پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء في الحلف بالبراءة وبملة غير الإسلام
باب: اسلام سے براءت اور اسلام کے سوا کسی اور مذہب میں چلے جانے کی قسم کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3258
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا، فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قسم کھائے اور کہے میں اسلام سے بری ہوں (اگر میں نے فلاں کام کیا) اب اگر وہ جھوٹا ہے تو اس نے جیسا ہونے کو کہا ہے ویسا ہی ہو جائے گا، اور اگر سچا ہے تو بھی وہ اسلام میں سلامتی سے ہرگز واپس نہ آ سکے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3258]
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کھائی کہ میں اسلام سے بری ہوں، تو اگر وہ جھوٹا ہوا تو وہ وہی ہوا جو اس نے کہا اور اگر سچا بھی ہوا تو اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الأیمان 7 (3803)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 3 (2100)، (تحفة الأشراف: 1959)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/355، 356) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3421)
أخرجه النسائي (3803 وسنده حسن) وابن ماجه (2100 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3421)
أخرجه النسائي (3803 وسنده حسن) وابن ماجه (2100 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3803
| من قال إني بريء من الإسلام فإن كان كاذبا فهو كما قال وإن كان صادقا لم يعد إلى الإسلام سالما |
سنن أبي داود |
3258
| من حلف فقال إني بريء من الإسلام فإن كان كاذبا فهو كما قال وإن كان صادقا فلن يرجع إلى الإسلام سالما |
سنن ابن ماجه |
2100
| من قال إني بريء من الإسلام فإن كان كاذبا فهو كما قال وإن كان صادقا لم يعد إلى الإسلام سالما |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3258 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3258
فوائد ومسائل:
اسلام اللہ کادین اور بندوں کے لئے عظیم ترین نعمت ہے۔
چنانچہ سچے جھوٹے کسی طرح سے بھی اس کے بری ہونے کے الفاظ زبان پر لانا جائز اور حرام ہے۔
اگر کسی نے سچے ہوتے ہوئے اس طرح کہہ دیا تو بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوا۔
علامہ خطابی فرماتے ہیں۔
کہ ایسی قسم کا مالی کفارہ نہیں ہے۔
اس کا عتاب اس کے دین کا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
اسلام اللہ کادین اور بندوں کے لئے عظیم ترین نعمت ہے۔
چنانچہ سچے جھوٹے کسی طرح سے بھی اس کے بری ہونے کے الفاظ زبان پر لانا جائز اور حرام ہے۔
اگر کسی نے سچے ہوتے ہوئے اس طرح کہہ دیا تو بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوا۔
علامہ خطابی فرماتے ہیں۔
کہ ایسی قسم کا مالی کفارہ نہیں ہے۔
اس کا عتاب اس کے دین کا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3258]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3803
اسلام سے برأت اور لاتعلقی کی قسم کھانے کا بیان۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کہا: (اگر میں نے یہ کیا ہوا تو) میں اسلام سے بری اور لاتعلق ہوں، تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ سچا ہے تو بھی وہ اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3803]
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کہا: (اگر میں نے یہ کیا ہوا تو) میں اسلام سے بری اور لاتعلق ہوں، تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ سچا ہے تو بھی وہ اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3803]
اردو حاشہ:
”نہیں لوٹے گا۔“ یعنی وہ الفاظ کہنے کی بنا پر گناہ گار ہوگا اور اس کے ایمان میں کمی واقع ہوگی کیونکہ یہ انتہائی قبیح الفاظ ہیں۔ گویا اس نے اسلام کو معمولی چیز خیال کیا۔ سچا ہو تب بھی ایسے لاابلای پن کی کوئی گنجائش نہیں۔
”نہیں لوٹے گا۔“ یعنی وہ الفاظ کہنے کی بنا پر گناہ گار ہوگا اور اس کے ایمان میں کمی واقع ہوگی کیونکہ یہ انتہائی قبیح الفاظ ہیں۔ گویا اس نے اسلام کو معمولی چیز خیال کیا۔ سچا ہو تب بھی ایسے لاابلای پن کی کوئی گنجائش نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3803]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2100
اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب میں جانے کی قسم کھانے کا بیان۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کہے اگر ایسا کروں تو اسلام سے بری ہوں، اگر وہ جھوٹا ہے تو ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ اپنی بات میں سچا ہے تو بھی اسلام کی جانب صحیح سالم سے نہیں لوٹے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2100]
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کہے اگر ایسا کروں تو اسلام سے بری ہوں، اگر وہ جھوٹا ہے تو ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ اپنی بات میں سچا ہے تو بھی اسلام کی جانب صحیح سالم سے نہیں لوٹے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2100]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس طرح کی قسم کھانا سخت منع ہے۔
(2)
اس انداز کی بات میں اسلام کی بے قدری پائی جاتی ہے جبکہ سچے مسلمان کی نظر میں اسلام سے قیمتی کوئی چیز نہیں اس کے لیے وہ جان بھی قربان کر سکتا ہے۔
پھر جس کی نظر میں اسلام کی یہ قدر ہو کہ معمولی باتوں پر اسلام سے خارج ہونے کے الفاظ بولنے لگے اس شخص کا اسلام کس قدر ادنیٰ اور نکما ہوگا۔
(3)
علامہ خطابی فرماتے ہیں کہ ایسی قسم کا کفارہ نہیں ہے اس کا عتاب اس کے دین کا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اس طرح کی قسم کھانا سخت منع ہے۔
(2)
اس انداز کی بات میں اسلام کی بے قدری پائی جاتی ہے جبکہ سچے مسلمان کی نظر میں اسلام سے قیمتی کوئی چیز نہیں اس کے لیے وہ جان بھی قربان کر سکتا ہے۔
پھر جس کی نظر میں اسلام کی یہ قدر ہو کہ معمولی باتوں پر اسلام سے خارج ہونے کے الفاظ بولنے لگے اس شخص کا اسلام کس قدر ادنیٰ اور نکما ہوگا۔
(3)
علامہ خطابی فرماتے ہیں کہ ایسی قسم کا کفارہ نہیں ہے اس کا عتاب اس کے دین کا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2100]
Sunan Abi Dawud Hadith 3258 in Urdu
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي