پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
124. باب التيمم
باب: تیمم کا بیان۔
حدیث نمبر: 328
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ عَنْ التَّيَمُّمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ".
موسیٰ بن اسماعیل کہتے ہیں: ہم سے ابان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے ایک محدث نے بیان کیا ہے، اس نے شعبی سے شعبی نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے ابزی نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہنیوں تک (مسح کرے)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 328]
جناب ابان کہتے ہیں کہ قتادہ سے سفر میں تیمم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”مجھ سے ایک بیان کرنے والے نے شعبی سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے، انہوں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہنیوں تک۔“” [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10362) (منکر)» (اس کی سند میں محدث ایک مبہم راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
المحدث: لم أعرفه
وللحديث طرق أخري ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26
ضعيف
المحدث: لم أعرفه
وللحديث طرق أخري ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
328
| إلى المرفقين |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 328 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 328
328۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت ضعیف ہے۔ شیخ البانی نے بھی صراحت کی ہے کہ ”کہنیوں تک“ کے الفاظ منکر یعنی صحیح روایات کے خلاف ہیں۔ بہرحال مذکورہ تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ تمیّم کے بارے میں جو صحیح ترین روایت ہے، اس میں تمیم کا طریقہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ زمین پر صرف ایک ہی مرتبہ ہاتھ مارنے ہیں، پھر ان پر پھونک مار کر اور انہیں مل کر منہ پر پھیر لینا ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے۔ شیخ البانی نے بھی صراحت کی ہے کہ ”کہنیوں تک“ کے الفاظ منکر یعنی صحیح روایات کے خلاف ہیں۔ بہرحال مذکورہ تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ تمیّم کے بارے میں جو صحیح ترین روایت ہے، اس میں تمیم کا طریقہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ زمین پر صرف ایک ہی مرتبہ ہاتھ مارنے ہیں، پھر ان پر پھونک مار کر اور انہیں مل کر منہ پر پھیر لینا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 328]
Sunan Abi Dawud Hadith 328 in Urdu
عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي ← عمار بن ياسر العنسي