🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب : الحلف بالبراءة من الإسلام
باب: اسلام سے برأت اور لاتعلقی کی قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3803
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا لَمْ يَعُدْ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کہا: (اگر میں نے یہ کیا ہوا تو) میں اسلام سے بری اور لاتعلق ہوں، تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ سچا ہے تو بھی وہ اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3803]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کہے: (اگر میں نے فلاں کام کیا ہو تو) میں اسلام سے لاتعلق ہوں، اگر وہ جھوٹا ہے تو پھر وہ واقعتاً اسلام سے لاتعلق ہے، اور اگر وہ سچا ہے تو پھر بھی وہ صحیح سالم اسلام کی طرف نہیں لوٹے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 9 (3258)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 3 (2100)، (تحفة الأشراف: 1959)، مسند احمد (5/355، 356) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ کہہ کر قسم کھانا کہ میں اسلام سے بری و بیزار ہوں اس کے گناہ گار ہونے کے لیے کافی ہے، اسے چاہیئے کہ توبہ و استغفار کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥الحسين بن واقد المروزي، أبو علي، أبو عبد الله
Newالحسين بن واقد المروزي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← الحسين بن واقد المروزي
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥الحسين بن حريث الخزاعي، أبو عمار
Newالحسين بن حريث الخزاعي ← الفضل بن موسى السيناني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3803
من قال إني بريء من الإسلام فإن كان كاذبا فهو كما قال وإن كان صادقا لم يعد إلى الإسلام سالما
سنن أبي داود
3258
من حلف فقال إني بريء من الإسلام فإن كان كاذبا فهو كما قال وإن كان صادقا فلن يرجع إلى الإسلام سالما
سنن ابن ماجه
2100
من قال إني بريء من الإسلام فإن كان كاذبا فهو كما قال وإن كان صادقا لم يعد إلى الإسلام سالما
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3803 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3803
اردو حاشہ:
نہیں لوٹے گا۔ یعنی وہ الفاظ کہنے کی بنا پر گناہ گار ہوگا اور اس کے ایمان میں کمی واقع ہوگی کیونکہ یہ انتہائی قبیح الفاظ ہیں۔ گویا اس نے اسلام کو معمولی چیز خیال کیا۔ سچا ہو تب بھی ایسے لاابلای پن کی کوئی گنجائش نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3803]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3258
اسلام سے براءت اور اسلام کے سوا کسی اور مذہب میں چلے جانے کی قسم کھانے کا بیان۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم کھائے اور کہے میں اسلام سے بری ہوں (اگر میں نے فلاں کام کیا) اب اگر وہ جھوٹا ہے تو اس نے جیسا ہونے کو کہا ہے ویسا ہی ہو جائے گا، اور اگر سچا ہے تو بھی وہ اسلام میں سلامتی سے ہرگز واپس نہ آ سکے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3258]
فوائد ومسائل:
اسلام اللہ کادین اور بندوں کے لئے عظیم ترین نعمت ہے۔
چنانچہ سچے جھوٹے کسی طرح سے بھی اس کے بری ہونے کے الفاظ زبان پر لانا جائز اور حرام ہے۔
اگر کسی نے سچے ہوتے ہوئے اس طرح کہہ دیا تو بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوا۔
علامہ خطابی فرماتے ہیں۔
کہ ایسی قسم کا مالی کفارہ نہیں ہے۔
اس کا عتاب اس کے دین کا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3258]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2100
اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب میں جانے کی قسم کھانے کا بیان۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کہے اگر ایسا کروں تو اسلام سے بری ہوں، اگر وہ جھوٹا ہے تو ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ اپنی بات میں سچا ہے تو بھی اسلام کی جانب صحیح سالم سے نہیں لوٹے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2100]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  اس طرح کی قسم کھانا سخت منع ہے۔

(2)
  اس انداز کی بات میں اسلام کی بے قدری پائی جاتی ہے جبکہ سچے مسلمان کی نظر میں اسلام سے قیمتی کوئی چیز نہیں اس کے لیے وہ جان بھی قربان کر سکتا ہے۔
پھر جس کی نظر میں اسلام کی یہ قدر ہو کہ معمولی باتوں پر اسلام سے خارج ہونے کے الفاظ بولنے لگے اس شخص کا اسلام کس قدر ادنیٰ اور نکما ہوگا۔

(3)
  علامہ خطابی  فرماتے ہیں کہ ایسی قسم کا کفارہ نہیں ہے اس کا عتاب اس کے دین کا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2100]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3803 in Urdu