خلاصۃ الفتاوی: 225/1]
➌ ابنِ ہمام حنفی کے شاگرد ابراہیم بن عبد الرحمن لکرکی (835-922ھ) لکھتے ہیں:
«وَالدُّعَاءُ بَعْدَ صَلَاةِ الْجَنَازَةِ مَكْرُوهٌ كَمَا يَفْعَلُهُ الْعَوَامُ فِي قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ تُرْفَعَ»
”نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو اٹھانے سے پہلے سورۂ فاتحہ کو دعا کی غرض سے پڑھنا، جیسا کہ عوام کرتے ہیں، مکروہ ہے۔“ [فتاوی فیض کرکی: 88]
➍ محمد خراسانی حنفی (م 926ھ) لکھتے ہیں:
«وَلَا يَقُومُ دَاعِيًا لَهُ»
”نمازِ جنازہ کے (متصل) بعد میت کے حق میں دعا کے لیے کھڑا نہ ہو۔“ [جامع الرموز: 125/1]
اعتراض: ان عبارات سے پتا چلتا ہے کہ نمازِ جنازہ کے فوراً بعد کھڑے ہو کر نہیں، بلکہ بیٹھ کر دعا کرے، مطلق دعا کی نفی بالکل نہیں۔
جواب: یہ مفہوم کئی وجوہ سے باطل ہے:
➊ حنفی مذہب کی کسی معتبر کتاب میں یہ مفہوم مذکور نہیں، لہٰذا مردود و باطل ہے۔
➋ یہاں ”قیام“ کا معنی کھڑے ہونا نہیں، بلکہ ٹھہرنا مراد ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ﴾ [التوبہ: 84]
یعنی: ”آپ منافقین میں سے کسی کی قبر پر مت ٹھہریں۔“
یہ مطلب نہیں کہ منافقین کی قبروں پر کھڑے نہیں ہو سکتے، بیٹھ کر دعا کر سکتے ہیں، بلکہ یہاں قیام سے مراد ٹھہرنا ہے کہ آپ ان کی قبروں پر دعا کے لیے نہیں ٹھہر سکتے۔
آئیے نمازِ جنازہ کے متصل بعد دعا کے مزعومہ دلائل کا جائزہ لیتے ہیں:
دلیل نمبر ➊
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾
”میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں، جب بھی وہ مجھ سے دعا کرے۔“
تبصرہ:
➊ بعض الناس کا عمومی دلائل سے اس کا ثبوت پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔
➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام جو قرآن کے مفاہیم و مطالب سب سے بڑھ کر جاننے والے تھے، ان سے جنازہ کے متصل بعد اجتماعی دعا کرنا ثابت نہیں، اگر اس آیت کے عموم سے یہ مسئلہ نکلتا تو وہ ضرور دعا کرتے۔
➌ خود تقلید پرست جنازہ سے پہلے اجتماعی ہیئت کے ساتھ دعا کرنے کے قائل نہیں، لہٰذا ان کا اس آیت کے عموم پر عمل نہیں۔
دلیل نمبر ➋
رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ٭ وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ﴾ [الم نشرح: 7-8]
”تو جب تم فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو۔“
اس کی تفسیر میں مفسرین کے ارشادات:
اس کی تفسیر میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، قتادہ، ضحاک اور مقاتل وغیرہ سے مروی ہے:
«إِذَا فَرَغْتَ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ أَوْ مُطْلَقِ الصَّلَاةِ فَانْصَبْ إِلَى رَبِّكَ فِي الدُّعَاءِ وَارْغَبْ إِلَيْهِ فِي الْمَسْأَلَةِ»
”جب تم نمازِ فرض یا کسی بھی قسم کی نماز سے فارغ ہو تو اپنے رب سے دعا کرنے میں لگ جاؤ اور اس کی بارگاہ میں سوال کرنے میں رغبت کرو۔“ [تفسیر مظہری: 94/10]
تبصرہ:
➊ اس آیتِ کریمہ سے کسی ثقہ امام نے نمازِ جنازہ کے متصل بعد اجتماعی ہیئت سے دعا کا جواز ثابت نہیں کیا، لہٰذا یہ استدلال باطل ہے۔
➋ سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے یہ تفسیر ثابت نہیں، کیونکہ اس کی سند میں موجود راوی ضعیف ہیں۔
➌ ◈ امام قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
«إِذَا فَرَغْتَ مِنْ صَلَاتِكَ فَانْصَبْ فِي الدُّعَاءِ»
”جب تو اپنی نماز سے فارغ ہو تو دعا میں رغبت کر۔“ [تفسیر طبری: 152/3، وسندہ صحیح]
اس صحیح تفسیر میں نمازِ جنازہ کا کوئی ذکر نہیں، اور نہ ہی اجتماعی ہیئت کا ذکر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نماز سے فارغ ہوں تو اذکارِ مسنونہ میں کوشش کریں یا دنیاوی امور سے فارغ ہو کر عبادت میں محنت کریں۔
دلیل نمبر ➌
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
❀ «إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ، فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ»
”جب تم میت پر جنازہ پڑھو تو اس کے لیے خلوص کے ساتھ دعا کرو۔“ [سنن ابی داؤد: 3199، سنن ابن ماجہ: 1497، وسندہ حسن]
تبصرہ:
اس حدیث سے نمازِ جنازہ کے اندر میت کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، محدثین کرام نے اس سے یہی مسئلہ اخذ کیا ہے:
◈ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اس پر یوں تبویب کی ہے:
«باب ما جاء فى الدعاء فى الصلاة على الجنازة»
”نمازِ جنازہ کے اندر دعا کرنے کا بیان۔“
◈ امام ابنِ حبان رحمہ اللہ کی تبویب:
«ذكر الامر لمن صلى على ميت ان يخلص له الدعاء»
مبتدعین اس حدیث کو نمازِ جنازہ کے متصل بعد اجتماعی دعا کے لیے بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں، یہ حدیث کی معنوی تحریف ہے۔
◈ چنانچہ احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
”ف سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے فوراً بعد دعا کی جاوے، بلا تاخیر۔ جو لوگ اس کے معنیٰ کرتے ہیں کہ نماز میں اس کے لیے دعا مانگو، وہ ”ف“ کے معنیٰ سے غفلت کرتے ہیں۔“ [جاء الحق: 274]
دیکھا آپ نے کہ ”مفتی صاحب“ کس جرأت سے محدثین کرام اور حنفی فقہاء کو ”غفلت“ کا الزام دے رہے ہیں۔ اگر ہر جگہ ”فا“ کا معنی یہی لیا جائے تو
﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ﴾
کا معنی یہ ہوگا کہ قرآن پاک پڑھ لینے کے بعد ”اعوذ باللہ“ پڑھنا چاہیے۔
قرآنِ مجید کی ایک آیت سے اشارۃ النص ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ جنازہ کے متصل بعد دعا کرنا جائز نہیں:
﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ﴾ [التوبہ: 84]
”آپ کبھی بھی ان (منافقین) پر نمازِ جنازہ نہ پڑھیں، نہ ہی ان کی قبر پر (دعا کے لیے) ٹھہریں۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کا جنازہ پڑھتے تھے تو منافقین سے روک دیا گیا۔ اگر آپ نمازِ جنازہ کے متصل بعد مسلمان میت کے لیے اجتماعی دعا کرتے ہوتے تو منافقین کے حق میں اس سے بھی روک دیا جاتا۔ ثابت ہوا کہ نمازِ جنازہ کے متصل بعد اجتماعی دعا سنتِ نبوی سے ثابت نہیں ہے۔
(ماخذ): مضمون: نمازِ جنازہ کے بعد دعا کی شرعی حیثیت
[ماہنامہ السنہ جہلم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
ادارہ محدث،،سنن ابوداود 3199
نماز جنازہ ادا کرنے کا جو طریقہ کتب احادیث میں وارد ہے اس میں میت کیلئے دعا کرنے کے دو مواقع کا ذکر ہے ایک دعا نماز جنازہ کے اندر اور دوسری دعا قبر میں میت کو دفن کرنے کے بعد۔
نماز جنازہ کے بعد وہیں بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر دعا کرنے کا جو رواج ہے اس کا ثبوت نہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور نہ ہی صحابہ کرام اور تابعین عظام سے ہے۔
قرآن مجید سے اشارہ میت کیلئے دعا کے دو مواقع معلوم ہوتے ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کا نماز جنازہ ادا کیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ:
﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾ ”اے پیغمبر ان میں سے کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ کبھی ادا نہ کرنا اور نہ ان کی قبر پر کھڑے ہونا۔“ [سورة التوبة: 84]
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ خیر القرون میں نماز جنازہ ادا کرنے اور دفن کرنے کے بعد قبر پر دعا کرنے کا طریقہ ضرور موجود تھا اور ان سے اللہ تعالیٰ نے منافقین کے حق میں آیت کے اندر صریحاً ممانعت کر دی ہے۔
اگر کسی تیسری دعا کا وجود ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور روک دیتا۔
نماز جنازہ کے بعد دعا کرنے سے تو فقہائے احناف نے بھی منع کیا ہے۔
◈ سید الحموی رقم طراز ہیں:
«لا يقوم بالدعاء بعد صلوة الجنازة لأنه يشبه الزيادة فى صلوة الجنازة»
”نماز جنازہ کے بعد دُعا کو قائم نہ کرو اس لئے کہ یہ نماز جنازہ میں زیادتی کے مشابہ ہے۔“ [کشف الرمز علی الکنز: 131]
◈ حاشیہ جواہر النفیس میں مرقوم ہے:
«لا يدعوا بعد التسليم أى ولا يقوم الإمام بالدعاء بعد صلوة الجنازة وعليه الفتوى كذا فى مجموعة الفتاوى»
”سلام کے بعد دعا نہ مانگنے یعنی امام نماز جنازہ کے بعد دعا کا قیام عمل میں نہ لائے۔ علمائے احناف کا اس پر فتویٰ ہے جیسا کہ مجموعۃ الفتاوی میں موجود ہے۔“ [حاشیہ جواہر النفیس: 77]
مندرجہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ حنفی علماء بھی اس دعا کو نا جائز اور مکروہ سمجھتے تھے۔
❀ «اذا صلیتم علی المیت فاخلصوا له الدعا»
اس حدیث کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ: ”جب تم نماز جنازہ پڑھو تو اس کیلئے خالص دعا کرو۔“
نہ کہ جب تم نماز جنازہ پڑھ لو تو اس کے لئے خالص دعا کرو۔
یہ ترجمہ تو حدیث کی روح کے خلاف ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ تعلیم دینا چاہتے ہیں کہ جب میت پر نماز جنازہ ادا کی جائے تو نہایت ہی اخلاص کے ساتھ میت کیلئے دعا مانگنی چاہئے۔
یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جنازہ تو بغیر اخلاص کے ساتھ پڑھ لو اور بعد میں اخلاص کے ساتھ دعا کر لو۔
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے یہ اخلاص ثابت کیا ہے۔
❀ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک جنازہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا: «اللھم اغفرلہ وارحمہ» الخ۔ اس رقت آمیز لہجہ میں کی کہ پیچھے کھڑے ہونے والے صحابہ کرام میں سے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے کہ ”میں نے تمنا کی کہ یہ میری میت ہوتی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس پر یہ دعا کرتے۔“
➋ ایک صحابی سے نماز جنازہ ادا کرنے کا جو مسنون طریقہ مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ:
امام تکبیر کہے پھر پہلی تکبیر کے بعد سورۃ فاتحہ پڑھے پھر دوسری تکبیر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے پھر تیسری تکبیر کے بعد:
«و يخلص الدعا للجنازة»
”جنازہ کیلئے خالص دعا کرے۔“ [کتاب الام: 239/1، السنن الکبری: 139/4، المنتقی لابن جارود: 265]
پھر آہستہ سلام پھیر دے۔
اس حدیث میں «و يخلص الدعا للجنازة» سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دعا نماز جنازہ کے اندر ہے نہ کہ فوراً وہاں بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر دعا مانگی جائے۔
➌ محدثین نے اس حدیث پر جو ابواب باندھے ہیں اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔
◈ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یوں باب باندھا ہے:
«باب ماجاء فی الدعا فی صلوۃ الجنازۃ» ”جنازہ کی نماز میں دعا کے بیان کا باب۔“ [سنن ابن ماجہ: 480/1]
◈ امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی السنن الکبریٰ میں یوں ہی تبویب کی ہے۔ [السنن الکبریٰ: 4/2]
مفتی احمد یار خان نے جاء الحق میں «ف» اور شرط و جزا کے متعلق جو تحریر کیا ہے وہ سراسر باطل ہے۔
➊ «ف» میں جس طرح تاخیر و تعقیب زمانی ہوتی ہے ایسے ہی مرتبی بھی ہوتی ہے۔
➋ شرط و جزا میں جو تغایر کا ذکر ہے وہ مسلم ہے مگر یہ تغایر مختلف مقامات پر مختلف ہوتا ہے۔
➌ کبھی یہ تغایر جزو کل کا ہوتا ہے جیسا کہ:
«واذا صلیتم علی المیت فاخلصواله الدعا»
میں نماز جنازہ ادا کرنا کل ہے اور دعا اس کل کا جزو ہے جو نماز جنازہ کے اندر ہی ہو سکتی ہے۔
➍ اس مسئلہ کی تفہیم کیلئے درج ذیل امثلہ پر غور کریں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا﴾ ”اور جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور چپ ہو جاؤ۔“ [سورة الأعراف: 204]
اس آیت میں «قرء» فعل ماضی ہے اور شرط ہے، «فاستمعوا» امر ہے اور یہ جزا ہے، اس پر «ف» بھی داخل ہے۔
تو مفتی صاحب کے مفروضہ کے مطابق اس کا ترجمہ یوں ہو گا کہ جب قرآن مجید پڑھ لیا جائے تو تم غور سے سنو، یعنی تلاوت پہلے ہو جائے اور سنا اسے بعد میں جائے۔
➎ اسی طرح قرآن میں ہے:
﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾
اس کا ترجمہ یوں مناسب ہوگا: ”جب تم قرآن مجید پڑھو تو «اعوذ باللہ من الشیطین الرجیم» پڑھو۔“ [سورة النحل: 98]
یعنی قرأت قرآن کے شروع میں «اعوذ باللہ» پڑھی جائے۔
➏ ❀ اسی طرح ایک حدیث میں یوں آتا ہے:
«واذا لبستم فابدا وا بمیامنکم» ”جب تم لباس پہنو تو دائیں جانب سے شروع کرو۔“
اس قسم کی قرآن مجید میں اور احادیث میں بے شمار امثلہ موجود ہیں جن سے یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے۔
ماحذ:
آپ کے مسائل اور ان کا حل
ج 1, محدث فتویٰ
نماز جنازہ کے بعد وہیں بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر دعا کرنے کا جو رواج ہے اس کا ثبوت نہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور نہ ہی صحابہ کرام اور تابعین عظام سے ہے۔
قرآن مجید سے اشارہ میت کیلئے دعا کے دو مواقع معلوم ہوتے ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کا نماز جنازہ ادا کیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ:
﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾ ”اے پیغمبر ان میں سے کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ کبھی ادا نہ کرنا اور نہ ان کی قبر پر کھڑے ہونا۔“ [سورة التوبة: 84]
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ خیر القرون میں نماز جنازہ ادا کرنے اور دفن کرنے کے بعد قبر پر دعا کرنے کا طریقہ ضرور موجود تھا اور ان سے اللہ تعالیٰ نے منافقین کے حق میں آیت کے اندر صریحاً ممانعت کر دی ہے۔
اگر کسی تیسری دعا کا وجود ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور روک دیتا۔
نماز جنازہ کے بعد دعا کرنے سے تو فقہائے احناف نے بھی منع کیا ہے۔
◈ سید الحموی رقم طراز ہیں:
«لا يقوم بالدعاء بعد صلوة الجنازة لأنه يشبه الزيادة فى صلوة الجنازة»
”نماز جنازہ کے بعد دُعا کو قائم نہ کرو اس لئے کہ یہ نماز جنازہ میں زیادتی کے مشابہ ہے۔“ [کشف الرمز علی الکنز: 131]
◈ حاشیہ جواہر النفیس میں مرقوم ہے:
«لا يدعوا بعد التسليم أى ولا يقوم الإمام بالدعاء بعد صلوة الجنازة وعليه الفتوى كذا فى مجموعة الفتاوى»
”سلام کے بعد دعا نہ مانگنے یعنی امام نماز جنازہ کے بعد دعا کا قیام عمل میں نہ لائے۔ علمائے احناف کا اس پر فتویٰ ہے جیسا کہ مجموعۃ الفتاوی میں موجود ہے۔“ [حاشیہ جواہر النفیس: 77]
مندرجہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ حنفی علماء بھی اس دعا کو نا جائز اور مکروہ سمجھتے تھے۔
❀ «اذا صلیتم علی المیت فاخلصوا له الدعا»
اس حدیث کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ: ”جب تم نماز جنازہ پڑھو تو اس کیلئے خالص دعا کرو۔“
نہ کہ جب تم نماز جنازہ پڑھ لو تو اس کے لئے خالص دعا کرو۔
یہ ترجمہ تو حدیث کی روح کے خلاف ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ تعلیم دینا چاہتے ہیں کہ جب میت پر نماز جنازہ ادا کی جائے تو نہایت ہی اخلاص کے ساتھ میت کیلئے دعا مانگنی چاہئے۔
یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جنازہ تو بغیر اخلاص کے ساتھ پڑھ لو اور بعد میں اخلاص کے ساتھ دعا کر لو۔
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے یہ اخلاص ثابت کیا ہے۔
❀ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک جنازہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا: «اللھم اغفرلہ وارحمہ» الخ۔ اس رقت آمیز لہجہ میں کی کہ پیچھے کھڑے ہونے والے صحابہ کرام میں سے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے کہ ”میں نے تمنا کی کہ یہ میری میت ہوتی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس پر یہ دعا کرتے۔“
➋ ایک صحابی سے نماز جنازہ ادا کرنے کا جو مسنون طریقہ مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ:
امام تکبیر کہے پھر پہلی تکبیر کے بعد سورۃ فاتحہ پڑھے پھر دوسری تکبیر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے پھر تیسری تکبیر کے بعد:
«و يخلص الدعا للجنازة»
”جنازہ کیلئے خالص دعا کرے۔“ [کتاب الام: 239/1، السنن الکبری: 139/4، المنتقی لابن جارود: 265]
پھر آہستہ سلام پھیر دے۔
اس حدیث میں «و يخلص الدعا للجنازة» سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دعا نماز جنازہ کے اندر ہے نہ کہ فوراً وہاں بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر دعا مانگی جائے۔
➌ محدثین نے اس حدیث پر جو ابواب باندھے ہیں اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔
◈ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یوں باب باندھا ہے:
«باب ماجاء فی الدعا فی صلوۃ الجنازۃ» ”جنازہ کی نماز میں دعا کے بیان کا باب۔“ [سنن ابن ماجہ: 480/1]
◈ امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی السنن الکبریٰ میں یوں ہی تبویب کی ہے۔ [السنن الکبریٰ: 4/2]
مفتی احمد یار خان نے جاء الحق میں «ف» اور شرط و جزا کے متعلق جو تحریر کیا ہے وہ سراسر باطل ہے۔
➊ «ف» میں جس طرح تاخیر و تعقیب زمانی ہوتی ہے ایسے ہی مرتبی بھی ہوتی ہے۔
➋ شرط و جزا میں جو تغایر کا ذکر ہے وہ مسلم ہے مگر یہ تغایر مختلف مقامات پر مختلف ہوتا ہے۔
➌ کبھی یہ تغایر جزو کل کا ہوتا ہے جیسا کہ:
«واذا صلیتم علی المیت فاخلصواله الدعا»
میں نماز جنازہ ادا کرنا کل ہے اور دعا اس کل کا جزو ہے جو نماز جنازہ کے اندر ہی ہو سکتی ہے۔
➍ اس مسئلہ کی تفہیم کیلئے درج ذیل امثلہ پر غور کریں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا﴾ ”اور جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور چپ ہو جاؤ۔“ [سورة الأعراف: 204]
اس آیت میں «قرء» فعل ماضی ہے اور شرط ہے، «فاستمعوا» امر ہے اور یہ جزا ہے، اس پر «ف» بھی داخل ہے۔
تو مفتی صاحب کے مفروضہ کے مطابق اس کا ترجمہ یوں ہو گا کہ جب قرآن مجید پڑھ لیا جائے تو تم غور سے سنو، یعنی تلاوت پہلے ہو جائے اور سنا اسے بعد میں جائے۔
➎ اسی طرح قرآن میں ہے:
﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾
اس کا ترجمہ یوں مناسب ہوگا: ”جب تم قرآن مجید پڑھو تو «اعوذ باللہ من الشیطین الرجیم» پڑھو۔“ [سورة النحل: 98]
یعنی قرأت قرآن کے شروع میں «اعوذ باللہ» پڑھی جائے۔
➏ ❀ اسی طرح ایک حدیث میں یوں آتا ہے:
«واذا لبستم فابدا وا بمیامنکم» ”جب تم لباس پہنو تو دائیں جانب سے شروع کرو۔“
اس قسم کی قرآن مجید میں اور احادیث میں بے شمار امثلہ موجود ہیں جن سے یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے۔
ماحذ:
آپ کے مسائل اور ان کا حل
ج 1, محدث فتویٰ
[اردو فتاوىٰ، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 459
خوب خلوص دل سے اس کے لئے دعا کرنا
”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم کسی میت کی نماز جنازہ پڑھو تو خوب خلوص دل سے اس کے لئے دعا کرو۔“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 459]
”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم کسی میت کی نماز جنازہ پڑھو تو خوب خلوص دل سے اس کے لئے دعا کرو۔“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 459]
فوائد و مسائل:
➊ نماز جنازہ پڑھنے والے دراصل مرنے والے کے لیے رب کائنات کے حضور اس کی بخشش کی سفارش کرتے ہیں۔ ہر سفارشی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی سفارش قبول ہو، اس لیے سفارش کرنے والا بڑی آہ و زاری اور درد دل سے سفارش کرتا ہے۔
➋ یہ میت کا آخری وقت ہوتا ہے، لہٰذا اس کے لیے جتنے خلوص قلب سے دعا کی جا سکتی ہو، کرنی چاہیے، لیکن بعض لوگ تو صرف رسم ہی پوری کرتے ہیں، خلوص نام کی چیز بہت ہی کم نظر آتی ہے، اور ایک دو منٹ میں جنازے سے فارغ ہو جاتے ہیں۔
➊ نماز جنازہ پڑھنے والے دراصل مرنے والے کے لیے رب کائنات کے حضور اس کی بخشش کی سفارش کرتے ہیں۔ ہر سفارشی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی سفارش قبول ہو، اس لیے سفارش کرنے والا بڑی آہ و زاری اور درد دل سے سفارش کرتا ہے۔
➋ یہ میت کا آخری وقت ہوتا ہے، لہٰذا اس کے لیے جتنے خلوص قلب سے دعا کی جا سکتی ہو، کرنی چاہیے، لیکن بعض لوگ تو صرف رسم ہی پوری کرتے ہیں، خلوص نام کی چیز بہت ہی کم نظر آتی ہے، اور ایک دو منٹ میں جنازے سے فارغ ہو جاتے ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 459]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1497
نماز جنازہ کی دعا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو، تو اس کے لیے خلوص دل سے دعا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1497]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو، تو اس کے لیے خلوص دل سے دعا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1497]
اردو حاشیہ:
➊ نماز جنازہ کا اصل مقصد میت کے لیے دعائے مغفرت ہے اور دعا کی قبولیت کے لیے خلوصِ قلب شرط ہے، اس لیے ہر مسلمان کو جنازہ کی دعائیں یاد کرنی چاہیں۔ ان میں سے تین دعائیں آگے آ رہی ہیں۔
➋ بعض لوگوں نے اس حدیث سے نماز جنازہ کے بعد اجتماعی طور پر دعا کرنا سمجھا ہے۔ یہ غلط فہمی ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی حدیث میں یہ مروی نہیں کہ آپ نے نماز جنازہ کے بعد دعا مانگی ہو، البتہ میت کو دفن کرنے کے بعد میت کی استقامت کے لیے دعا کرنا مسنون ہے۔ [سنن ابی داؤد، الجنائز، باب الاستغفار عند القبر للمیت فی وقت الانصراف، حدیث: 3221]
➊ نماز جنازہ کا اصل مقصد میت کے لیے دعائے مغفرت ہے اور دعا کی قبولیت کے لیے خلوصِ قلب شرط ہے، اس لیے ہر مسلمان کو جنازہ کی دعائیں یاد کرنی چاہیں۔ ان میں سے تین دعائیں آگے آ رہی ہیں۔
➋ بعض لوگوں نے اس حدیث سے نماز جنازہ کے بعد اجتماعی طور پر دعا کرنا سمجھا ہے۔ یہ غلط فہمی ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی حدیث میں یہ مروی نہیں کہ آپ نے نماز جنازہ کے بعد دعا مانگی ہو، البتہ میت کو دفن کرنے کے بعد میت کی استقامت کے لیے دعا کرنا مسنون ہے۔ [سنن ابی داؤد، الجنائز، باب الاستغفار عند القبر للمیت فی وقت الانصراف، حدیث: 3221]
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1497]
حافظ ثناء اللہ مدنی، سنن ابن ماجہ 1497
سوال: نماز جنازہ سے فارغ ہوچکنے کے بعد میت کے لیے دعا مانگنا شرعاً کیسا ہے؟ کیا حدیث ❀ «إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ» [سنن ابی داؤد: 3199]
”جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو تو اس کے لیے خصوصی طور پر دعائیں کرو“ اور ابن ابی شیبہ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کہ ”انہوں نے نماز جنازہ پڑھی پھر میت کے لیے دعا کی“ سے اس کا جواز نکلتا ہے؟
جواب:
بحث طلب مسئلہ یہ ہے کہ آیا نماز جنازہ سے فارغ ہوچکنے کے فوراً بعد میت کے لیے دعا کا جواز ہے یا نہیں؟
نمازِ جنازہ کے بعد دعا مانگنے کی دلیل کے طور پر سوال میں مذکور دو روایات پیش کی جاتی ہیں لیکن درست بات یہ ہے کہ میت کے لیے دعا نماز جنازہ کے دوران مانگی جائے۔
پہلی حدیث کی تشریح بقول علامہ مناوی رحمہ اللہ یوں ہے:
”میت کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کرو کیونکہ اس نماز سے مقصود صرف میت کے لیے سفارش کرنا ہے، جب دعا میں اخلاص اور عاجزی ہوگی تو اس کے قبول ہونے کی امید ہے۔“ [عون المعبود: 188/3]
اور مستدرک حاکم میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:
❀ «وَيُخْلِصُ الصَّلَاةَ فِي التَّكْبِيرَاتِ الثَّلَاثِ»
یعنی ”جنازہ کی تین تکبیروں کے دوران اخلاص سے دعا کرے۔“
مستدرک حاکم کی اس حدیث سے اس امر کی وضاحت ہوگئی کہ دعا کا تعلق خالصۃً حالتِ نماز کے ساتھ ہے نہ کہ بعد از نماز سے۔
اصولِ فقہ کا معروف قاعدہ ہے:
«الْأَحَادِيثُ يُفَسِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا»
”احادیث ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں۔“
اس بنا پر اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم نمازِ جنازہ پڑھنا چاہو تو میت کے لیے خلوص کے ساتھ دعا کرو۔
یہ «إِقَامَةُ الْمُسَبِّبِ مَقَامَ السَّبَبِ»
(سبب بول کر مسبب مراد لینا) کی قبیل سے ہے، ارادہ سبب اور نماز مسبب ہے۔
حدیث کے الفاظ ﴿فَأَخْلِصُوا﴾ میں 'فاء' کے ترتیب و تعقیب بلا مہلت ہونے کا یہی مطلب ہے۔
اگر مقصود یہاں نماز جنازہ سے فراغت کے بعد دعا ہوتی تو پھر 'فاء' کی بجائے لفظ «ثُمَّ»
ہونا چاہیے تھا جو عام حالات میں ترتیب اور تراخی کا فائدہ دیتا ہے۔
علاوہ ازیں یہ حدیث سنن ابوداود اور سنن ابن ماجہ وغیرہ میں ہے اور امام ابوداود نے اس حدیث کو جنازہ کے دوران دعا پڑھنے کے ضمن میں ذکر کیا ہے، انہوں نے اس پر عنوان یوں قائم کیا ہے:
«باب الدعا للميت»
اور اس حدیث پر امام ابن ماجہ کی تبویب بھی ملاحظہ فرمائیں:
«باب ما جاء فى الدعاء فى الصلاة على الجنازة»
یعنی ”نمازِ جنازہ میں دعا کے بارے میں جو کچھ آیا ہے، اس کا بیان۔“
اس کی مثال یوں سمجھیں جیسے قرآنِ مجید میں ہے:
﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾
[سورۃ النحل: 98]
”جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔“
ائمہ لغت مثلاً زجاج وغیرہ نے اس کا معنی یوں بیان کیا ہے:
«إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلَيْسَ مَعْنَاهُ اسْتَعَاذَ بَعْدَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ»
”جب آپ قرآن کی تلاوت کا ارادہ کریں تو اللہ سے پناہ مانگ لیا کریں، اس کا یہ معنی نہیں کہ تلاوتِ قرآن کے بعد اعوذ باللہ پڑھا کرو۔“ [تفسیر فتح القدیر: 193/3]
بلاشبہ شرع میں دعا کی بالعموم تاکید ہے۔
فقہاء حنفیہ نے جنازہ میں قراءت سے استغنائی پہلو اختیار کرکے اس کا نام دعاء و ثناء وغیرہ رکھا ہے۔
موطا امام محمد میں ہے:
«لَا قِرَاءَةَ عَلَى الْجَنَازَةِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ» [المبسوط للسرخسی: 64/2]
البتہ محقق ابن الہمام فتح القدیر [489/1] میں فرماتے ہیں:
”فاتحہ نہ پڑھے تاہم بہ نیتِ ثنا پڑھی جاسکتی ہے، کیونکہ قراءت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔“
فاتحہ کی قراءت کا اثبات تو صحیح بخاری میں موجود ہے:
«باب قراءة فاتحة الكتاب على الجنازة»
اصولِ فقہ کا قاعدہ معروف ہے:
”عبادات میں اصل حظر (ممانعت) ہے، جواز کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔“
عہدِ نبوت میں کتنے جنازے پڑھے گئے، کسی ایک موقع پر بھی ثابت نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جنازہ کے بعد دعا کی ہو۔
صحیح بخاری میں حدیث ہے:
❀ «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌ»
”جو دین میں اضافہ کرے وہ مردود ہے۔“
◈ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«عَلَيْكَ بِالْأَثَرِ وَطَرِيقَةِ السَّلَفِ وَإِيَّاكَ وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ فَإِنَّهَا بِدْعَةٌ»
”آثار اور طریقہ سلف کو لازم پکڑو، اپنے آپ کو دین میں اضافہ سے بچاؤ وہ بدعت ہے۔“ [ذم التاویل از ابن قدامہ]
◈ ابن الماجشون نے کہا کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے تھے:
”جو دین میں بدعت ایجاد کرکے، اسے اچھا سمجھے تو گویا وہ یہ باور کراتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت میں خیانت کی ہے، اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾
جو شے اس وقت دین نہیں تھی، وہ آج بھی دین نہیں بن سکتی۔“
رہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اثر تو اس کا تعلق نمازِ جنازہ کے متصل بعد سے نہیں بلکہ اس کا تعلق دفن میت کے بعد سے ہے، عنوان کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے:
«في الدعاء للميت بعد ما يدفن ويسوي عليه»
یعنی ”قبر پر مٹی برابر کرکے میت کے لیے دعا کرنے کا بیان۔“
اور تدفین کے بعد میت کے لیے دعا کرنا ثابت شدہ امر ہے جس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبداللہ ذی نجادین کی قبر پر دیکھا، جب دفن سے فارغ ہوئے تو قبلہ رخ ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔“ [فتح الباری: 144/11]
تمام خیر سنت نبوی کی پیروی میں ہے، اور بدعت میں شر ہی شر ہے۔
اللہ رب العزت جملہ مسلمانوں کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین! محدث میگزین جنوری 2001ء
”جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو تو اس کے لیے خصوصی طور پر دعائیں کرو“ اور ابن ابی شیبہ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کہ ”انہوں نے نماز جنازہ پڑھی پھر میت کے لیے دعا کی“ سے اس کا جواز نکلتا ہے؟
جواب:
بحث طلب مسئلہ یہ ہے کہ آیا نماز جنازہ سے فارغ ہوچکنے کے فوراً بعد میت کے لیے دعا کا جواز ہے یا نہیں؟
نمازِ جنازہ کے بعد دعا مانگنے کی دلیل کے طور پر سوال میں مذکور دو روایات پیش کی جاتی ہیں لیکن درست بات یہ ہے کہ میت کے لیے دعا نماز جنازہ کے دوران مانگی جائے۔
پہلی حدیث کی تشریح بقول علامہ مناوی رحمہ اللہ یوں ہے:
”میت کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کرو کیونکہ اس نماز سے مقصود صرف میت کے لیے سفارش کرنا ہے، جب دعا میں اخلاص اور عاجزی ہوگی تو اس کے قبول ہونے کی امید ہے۔“ [عون المعبود: 188/3]
اور مستدرک حاکم میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:
❀ «وَيُخْلِصُ الصَّلَاةَ فِي التَّكْبِيرَاتِ الثَّلَاثِ»
یعنی ”جنازہ کی تین تکبیروں کے دوران اخلاص سے دعا کرے۔“
مستدرک حاکم کی اس حدیث سے اس امر کی وضاحت ہوگئی کہ دعا کا تعلق خالصۃً حالتِ نماز کے ساتھ ہے نہ کہ بعد از نماز سے۔
اصولِ فقہ کا معروف قاعدہ ہے:
«الْأَحَادِيثُ يُفَسِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا»
”احادیث ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں۔“
اس بنا پر اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم نمازِ جنازہ پڑھنا چاہو تو میت کے لیے خلوص کے ساتھ دعا کرو۔
یہ «إِقَامَةُ الْمُسَبِّبِ مَقَامَ السَّبَبِ»
(سبب بول کر مسبب مراد لینا) کی قبیل سے ہے، ارادہ سبب اور نماز مسبب ہے۔
حدیث کے الفاظ ﴿فَأَخْلِصُوا﴾ میں 'فاء' کے ترتیب و تعقیب بلا مہلت ہونے کا یہی مطلب ہے۔
اگر مقصود یہاں نماز جنازہ سے فراغت کے بعد دعا ہوتی تو پھر 'فاء' کی بجائے لفظ «ثُمَّ»
ہونا چاہیے تھا جو عام حالات میں ترتیب اور تراخی کا فائدہ دیتا ہے۔
علاوہ ازیں یہ حدیث سنن ابوداود اور سنن ابن ماجہ وغیرہ میں ہے اور امام ابوداود نے اس حدیث کو جنازہ کے دوران دعا پڑھنے کے ضمن میں ذکر کیا ہے، انہوں نے اس پر عنوان یوں قائم کیا ہے:
«باب الدعا للميت»
اور اس حدیث پر امام ابن ماجہ کی تبویب بھی ملاحظہ فرمائیں:
«باب ما جاء فى الدعاء فى الصلاة على الجنازة»
یعنی ”نمازِ جنازہ میں دعا کے بارے میں جو کچھ آیا ہے، اس کا بیان۔“
اس کی مثال یوں سمجھیں جیسے قرآنِ مجید میں ہے:
﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾
[سورۃ النحل: 98]
”جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔“
ائمہ لغت مثلاً زجاج وغیرہ نے اس کا معنی یوں بیان کیا ہے:
«إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلَيْسَ مَعْنَاهُ اسْتَعَاذَ بَعْدَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ»
”جب آپ قرآن کی تلاوت کا ارادہ کریں تو اللہ سے پناہ مانگ لیا کریں، اس کا یہ معنی نہیں کہ تلاوتِ قرآن کے بعد اعوذ باللہ پڑھا کرو۔“ [تفسیر فتح القدیر: 193/3]
بلاشبہ شرع میں دعا کی بالعموم تاکید ہے۔
فقہاء حنفیہ نے جنازہ میں قراءت سے استغنائی پہلو اختیار کرکے اس کا نام دعاء و ثناء وغیرہ رکھا ہے۔
موطا امام محمد میں ہے:
«لَا قِرَاءَةَ عَلَى الْجَنَازَةِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ» [المبسوط للسرخسی: 64/2]
البتہ محقق ابن الہمام فتح القدیر [489/1] میں فرماتے ہیں:
”فاتحہ نہ پڑھے تاہم بہ نیتِ ثنا پڑھی جاسکتی ہے، کیونکہ قراءت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔“
فاتحہ کی قراءت کا اثبات تو صحیح بخاری میں موجود ہے:
«باب قراءة فاتحة الكتاب على الجنازة»
اصولِ فقہ کا قاعدہ معروف ہے:
”عبادات میں اصل حظر (ممانعت) ہے، جواز کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔“
عہدِ نبوت میں کتنے جنازے پڑھے گئے، کسی ایک موقع پر بھی ثابت نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جنازہ کے بعد دعا کی ہو۔
صحیح بخاری میں حدیث ہے:
❀ «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌ»
”جو دین میں اضافہ کرے وہ مردود ہے۔“
◈ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«عَلَيْكَ بِالْأَثَرِ وَطَرِيقَةِ السَّلَفِ وَإِيَّاكَ وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ فَإِنَّهَا بِدْعَةٌ»
”آثار اور طریقہ سلف کو لازم پکڑو، اپنے آپ کو دین میں اضافہ سے بچاؤ وہ بدعت ہے۔“ [ذم التاویل از ابن قدامہ]
◈ ابن الماجشون نے کہا کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے تھے:
”جو دین میں بدعت ایجاد کرکے، اسے اچھا سمجھے تو گویا وہ یہ باور کراتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت میں خیانت کی ہے، اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾
جو شے اس وقت دین نہیں تھی، وہ آج بھی دین نہیں بن سکتی۔“
رہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اثر تو اس کا تعلق نمازِ جنازہ کے متصل بعد سے نہیں بلکہ اس کا تعلق دفن میت کے بعد سے ہے، عنوان کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے:
«في الدعاء للميت بعد ما يدفن ويسوي عليه»
یعنی ”قبر پر مٹی برابر کرکے میت کے لیے دعا کرنے کا بیان۔“
اور تدفین کے بعد میت کے لیے دعا کرنا ثابت شدہ امر ہے جس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبداللہ ذی نجادین کی قبر پر دیکھا، جب دفن سے فارغ ہوئے تو قبلہ رخ ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔“ [فتح الباری: 144/11]
تمام خیر سنت نبوی کی پیروی میں ہے، اور بدعت میں شر ہی شر ہے۔
اللہ رب العزت جملہ مسلمانوں کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین! محدث میگزین جنوری 2001ء
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
ڈاکٹر محمد جاوید حفظ اللہ، سنن ابن ماجہ 1497
نماز جنازہ کے متصل بعد دعا کی حیثیت
ہماری ناقص تحقیق کے مطابق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم یا آئمہ مجتہدین رحمہم اللہ سے نماز جنازہ کے متصل بعد اس ہیئت میں اجتماعی دعا کا مروجہ طریقہ ثابت نہیں ہے۔
اس باب میں کچھ صحیح اور کچھ متکلم فیہ احادیث سے استدلال محل نظر ہے۔
احادیث صحیحہ سے غلط استدلال
الف۔ ❀ «إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ» [سنن ابن ماجة: 1497، سنن ابي داؤد: 3199، صحيح ابن حبان: 3086]
اس حدیث کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ”جب تم میت پہ جنازہ پڑھو تو خلوص سے دعا کیا کرو۔“
اس کی تائید قرآن مجید سے بھی ہوتی ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ ﴾ [سورۃ المآئدۃ: 06]
یہاں ماضی کے صیغہ ﴿قُمْتُمْ﴾ کا یہ مفہوم کسی نے مراد لیا نہ صحیح ہے کہ ”جب نماز پڑھ چکو تو وضو کرو۔“
ایسے ہی «إِذَا صَلَّيْتُمْ» کا حکم جنازہ میں میت کے لیے اخلاص سے دعا کرنا ہے نہ کہ اس کے بعد اور ایسا ہی اس حدیث مبارکہ کی تخریج کرنے والے محدثین کرام اور شارحین نے مراد لیا ہے، تبویب کے الفاظ دیکھیے:
➊ [سنن ابن ماجۃ:] «باب ما جآء فى الدعآء فى الصلاة على الجنازة»
➋ [سنن ابی داؤد:] «باب الدعآء للميت»
➌ [صحیح ابن حبان:] «ذکر الامر لمن صلی علی میت ان یُخلِص لہ الدعآء»
➍ [معرفۃ السنن والآثار:] «باب التکبیر علی الجنآئز وغیر ذلک»
➎ [السنن الکبرٰی للبیہقی:] «باب الدعآء فی صلاۃ الجنازۃ»
➏ [مصابیح السنۃ:] «باب المشی بالجنازۃ والصلاۃ علیھا»
➐ [الاحکام الکبرٰی:] «باب الدعآء فی الصلاۃ علی المیت»
➑ [السنن والاحکام لمقدسی:] «باب فی الدعآء فی الصلاۃ للمیت»
➒ [ریاض الصالحین:] «باب ما یقرأ فی صلاۃ الجنازۃ»
➓ [شرح الرسالۃ:] «باب فی الصلاۃ علی الجنآئز والدعآء للمیت»
⓫ [بحر المذھب:] «باب التکبیر علی الجنازۃ»
⓬ [المغنی لابن قدامۃ:] «مسألۃ، قال: ویکبر الثالثۃ ویدعو لنفسہ ولوالدیہ والمسلمین ویدعو للمیت»
⓭ [المجموع شرح المھذب:] «باب الصلاۃ علی المیت»
⓮ [الشرح الکبیر علی المقنع:] «ویدعو فی التکبیرۃ الثالثۃ لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا صلیتم علی المیت فاخلصوا لہ الدعآء»
⓯ [المفھم لما اشکل من کتاب مسلم:] «باب الامر بالصلاۃ علی المیت وکیفیۃ الصلاۃ علیہ وکم التکبیرات»
یہاں ہم نے صرف پہلی سات صدیوں کے پندرہ اکابر علماء کے الفاظ پیش کیے ہیں، جو اس حدیث مبارکہ سے تیسری تکبیر کے بعد دعا کرنے کا استدلال فرما رہے ہیں، کسی ایک نے بھی یہ والی بعد الجنازہ مروجہ دعا مراد نہیں لی۔
جو اصل مقام ہے وہاں میت کے لیے دعا خالص کی ہی نہیں جاتی بلکہ عمومی دعا پہ اکتفا کیا جاتا ہے اور یہی استدلال معروف بریلوی عالم احمد یار خان نعیمی صاحب کا بھی ہے۔
ب۔ ❀ «وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ آخِذٌ مَنْكِبِي فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ۔۔» [صحیح بخاری: 3685]
ج۔ ❀ «عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوْا اللَّهَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي قَدْ وَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى مَنْكِبِي يَقُولُ: رَحِمَكَ اللَّهُ» [صحیح بخاری: 3677]
ان دو احادیث مبارکہ کا مفہوم یوں ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سیدنا عمر رضی اللہ کا جنازہ چارپائی پہ رکھا ہوا تھا، لوگوں نے چارپائی اٹھنے سے قبل اسے گھیر رکھا تھا۔ لوگ آتے، دیکھتے اور دعائیہ اور تعریفی کلمات کہتے، اتنے میں علی رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے اور عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے ترحم کے جملے کہے۔۔۔“
یہ واقعہ جیسا کہ اس حدیث، دوسری احادیث اور شارحین کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں جنازہ پڑھنے سے قبل کا ہے، کہ لوگ جنازہ دیکھتے اور دعائیہ کلمات کہتے۔
اب جنازہ دیکھ کر انفرادی طور پہ دعا، ترحم کا کوئی جملہ کہنا بالکل فطری سی بات ہے، نماز جنازہ سے قبل ہو یا بعد، اس سے مروجہ اجتماعی ہیئت کی دعا کہاں کشید ہوتی ہے؟
«فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ» کے الفاظ کا یہی مفہوم ہے۔ کیا مولوی صاحب «يُصَلُّونَ» سے بار بار کا جنازہ پڑھنا مراد لیں گے؟
اس حدیث کا صحیح مفہوم دیکھیے:
➊ ◈ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقَبْرِ، فَجَاءَ عَلِيٌّ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيِ الصُّفُوفِ فَقَالَ.....» [مسند احمد: 866]
”سیدنا عمر رضی اللہ کا جنازہ منبر اور قبر مبارک کے درمیان رکھا ہوا تھا، علی رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے، صفوں کے سامنے کھڑے ہو کر یہ تعریفی دعائیہ کلمات کہے۔“
➋ ◈ سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
«كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ وَهُوَ مُسَجًّى ثَوْبِهِ، قَدْ قَضَى نَحْبَهُ، فَجَاءَ عَلِيٌّ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْكَ يا أَبَا حَفْصٍ۔۔۔» [مسند احمد: 867]
اوپر والی حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ کے قریب قریب مفہوم ہے۔
➌ ◈ علامہ بدر الدین عینی حنفی (م۔ 855ھ) فرماتے ہیں:
«وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ يَعْنِي لِأَجْلِ الْغَسْلِ» [عمدۃ القاری: 197/16]
➍ ◈ زین الدین زکریا الانصاری (م۔ 926ھ) فرماتے ہیں:
«وُضِعَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالٰی عَنْهُ عَلَى سَرِيرِهِ أَيْ لِأَجْلِ الْغَسْلِ» [منحۃ الباری: 34/7]
یعنی ”عمر رضی اللہ تعالٰی کی چارپائی غسل کے لیے رکھی ہوئی تھی علی رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے۔“
محدثین کرام نے اس سے میت کے چارپائی پہ رکھنے کا جواز اخذ کیا ہے، نہ کہ بعد الجنازہ مروجہ دعا کا۔
بہرکیف میت کی تدفین کے بعد قبر پہ اس کی ثابت قدمی کے لیے دعا ثابت ہے:
❀ «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ، وَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ، وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ» [سنن ابی داؤد: 3221]
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔
(دعا کی فضیلت میں وارد عمومی دلائل سے یہ مروجہ دعا کشید کرنے والے اعراض فرمائیں)۔
ڈاکٹر محمد جاوید
ہماری ناقص تحقیق کے مطابق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم یا آئمہ مجتہدین رحمہم اللہ سے نماز جنازہ کے متصل بعد اس ہیئت میں اجتماعی دعا کا مروجہ طریقہ ثابت نہیں ہے۔
اس باب میں کچھ صحیح اور کچھ متکلم فیہ احادیث سے استدلال محل نظر ہے۔
احادیث صحیحہ سے غلط استدلال
الف۔ ❀ «إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ» [سنن ابن ماجة: 1497، سنن ابي داؤد: 3199، صحيح ابن حبان: 3086]
اس حدیث کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ”جب تم میت پہ جنازہ پڑھو تو خلوص سے دعا کیا کرو۔“
اس کی تائید قرآن مجید سے بھی ہوتی ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ ﴾ [سورۃ المآئدۃ: 06]
یہاں ماضی کے صیغہ ﴿قُمْتُمْ﴾ کا یہ مفہوم کسی نے مراد لیا نہ صحیح ہے کہ ”جب نماز پڑھ چکو تو وضو کرو۔“
ایسے ہی «إِذَا صَلَّيْتُمْ» کا حکم جنازہ میں میت کے لیے اخلاص سے دعا کرنا ہے نہ کہ اس کے بعد اور ایسا ہی اس حدیث مبارکہ کی تخریج کرنے والے محدثین کرام اور شارحین نے مراد لیا ہے، تبویب کے الفاظ دیکھیے:
➊ [سنن ابن ماجۃ:] «باب ما جآء فى الدعآء فى الصلاة على الجنازة»
➋ [سنن ابی داؤد:] «باب الدعآء للميت»
➌ [صحیح ابن حبان:] «ذکر الامر لمن صلی علی میت ان یُخلِص لہ الدعآء»
➍ [معرفۃ السنن والآثار:] «باب التکبیر علی الجنآئز وغیر ذلک»
➎ [السنن الکبرٰی للبیہقی:] «باب الدعآء فی صلاۃ الجنازۃ»
➏ [مصابیح السنۃ:] «باب المشی بالجنازۃ والصلاۃ علیھا»
➐ [الاحکام الکبرٰی:] «باب الدعآء فی الصلاۃ علی المیت»
➑ [السنن والاحکام لمقدسی:] «باب فی الدعآء فی الصلاۃ للمیت»
➒ [ریاض الصالحین:] «باب ما یقرأ فی صلاۃ الجنازۃ»
➓ [شرح الرسالۃ:] «باب فی الصلاۃ علی الجنآئز والدعآء للمیت»
⓫ [بحر المذھب:] «باب التکبیر علی الجنازۃ»
⓬ [المغنی لابن قدامۃ:] «مسألۃ، قال: ویکبر الثالثۃ ویدعو لنفسہ ولوالدیہ والمسلمین ویدعو للمیت»
⓭ [المجموع شرح المھذب:] «باب الصلاۃ علی المیت»
⓮ [الشرح الکبیر علی المقنع:] «ویدعو فی التکبیرۃ الثالثۃ لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا صلیتم علی المیت فاخلصوا لہ الدعآء»
⓯ [المفھم لما اشکل من کتاب مسلم:] «باب الامر بالصلاۃ علی المیت وکیفیۃ الصلاۃ علیہ وکم التکبیرات»
یہاں ہم نے صرف پہلی سات صدیوں کے پندرہ اکابر علماء کے الفاظ پیش کیے ہیں، جو اس حدیث مبارکہ سے تیسری تکبیر کے بعد دعا کرنے کا استدلال فرما رہے ہیں، کسی ایک نے بھی یہ والی بعد الجنازہ مروجہ دعا مراد نہیں لی۔
جو اصل مقام ہے وہاں میت کے لیے دعا خالص کی ہی نہیں جاتی بلکہ عمومی دعا پہ اکتفا کیا جاتا ہے اور یہی استدلال معروف بریلوی عالم احمد یار خان نعیمی صاحب کا بھی ہے۔
ب۔ ❀ «وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ آخِذٌ مَنْكِبِي فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ۔۔» [صحیح بخاری: 3685]
ج۔ ❀ «عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوْا اللَّهَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي قَدْ وَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى مَنْكِبِي يَقُولُ: رَحِمَكَ اللَّهُ» [صحیح بخاری: 3677]
ان دو احادیث مبارکہ کا مفہوم یوں ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سیدنا عمر رضی اللہ کا جنازہ چارپائی پہ رکھا ہوا تھا، لوگوں نے چارپائی اٹھنے سے قبل اسے گھیر رکھا تھا۔ لوگ آتے، دیکھتے اور دعائیہ اور تعریفی کلمات کہتے، اتنے میں علی رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے اور عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے ترحم کے جملے کہے۔۔۔“
یہ واقعہ جیسا کہ اس حدیث، دوسری احادیث اور شارحین کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں جنازہ پڑھنے سے قبل کا ہے، کہ لوگ جنازہ دیکھتے اور دعائیہ کلمات کہتے۔
اب جنازہ دیکھ کر انفرادی طور پہ دعا، ترحم کا کوئی جملہ کہنا بالکل فطری سی بات ہے، نماز جنازہ سے قبل ہو یا بعد، اس سے مروجہ اجتماعی ہیئت کی دعا کہاں کشید ہوتی ہے؟
«فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ» کے الفاظ کا یہی مفہوم ہے۔ کیا مولوی صاحب «يُصَلُّونَ» سے بار بار کا جنازہ پڑھنا مراد لیں گے؟
اس حدیث کا صحیح مفہوم دیکھیے:
➊ ◈ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقَبْرِ، فَجَاءَ عَلِيٌّ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيِ الصُّفُوفِ فَقَالَ.....» [مسند احمد: 866]
”سیدنا عمر رضی اللہ کا جنازہ منبر اور قبر مبارک کے درمیان رکھا ہوا تھا، علی رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے، صفوں کے سامنے کھڑے ہو کر یہ تعریفی دعائیہ کلمات کہے۔“
➋ ◈ سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
«كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ وَهُوَ مُسَجًّى ثَوْبِهِ، قَدْ قَضَى نَحْبَهُ، فَجَاءَ عَلِيٌّ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْكَ يا أَبَا حَفْصٍ۔۔۔» [مسند احمد: 867]
اوپر والی حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ کے قریب قریب مفہوم ہے۔
➌ ◈ علامہ بدر الدین عینی حنفی (م۔ 855ھ) فرماتے ہیں:
«وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ يَعْنِي لِأَجْلِ الْغَسْلِ» [عمدۃ القاری: 197/16]
➍ ◈ زین الدین زکریا الانصاری (م۔ 926ھ) فرماتے ہیں:
«وُضِعَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالٰی عَنْهُ عَلَى سَرِيرِهِ أَيْ لِأَجْلِ الْغَسْلِ» [منحۃ الباری: 34/7]
یعنی ”عمر رضی اللہ تعالٰی کی چارپائی غسل کے لیے رکھی ہوئی تھی علی رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے۔“
محدثین کرام نے اس سے میت کے چارپائی پہ رکھنے کا جواز اخذ کیا ہے، نہ کہ بعد الجنازہ مروجہ دعا کا۔
بہرکیف میت کی تدفین کے بعد قبر پہ اس کی ثابت قدمی کے لیے دعا ثابت ہے:
❀ «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ، وَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ، وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ» [سنن ابی داؤد: 3221]
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔
(دعا کی فضیلت میں وارد عمومی دلائل سے یہ مروجہ دعا کشید کرنے والے اعراض فرمائیں)۔
ڈاکٹر محمد جاوید
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
Sunan Abi Dawud Hadith 3199 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي